وزیراعظم شہبازشریف نے ملک بھر میں بارشوں و سیلاب متاثرین کی مالی معاونت کی ہدایات جاری کرتے ہوئے امدادی کارروائیاں تیز کرنے کا حکم دے دیا، متعلقہ حکام نے پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں انفراسٹرکچر کی بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے، شمالی علاقوں میں ارلی وارننگ سسٹم فعال ہیں، جن کی بدولت سیلاب سے قبل متعدد شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ۔
اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں حالیہ مون سون بارشوں اور ان سے ہونے والے نقصانات کے حوالے سے اہم اجلاس ہوا، جس میں انہوں نے متاثرہ خاندانوں کی مالی معاونت کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ جاں بحق تمام افراد کے خاندانوں کی مالی معاونت کی جائے ۔
اجلاس میں وفاقی وزرا احسن اقبال، احد چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، معین وٹو، ڈاکٹر مصدق مسعود ملک اور سردار اویس لغاری نے شرکت کی، علاوہ ازیں، چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹریز اور چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے بھی اجلاس میں شرکت کی ۔
انہوں نے ہدایت کی کہ سیلاب اور بارشوں میں مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہونے والے گھروں کے مالکان کی بھی مالی معاونت کی جائے، وزیراعظم نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بجلی کی ترسیل کے نظام اور سڑکوں کی بحالی جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی ۔
انہوں نے متعلقہ وفاقی وزرا اور سیکریٹریز کو متاثرہ علاقوں میں جاکر بارشوں سے ہونے والے نقصان کا خود جائزہ لینے اور بحالی کا کام شروع کروانے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں مزید تیز کرنے کی ہدایت بھی کی ۔
شہباز شریف نے کہا کہ جن متاثرہ علاقوں میں رسائی نہ ہونے کے باعث امداد نہیں پہنچ سکی، وہاں اشیائے خور و نوش اور دیگر امدادی سامان جلد از جلد پہنچایا جائے۔ وزیراعظم نے آئندہ بارشوں اور سیلاب کے پیش نظر این ڈی ایم اے اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیوں کو امدادی کارروائیوں کے لیے مکمل تیار رہنے کی ہدایت کی ۔
اجلاس میں وزیراعظم کو مون سون 2026 کے اثرات اور صوبوں اور این ڈی ایم اے کی جانب سے امدادی کارروائیوں میں پیشرفت پر بریفنگ دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ ملک کے تمام متاثرہ علاقوں میں سیلاب متاثرین کی محفوظ مقامات پر بروقت منتقلی کی جاچکی ہے ۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ مزید بارشوں اور سیلاب کے پیش نظر این ڈی ایم اے اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیوں کی ٹیمیں عوام کی مدد کے لیے تیار ہیں۔ ملک بھر میں مون سون بارشوں سے متاثرہ علاقوں میں اب تک مجموعی طور پر 615 ٹن امدادی سامان بھیجا جاچکا ہے اور متاثرہ علاقوں میں مزید امدادی سامان بھیجنے کے حوالے سے بھی اقدامات کیے جارہے ہیں ۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں انفراسٹرکچر کی بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے، شمالی علاقوں میں ارلی وارننگ سسٹم فعال ہیں، جن کی بدولت سیلاب سے قبل متعدد شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ۔

