اسلام آباد سے لیاقت علی خٹک کی خصوصی تحریر: ۔
کچھ واقعات صرف ایک فرد کے ساتھ پیش نہیں آتے بلکہ وہ پورے نظام کا چہرہ بے نقاب کر دیتے ہیں۔ چند دن پہلے میرے ساتھ پیش آنے والا واقعہ بھی ایسا ہی تھا، جس نے مجھے نہ صرف اندر سے ہلا کر رکھ دیا بلکہ ایک شہری کے طور پر میرے ذہن میں کئی تلخ سوالات چھوڑ دیئے ۔
دوپہر تقریباً دو بجے کا وقت تھا، میں دفتر جانے کی تیاری کر رہا تھا کہ اچانک اطلاع ملی کہ آپ کے چھوٹے بیٹے کو پولیس نے پکڑ لیا ہے اور گھسیٹ کر گاڑی میں ڈال دیا ہے، یہ سنتے ہی میرے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ میں بدحواس ہو کر گھر سے باہر نکلا اور پولیس وین کے پاس پہنچا۔ میرا معصوم بچہ پچھلی سیٹ پر بیٹھا رو رہا تھا، خوف سے اس کا برا حال تھا۔ جیسے ہی اس کی نظر مجھ پر پڑی، اسے کچھ تسلی ملی، جیسے کسی ڈوبتے کو تنکے کا سہارا مل گیا ہو ۔
میں نے ایس ایچ او صاحب سے پوچھا کہ چھوٹے بچے کو کس جرم میں پکڑا ہے؟ ایس ایچ او نے کہا اس کے ہاتھ میں پتنگ تھی، وہ بھی پلاسٹک کی، ایس ایچ او نے بچے کو تو رہا کردیا لیکن مجھے گاڑی میں بٹھادیا، میں نے بار بار درخواست کی کہ کم از کم شناختی کارڈ، موبائل فون اور ضروری سامان اٹھانے کی اجازت دے دی جائے، مگر کسی بات پر توجہ نہ دی گئی اور مجھے سیدھا تھانے لے جایا گیا ۔
تقریباً پندرہ منٹ بعد ہم تھانے پہنچے۔ مجھے اے ایس آئی کے دفتر میں لے جا کر بٹھایا گیا جہاں پہلے ہی کئی افراد حراست میں موجود تھے۔ ایس ایچ او نے اے ایس آئی سے کہا کہ ایک پتنگ باز کو گرفتار کر لے آیا ہوں، اس کو چھوڑنا نہیں، اس کے خلاف فوری پرچہ دے دیں۔ میں نے ایس ایچ او سے عرض کیا کہ آپ نے میرے چھوٹے بیٹے کو گرفتار کیا، وہ ڈرا ہوا ہے، رو رو کے اس کا برا حال ہے، مہربانی کرکے مجھے چھوڑ دیں اور گھر جانے دیں، لیکن ایس ایچ او نے کہا کہ آپ کو نہیں چھوڑ سکتا اور باہر چلا گیا۔ اے ایس آئی نے مجھے اپنے دفتر میں تقریبا ڈیڑھ گھنٹہ بٹھائے رکھا، اس کے بعد ساڑھے 4 بجے ایک پولیس اہلکار اے ایس آئی کے دفتر آیا اور کہا آجاؤ، پولیس اہلکار مجھے اور 3 اور لوگوں کو ساتھ لیکرتھانے کے بیسٹمنٹ میں لے جا کر وہاں حوالات میں بند کر دیا ۔
حوالات میں پہلے ہی 8 بندے بند تھے، جیسے ہی میں حوالات میں داخل ہوا، تو سب لوگ مجھے حیرانگی سے دیکھنے لگے اور مجھ سے پوچھنے لگے کہ آپ کو کس جرم میں گرفتار کرکے لے آیا ہے؟ میں بھی نیچے ٹھنڈی فرش پران کے ساتھ بیٹھ گیا اور پولیس اہلکارحوالات کا دروازہ بند کرکے واپس چلا گیا ۔
جو بندے گرفتار کیے گئے تھے ان میں ایک مسیحی لڑکا تھا جو شراب نوشی میں پکڑا گیا تھا، دو لڑکے گیس سلنڈر بھروانے آئے تھے دکان پر، ان کو بھی حراست میں لیا گیا تھا۔ دو لڑکے سبزی فروش تھے ان کو پلاسٹک بیگ بیچنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا، 3 بندے ہوٹل کے تھے، انہوں نے پولیس کو کھانا مفت میں نہیں دیا تھا، اس لئے ان کو تھانے میں بند کیا گیا تھا۔ ایک اور شخص کو منشیات کے کیس میں گرفتار کیا گیا تھا۔ کچھ دیر بعد ایک بزرگ کو پکڑ کر لے آئے، وہ سکول میں چوکیدار تھا، روٹی لینے تندور گیا تھا لیکن واپسی پر پولیس نے بھیک مانگے کے کیس میں پکڑ لیا۔ ایک اور 14 سالہ لڑکا بھی حوالات میں بند تھا، اس نے دو دن سے روٹی نہیں کھائی تھی، پھر وہاں پر موجود ایک لڑکے کے لیے گھر سے روٹی آئی اس نے خود نہیں کھائی اسی لڑکے کو دی، اس 14 سالہ لڑکے سے پوچھا کہ آپ کو کس جرم میں گرفتار کیا گیا ہے؟ لڑکے نے کہا میں پشاور کا رہائشی ہوں، ڈی چوک میں پھول بیچ رہا تھا، پولیس والے آئے اور گاڑی میں بٹھا کر تھانے لے آئے ۔
حوالات کی حالت ایسی تھی کہ بیان کرنا مشکل ہے۔ نہ مناسب روشنی، نہ صاف بیت الخلا، شدید بدبو، بیت الخلا کا نہ دروازہ تھا اور نہ اس میں لائٹ تھی، یخ ٹھنڈی فرش اور پرانے بدبودار بستر۔ سردی اس قدر تھی کہ جسم شل ہو کر رہ جاتا۔ یہ سب کچھ انسانی وقار اور بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزی تھی ۔
حوالات میں 2 بسترے بھی تھے جو پہلے گرفتار افراد چھوڑ گئے تھے، کچھ حوالاتی ان بستروں میں گھس گئے تھے۔ مجھے بھی کہنے لگے کہ سردی بہت ہے آپ بھی بستر میں آجاؤ، لیکن مجھے اس بستر سے بد بو آرہی تھی، میں نے کہا کہ مجھے ابھی سردی نہیں لگ رہی۔ لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، رات ہونے لگی اور مجھے بھی سردی نے اپنی لپیٹ میں لے لیااور میں بھی مجبوراَ َ اس بستر میں گھس گیا ۔
اسی دوران ایک پولیس اہلکار بار بار حوالات کے دروازے کے پاس آتا اور کچھ قیدیوں کو دروازے کے پاس بلا کر ان کے کان میں سرگوشی کرتا اور واپس چلا جاتا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ رہائی کی قیمت طے ہو رہی تھی۔ بتایا گیا کہ ایس ایچ او تیس ہزار روپے مانگ رہا ہے۔ لیکن میں نے 20 ہزار پر راضی کیا ہے، جو 20 ہزار دے گا وہ رہا ہو جائے گا، جو نہیں دے گا اس کے خلاف پرچہ دیں گے ۔
اس کے بعد جو جو قیدی پیسے دے رہے تھے، ان کو چھوڑ دیتے تھے۔ اس دوران 7 سے 10 تک لوگوں سے پیسے لے کر ان کو چھوڑ دیا۔ جس نے پیسے نہیں دیے ان کے خلاف پرچہ دے دیا۔ لیکن میری خوش قسمتی سمجھیں چونکہ میں صحافی تھا اور میرے صحافی دوستو کو جب پتہ چلا تو وہ فورا تھانے پہنچے اور مجھے رہا کروایا۔ جن لوگوں کو گرفتار کرکے تھانے لے آتے تھے، وہ حکومت کو بد دعائیں اور گالیاں دیتے تھے، چونکہ پولیس اہلکار ان کو کہتا تھا کہ یہ حکومت کا حکم ہے، ہم نے آپ لوگوں کو گرفتار نہیں کیا، آپ لوگوں نے اس حکومت کو ووٹ دیا تھا، اب بھگتو، اب بتائیں پی ٹی آئی کے حکومت اچھی تھی یا یہ حکومت اچھی ہے؟
یہاں یہ سوال شدت سے ابھرتا ہے کہ کیا تھانے واقعی عوام کے تحفظ کے مراکز ہیں یا کمزور طبقے کے لیے خوف کی علامت بن چکے ہیں؟ اسلام آباد کے تھانوں کی تزئین و آرائش جاری ہے۔ عمارتیں خوبصورت بنائی جا رہی ہیں، فوارے لگائے جا رہے ہیں، مگر اندر کا نظام وہی پرانا، وہی بے حسی، وہی اختیارات کا غلط استعمال اور وہی کالی بھیڑیں آج بھی موجود ہیں ۔
یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ انصاف فواروں، شیشوں اور سنگِ مرمر سے نہیں ملتا۔ انصاف ایک منصفانہ، شفاف اور جواب دہ نظام سے ملتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تھانوں میں ایک آزاد اور خودمختار نگرانی کا مؤثر نظام قائم کیا جائے جو ہر گرفتاری کا جائزہ لے اور یہ یقینی بنائے کہ کسی شہری کو بلا جواز حراست میں نہ رکھا جائے۔ اگر کوئی پولیس اہلکار اپنے اختیارات سے تجاوز کرے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق بلا امتیاز کارروائی ہونی چاہیے ۔
جب تک تھانوں میں جواب دہی، خوفِ خدا اور قانون کی بالادستی قائم نہیں ہوتی، ہر شہری ممکنہ ملزم اور ہر باپ اپنے بچے کے مستقبل کے بارے میں فکرمند رہے گا۔ یہ محض میری کہانی نہیں، یہ اس معاشرے کی کہانی ہے جہاں قانون کمزور اور طاقتور بے لگام ہو چکے ہیں ۔

