Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعہ, جولائی 17, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • پاکستان میں پہلی بار رورو شپمنٹ کے ذریعے 2 ہزار سے زائد الیکٹرک گاڑیاں کراچی پورٹ درآمد
    • بنوں اور ملحقہ علاقوں میں کامیاب کارروائیاں: صدرِ مملکت اور وزیراعظم کا سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خراجِ تحسین
    • امریکہ ایران کشیدگی، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
    • انگلینڈ نے بھارت کو شکست دے کر ون ڈے سیریز ایک، ایک سے برابر کر دی
    • پی ڈی ایم اے کا خیبرپختونخوا میں 19 سے 23 جولائی تک شدید بارشوں کا الرٹ
    • بنوں اور اطراف میں فورسز کی کارروائیاں، بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج کے 24 دہشتگرد ہلاک
    • ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں: نیشنل کوآرڈینیشن اینڈ مینجمنٹ کونسل
    • کے پی میں بھی دہشتگردوں کیخلاف بلوچستان کی نوعیت کے آپریشن کی ضرورت ہے: گورنر فیصل کریم
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » دہشت گردی کی ناکامی اور بدلتی ہوئی حکمت عملی
    بلاگ

    دہشت گردی کی ناکامی اور بدلتی ہوئی حکمت عملی

    اپریل 3, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    دہشت گردی کی ناکامی اور بدلتی ہوئی حکمت عملی
    Share
    Facebook Twitter Email

    ہر تنازع میں ایک ایسا نمونہ ہوتا ہے جو شاذ و نادر ہی سرخیوں میں جگہ پاتا ہے، مگر طاقت کی اصل حقیقت کو بے نقاب کر دیتا ہے۔ جب دشمن سپاہیوں کا سامنا کرنا چھوڑ کر شہریوں کو نشانہ بنانا شروع کر دے تو یہ جنگ میں شدت نہیں بلکہ شکست کا اعتراف ہوتا ہے۔

    بنوں کے ڈومیل تھانے پر ناکام حملہ محض دہشت گردی کا ایک اور واقعہ نہیں۔ یہ ایک ایسا لمحہ ہے جو خوف، کمزوری اور بکھرتی ہوئی حکمت عملی کو عیاں کرتا ہے۔ ہدف واضح تھا: ریاستی اختیار کی علامت، ایک ایسا پولیس اسٹیشن جو نظم، کنٹرول اور استقامت کی نمائندگی کرتا ہے۔ مگر نتیجہ ایک مختلف کہانی بیان کرتا ہے۔ حملہ آور اندر داخل نہ ہو سکے۔ وہ دفاعی حصار توڑنے میں ناکام رہے۔ اس کے بجائے انہوں نے رخ موڑ کر نہتے اور بے دفاع شہریوں کو نشانہ بنایا، جن میں خواتین اور ایک بچہ بھی شامل تھا۔

    یہ جنگ نہیں۔ یہ اعتراف ہے۔

    برسوں سے یہ عناصر خود کو نظریاتی لبادے میں چھپاتے آئے ہیں، مسخ شدہ بیانیوں کے پیچھے پناہ لیتے ہوئے۔ مگر بنوں جیسے حملے اس فریب کو چاک کر دیتے ہیں۔ کوئی نظریہ، کوئی نعرہ، کوئی گھڑا ہوا جواز اس بات کو درست ثابت نہیں کر سکتا کہ ایک تھانے کے باہر کھڑی خواتین یا ایک معصوم بچے کو نشانہ بنایا جائے۔ یہ نظریہ نہیں۔ یہ زوال ہے۔

    جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں وہ عسکریت پسندی کا مایوسی میں بدلنا ہے۔ جب منظم دہشت گرد نیٹ ورکس مضبوط اہداف کے خلاف اپنی صلاحیت کھو دیتے ہیں تو وہ اسی ایک راستے پر چلتے ہیں جو ان کے پاس بچتا ہے۔ وہ معیار گرا دیتے ہیں۔ وہ مقابلے سے خوف پھیلانے کی طرف آ جاتے ہیں۔ حکمت عملی سے تماشہ سازی کی طرف، اور جنگ سے محض درندگی کی طرف۔

    حقیقت سادہ ہے مگر پاکستان کے دشمنوں کے لیے تکلیف دہ۔ ریاست کو توڑنا اب پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہو چکا ہے۔ انٹیلیجنس نظام بہتر ہو چکا ہے۔ ردعمل کی رفتار تیز ہو چکی ہے۔ اداروں کے درمیان ہم آہنگی مضبوط ہو چکی ہے۔ نیشنل ایکشن پلان اب صرف ایک دستاویز نہیں رہا بلکہ ایک فعال فریم ورک بن چکا ہے جو ان عناصر کے لیے جگہ کو مسلسل محدود کر رہا ہے۔

    اور جب یہ جگہ سکڑتی ہے تو ان کی اہمیت بھی کم ہوتی جاتی ہے۔

    اسی لیے شہریوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس لیے نہیں کہ وہ حکمت عملی کے لحاظ سے اہم ہیں بلکہ اس لیے کہ وہ آسان ہدف ہیں۔ اس لیے نہیں کہ اس سے فوجی کامیابی حاصل ہوتی ہے بلکہ اس لیے کہ وقتی نفسیاتی اثر پیدا کیا جا سکے۔ یہ حملے زمین جیتنے کے لیے نہیں بلکہ سرخیوں اور خوف کے لیے کیے جاتے ہیں، تاکہ اطلاعاتی جنگ میں انہیں بطور ہتھیار استعمال کیا جا سکے۔

    ایک اور پہلو بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے حملے تنہا نہیں ہوتے۔ انہیں سرحدوں کے پار موجود مخالف بیانیے ہوا دیتے ہیں، جواز فراہم کرتے ہیں یا خاموشی سے سراہتے ہیں۔ مقصد صرف جانوں کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ عدم استحکام کا تاثر پیدا کرنا، ریاستی رٹ پر سوال اٹھانا اور عدم تحفظ کی فضا قائم کرنا ہوتا ہے۔ یہ ہائبرڈ وارفیئر کی ایک شکل ہے جہاں ایک ناکام حملہ آور بھی ایک بڑے ایجنڈے کا حصہ بن جاتا ہے۔

    مگر بنوں ایک مختلف کہانی سناتا ہے، وہ کہانی جو دشمن سنانا نہیں چاہتے۔

    یہ ایک ناکام دراندازی کی کہانی ہے۔ ایک محفوظ تنصیب کی کہانی۔ ایک ایسے ردعمل کی کہانی جو پہلے سے متحرک تھا۔ ایک ایسی ریاست کی کہانی جو ضرب سہہ کر بھی نہ جھکی۔ اصل سرخی دھماکہ نہیں بلکہ یہ حقیقت ہے کہ اصل ہدف محفوظ رہا۔

    یہ فرق اہم ہے۔

    کیونکہ جنگوں کا اندازہ الگ تھلگ واقعات سے نہیں بلکہ مسلسل نتائج سے لگایا جاتا ہے۔ اور یہاں نتیجہ واضح ہے۔ دہشت گرد نیٹ ورکس اب شرائط طے نہیں کر رہے بلکہ ردعمل دے رہے ہیں۔ وہ آگے نہیں بڑھ رہے بلکہ محض خود کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    ان کی تشدد کی شدت بڑھی ہے، مگر ان کی رسائی کم ہو گئی ہے۔

    ان کے حملے زیادہ بے رحم ہو گئے ہیں، مگر ان کی حقیقت بھی زیادہ واضح ہو گئی ہے۔

    ہر وہ شہری جو نشانہ بنتا ہے، ان کی طاقت نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ وہاں حملہ کرنے میں ناکام رہے جہاں اصل اہمیت تھی۔ ہر محفوظ مقام کے باہر ہونے والا دھماکہ اس بات کی دلیل ہے کہ اندرونی دفاع مضبوط ہیں۔ ہر معصوم جان کا ضیاع ایک سانحہ ضرور ہے، مگر اس بات کی گواہی بھی ہے کہ دشمن اپنے اصل ہدف کو حاصل نہ کر سکا۔

    یہ وہ تضاد ہے جس سے پاکستان کے دشمن بچ نہیں سکتے۔ جتنا وہ عسکری طور پر ناکام ہوتے ہیں، اتنا ہی اخلاقی طور پر بے نقاب ہوتے جاتے ہیں۔ اور اسی بے نقابی میں ان کا انجام پوشیدہ ہے۔

    کیونکہ کوئی بھی تحریک جو میدان جنگ میں ناکامی کو چھپانے کے لیے بچوں کو نشانہ بنائے، زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی۔ کوئی بھی نیٹ ورک جو حکمت عملی کی جگہ وحشت کو اپنائے، جائز حیثیت کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ اور کوئی بھی دشمن جو سپاہیوں کا سامنا کرنے سے گھبرائے، اس ریاست کے خلاف جنگ نہیں جیت سکتا جو مسلسل کھڑی ہے، جواب دے رہی ہے اور قائم ہے۔

    جنگ وہاں نہیں ہوتی جہاں دھماکہ ہوتا ہے۔

    جنگ اس میں ہوتی ہے کہ دھماکہ کیا حاصل کرنے میں ناکام رہا۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleپٹرول 458 اور ڈیزل 520 روپے فی لیٹر کرنے کا اعلان
    Next Article بنوں: تھانہ ڈومیل پر دہشت گردوں کا خودکش حملہ ناکام، 5 شہری شہید،پولیس اہلکاروں سمیت 19 افراد زخمی
    Saifullah
    • Website

    Related Posts

    آخر کب تک؟ معصوم بچوں کے خلاف جنسی جرائم، معاشرتی زوال اور ہماری اجتماعی ذمہ داری. تحریر: نازپروین

    جولائی 1, 2026

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر، تحریر: قریش خٹک

    مئی 13, 2026

    ہم نے ایک آفتاب کھو دیا!

    مئی 6, 2026

    Comments are closed.

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    پاکستان میں پہلی بار رورو شپمنٹ کے ذریعے 2 ہزار سے زائد الیکٹرک گاڑیاں کراچی پورٹ درآمد

    جولائی 17, 2026

    بنوں اور ملحقہ علاقوں میں کامیاب کارروائیاں: صدرِ مملکت اور وزیراعظم کا سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خراجِ تحسین

    جولائی 17, 2026

    امریکہ ایران کشیدگی، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ

    جولائی 17, 2026

    انگلینڈ نے بھارت کو شکست دے کر ون ڈے سیریز ایک، ایک سے برابر کر دی

    جولائی 17, 2026

    پی ڈی ایم اے کا خیبرپختونخوا میں 19 سے 23 جولائی تک شدید بارشوں کا الرٹ

    جولائی 17, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.