وطن عزیز میں ضابطہ جاتی اصلاحات کو طویل عرصے سے بیرونی دباؤ خصوصاً یورپی مطالبات کے تناظر میں دیکھا جاتا رہا ہے, جب یورپی سرمایہ کار پیش گوئی، ٹیکس نظام یا قوانین کے نفاذ پر سوال اٹھاتے ہیں تو اسے قومی خودمختاری کے خلاف مداخلت قرار دے دیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے، ضابطہ جاتی اصلاحات کسی کے سامنے جھکنے کا عمل نہیں بلکہ ریاستی اختیار کو مضبوط بنانے کا ذریعہ ہیں ۔
یورپی یونین پاکستان بزنس فورم 2026 اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ یورپی سرمایہ کاری کی راہ میں اصل رکاوٹ دلچسپی کی کمی نہیں بلکہ پالیسیوں کا عدم تسلسل ہے، قوانین موجود ہیں مگر ان کا اطلاق یکساں نہیں، پالیسیاں اعلان کے بعد تبدیل ہو جاتی ہیں، مراعات دی جاتی ہیں اور پھر خاموشی سے واپس لے لی جاتی ہیں، یہ مسائل کسی بیرونی طاقت کی پیداوار نہیں بلکہ ہمارے اپنے نظامِ حکمرانی کی کمزوریاں ہیں اور جب تک یہ کمزوریاں دور نہیں ہونگی ملک کی معاشی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا ۔
ایک مستحکم اور قابلِ پیش گوئی ضابطہ جاتی نظام ریاست کو کمزور نہیں بلکہ مضبوط بناتا ہے، جب قوانین مستقل ہوں تو سرمایہ کار طویل المدتی منصوبہ بندی کرتے ہیں، صنعتیں فروغ پاتی ہیں اور ٹیکس وصولی دباؤ کے بجائے نظام کے تحت ہوتی ہے، جس سے ریاستی عملداری متاثر ہوتی ہے ۔
اکثر اصلاحات کی مخالفت اس بنیاد پر کی جاتی ہے کہ وہ سٹریٹجک خودمختاری کے خلاف ہیں، مضبوط ریاستیں شخصی فیصلوں کے بجائے اداروں اور مستقل پالیسیوں کے ذریعے اپنا اختیار قائم رکھتی ہیں ۔
یورپی یونین کی جانب سے ضابطہ جاتی وضاحت کا مطالبہ کسی شرط کے مترادف نہیں بلکہ ایک جانچ کا پیمانہ ہے، یورپی سرمایہ کار یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا پاکستان اپنی پالیسیوں اور وعدوں پر قائم رہ سکتا ہے، اگر ریاست تسلسل کی ضمانت نہیں دے سکتی تو معاشی خودمختاری کا دعویٰ بھی کمزور پڑ جاتا ہے ۔
پاکستان کو اگر قیاس آرائی کے بجائے دیرپا سرمایہ کاری درکار ہے تو اصلاحات کو بیرونی دباؤ نہیں بلکہ قومی ضرورت کے طور پر اپنانا ہوگا، یہی ریاستی وقار اور خودمختاری کی اصل بنیاد ہے ۔

