Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    پیر, ستمبر 7, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • پاسکو اور یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کی بندش کے عمل میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرصدارت اجلاس
    • شزہ فاطمہ خواجہ کی LEAP 2026 میں شرکت، ٹیک ڈیسٹنیشن پاکستان پویلین کا افتتاح
    • پاک چین میڈیا تعاون ایشیا بحرالکاہل میں مشترکہ خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے،ڈاکٹر شذرہ منصب علی
    • سٹاک ایکسچینج: عام شہریوں کی شرکت سے معاشی ترقی تیز ہو سکتی ہے، یوسف رضا گیلانی
    • ویمنز ایشیا کپ: آئی سی سی نے قومی ٹیم کی کپتان فاطمہ ثناء پرجرمانہ عائد کردیا
    • خیبر پختونخوا میں عدالتوں کے ایک دن کے بائیکاٹ سےعوام کے 12 کروڑ روپے ضائع ہوتے ہیں، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ
    • بھارت کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے حصول کیلئے اپنے وعدے پورے کرے، پاکستان
    • مادرِ وطن کا دفاع مقدس امانت ہے، ثابت قدمی سے نبھاتے رہیں گے: ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » شنگھائی تعاون تنظیم اور چیلنجز
    اہم خبریں اکتوبر 14, 2024

    شنگھائی تعاون تنظیم اور چیلنجز

    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد (مدثر حسین) روس امریکہ اور امریکہ چین محاز آرائی اور مفادات کے ٹکراو سے پیدا شدہ کشیدہ صورتحال میں اسلام آباد میں شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس پوری دنیا میں انتہائی اہمیت کے ساتھ مانیٹر کیا جا رہا ہے۔ دو روزہ اجلاس میں تنظیم کے رکن ممالک سے ائے ہوئے درجنوں وفود شرکت کر رہے ہیں، یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرقی وسطیٰ میں جاری جنگ اور یوکرائن میں لڑائی کی وجہ سے پوری دنیا کا امن داو پر لگا ہوا ہے۔ معمولی سے معمولی غلط فہمی پورے علاقے کو محاز جنگ بنا سکتی ہیں،آجکل کے دور میں جنگ کسی مخصوص علاقے تک محدود نہیں رہتی بلکہ اسکے اثرات براعظموں تک میں محسوس کیے جاتے ہیں، یوکرائن جنگ کی وجہ سے جہاں روس مغرب میں زیر عتاب ہے، وہاں ایس سی او کا رکن ملک ایران غزہ اور لبنان میں جاری اسرائیلی جنگی جرائم کی وجہ سے خطے میں تنہائی کا شکار ہے۔ اسی طرح پاک بھارت سرد مہری اور کشیدہ سفارتی تعلقات کے اس دور میں بھارتی وفد کا اسلام آباد آنا کوئی معمولی بات نہیں، چین بھی مغرب کے ساتھ محاز آرائی کی کیفیت سے گزر رہا ہیں۔ افغانستان میں طالبان رجیم کے بعد کی صورتحال بھی خاصی تشویشناک ہے، اس تمام تر عالمی منظر نامے میں شنگائی تعاون تنظیم کے لیڈران کی اسلام آباد میں بیٹھک، علاقائی تعاون کی بازگشت اور سیکورٹی چیلجنز پر کھل کر گفتگو خطے میں مثبت تبدیلیوں کی موجب بن سکتی ہے۔

    شنگائی تعاون تنظیم آبادی کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی آرگنائزیشن ہے، کیونکہ چین، بھارت اور پاکستان کی کل آبادی عالمی آبادی کا ایک تہائی سے زیادہ ہیں، اسی طرح عالمی جی ڈی پی کا 40 فیصد ایس سی او ممالک پر مشتمل ہیں، جو تقریبا 23 ٹریلین ڈالر بنتے ہیں، چین، روس اور قزاقستان نادر معدنیات کے سب سے بڑے پیداواری ممالک ہیں، زرعی پیداور خصوصا گندم، چاول، کپاس میں بھی پاکستان، بھارت، روس اور چین دنیا کے بڑے پیداواری ممالک ہیں، یہ چاروں ممالک ایٹمی طاقت سےبھی لیس ہیں جو علاقائی اور عالمی سلامتی میں اہم کردار رکھتے ہیں، تاہم ان تمام تر قابل رشک شماریات کے باوجود ایس سی او ابھی تک ناٹو یا یورپی یونین جیسی تنظیم نہیں بن پائی، حالانکہ اس تنظیم میں دنیا کو متبادل نیو ورلڈ ارڈر دینے کی پوری صلاحیت ہے۔

    مغربی دنیا میں اس تنظیم کو ٹیبل ٹاک کی حد تک اتحاد سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ بدلتے عالمی منظر نامے میں ایس سی او ممالک نے تاحال بطور ایک مضبوط اتحاد کے کوئی کردار ادا نہیں کیا، نہ ہی رکن ممالک نے اہم علاقائی ایشوز پر یکتا ہو کر کوئی مضبوط موقف اپنایا ہے، چاہے وہ یوکرائن جنگ ہو، یا افغانستان میں جمہوریت کا سقوط ، آرمینیا آزربائیجان جنگ ہو، یا ایران اور اسرائیل کے بیچ جاری کشیدگی، ایس سی او نے ان تمام علاقائی چیلنجز پر یورپی یونین یا ناٹو جیسا کوئی موقف نہیں دیا، پاک بھارت کشیدگی اور خطے میں مفادات کا ٹکراو ایس سی او ممالک کو ایک مضبوط اتحاد میں پرونے میں روکاٹ بن رہی ہیں، بھارت ایک طرف ایس سی او کا رکن ہے تو دوسری طرف امریکہ کی سربراہی میں انڈو پیسفک اتحاد کواڈ میں بھی شامل ہے، ایران کریمیا کو روس کا حصہ نہیں مانتا، دوسری طرف روس خلیج فارس کے چھوٹے جزائر پر ایرانی ملکیت کے دعوے کی حمایت نہیں کرتا، پاکستان اور بھارت کی دشمنی، چین بھارت سرحدی تنازعات ، اسلام اباد کی خراب اقتصادی صورتحال اور افغانستان میں دہشتگردی کے اڈے خطے میں استحکام کے خواب کو حقیقت میں بدلنے سے روک رہے ہیں۔

    چلیجنز یقینناً کافی گہرے اور حساس نوعیت کے ہیں، تاہم خطے میں معاشی ترقی اور استحکام کے زریعے اربوں لوگوں کی زندگیوں میں بہتری وہ موٹیویشن ہے جو ایس سی او ممالک کو اختلافات بھلا کر اگے بڑھنے اور مغربی عزائم کو ناکام بنا کر ایک دوسرے سے متعلق بدگمانیاں ختم کرنے پر امادہ کرسکتی ہیں۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleجناب والا، اتنی حساسیت کیوں ؟؟؟
    Next Article چینی وزیراعظم لی کیانگ تین روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے
    Web Desk

    Related Posts

    پاسکو اور یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کی بندش کے عمل میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرصدارت اجلاس

    ستمبر 7, 2026

    شزہ فاطمہ خواجہ کی LEAP 2026 میں شرکت، ٹیک ڈیسٹنیشن پاکستان پویلین کا افتتاح

    ستمبر 7, 2026

    پاک چین میڈیا تعاون ایشیا بحرالکاہل میں مشترکہ خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے،ڈاکٹر شذرہ منصب علی

    ستمبر 7, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    پاسکو اور یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کی بندش کے عمل میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرصدارت اجلاس

    ستمبر 7, 2026

    شزہ فاطمہ خواجہ کی LEAP 2026 میں شرکت، ٹیک ڈیسٹنیشن پاکستان پویلین کا افتتاح

    ستمبر 7, 2026

    پاک چین میڈیا تعاون ایشیا بحرالکاہل میں مشترکہ خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے،ڈاکٹر شذرہ منصب علی

    ستمبر 7, 2026

    سٹاک ایکسچینج: عام شہریوں کی شرکت سے معاشی ترقی تیز ہو سکتی ہے، یوسف رضا گیلانی

    ستمبر 7, 2026

    ویمنز ایشیا کپ: آئی سی سی نے قومی ٹیم کی کپتان فاطمہ ثناء پرجرمانہ عائد کردیا

    ستمبر 7, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.