پی ٹی آئی کی شٹر ڈان ہڑتال کامیاب ہوئی یا ناکام؟ یہ الگ بحث ہے پاکستان تحریکِ انصاف کی شٹر ڈاؤن ہڑتال نے ایک بار پھر اس حقیقت کو عیاں کر دیا ہے کہ ہماری سیاست میں عوام کو سہارا نہیں، ہتھیار سمجھا جاتا ہے، جس عمل کو احتجاج کا نام دیا جا رہا ہے، وہ دراصل ایک منظم عوامی لاک ڈاؤن ہے،ایسا لاک ڈاؤن جس کا مقصد حکومت کو نہیں بلکہ شہری کی زندگی کو مفلوج کرنا ہے ۔
عجیب اور حیرت کی بات یہ ہے کہ تحریک انصاف کی خیبرپختونخوا میں دوتہائی اکثریت ہے اور وہ شائد اس لئے صوبے کے عوام سے انتقام لے رہے ہیں، صوبائی حکومت بجائے اس کے کہ صوبے کے عوام کو سہولتیں دے، روزگار فراہم کرے، صوبائی اداروں کو مضبوط بنائے، امن و امان پر توجہ دے، صوبے کے حقوق اور عوام کی بنیادی ضرورت کے حصول کیلئے وفاق سے بیٹھ کر بات کرے ، لیکن وہ آج بھی سراپا احتجاج ہے، یہ جانتے ہوئے بھی کہا س طرح کے احتجاج سے عوام کی زندگی نہیں بدلے گی بلکہ بدحالی میں مزید اضافہ ہوگا اور لوگ ان کو کوسیں گے اور کوس بھی رہے ہیں لیکن ان کو ذرا برابر فرق نہیں پڑتا ۔
معلوم نہیں پی ٹی آئی کے رہنما یہ بات کب سمجھیں گے کہ شٹر گرانے سے تخت نہیں گرتے، صرف عوام کی کمر ٹوٹتی ہے، پی ٹی آئی کی شٹر ڈاؤن ہڑتال کو دیکھ کر یہی محسوس ہوتا ہے کہ شاید اس ملک میں وہی ہوگا جو ایک گروہ چاہے گی، ان کو اتنا تو سوچنا چاہیے کہ باقی صوبوں میں کیا ہو رہا ہے اور خیبر پختونخوا میں کونسا کھیل کھیلا جا رہا ہے ۔
پاکستان تحریکِ انصاف کی شٹر ڈاؤن ہڑتال کی اپیل دراصل احتجاج نہیں بلکہ عوام کے خلاف اجتماعی سزا ہے۔ یہ وہ سیاست ہے جس میں دعویٰ انقلاب کا کیا جاتا ہے، مگر قیمت غریب شہری ادا کرتا ہے، سوال یہ نہیں کہ احتجاج کیوں کیا جا رہا ہے؟ اصل سوال یہ ہے کہ اس کی زد میں کون آ رہا ہے؟
جب دکانیں بند ہوتی ہیں تو کسی وزیر یا طاقتور طبقے کا نقصان نہیں ہوتا، بلکہ وہ دیہاڑی دار متاثر ہوتا ہے جس کے چولہے کا دارومدار ایک دن کی کمائی پر ہے، جب کاروبار ٹھپ ہوتے ہیں تو کسی اشرافیہ کی زندگی نہیں رکتی، رکتی ہے تو صرف اُس شخص کی جس کے لیے ایک دن کی تعطیل بھی مالی تباہی بن جاتی ہے، پی ٹی آئی کی قیادت شاید یہ حقیقت تسلیم کرنے سے قاصر ہے یا پھر جان بوجھ کر نظرانداز کر رہی ہے ۔
شٹر ڈاؤن ہڑتال کا سیاسی فائدہ آج تک کسی جماعت کو حاصل نہیں ہوا، مگر اس کے معاشی نقصانات ہمیشہ ناقابلِ تلافی رہے ہیں، پہلے ہی بدحال معیشت کو مزید جھٹکا دینا، بے روزگاری میں اضافہ کرنا اور سرمایہ کاروں کو خوفزدہ کرنا، یہ کون سی عوامی خدمت ہے؟ اگر یہی طرزِ سیاست جاری رہا تو سوال صرف حکومت کی کارکردگی پر نہیں رہے گا بلکہ اپوزیشن کی نیت پر بھی اٹھے گا ۔
پی ٹی آئی ماضی میں خود اقتدار میں رہ چکی ہے، اُس دور میں بھی نہ مہنگائی ختم ہوئی، نہ نظام بدلا، مگر آج تمام ناکامیوں کا ملبہ صرف سڑکوں پر ڈالنا آسان سمجھا جا رہا ہے، جب عمران خان نے بطور وزیراعظم ملک کیلئے کچھ نہیں کیا تو اب اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ ان کی کال پر صوبائی قیادت شٹرڈاون کرے گی تو ان کی مرضی کے مطابق کام ہو سکے گا ۔
حقیقت یہ ہے کہ شٹر ڈاؤن ہڑتال طاقتور کو نہیں، کمزور کو نشانہ بناتی ہے۔ یہ عوامی حمایت حاصل کرنے کا نہیں بلکہ عوام کو یرغمال بنانے کا طریقہ ہے، ایسی سیاست نہ جمہوری ہے، نہ اخلاقی، اور نہ ہی ملک کے مفاد میں ۔
اگر پی ٹی آئی واقعی خود کو ایک ذمہ دار سیاسی قوت سمجھتی ہے تو اسے سڑکوں پر معاشی تباہی پھیلانے کے بجائے سنجیدہ سیاسی جدوجہد کا راستہ اپنانا ہوگا، بصورتِ دیگر تاریخ اسے ایک ایسی جماعت کے طور پر یاد رکھے گی جس نے اقتدار کی خواہش میں عوام ہی کو روند ڈالا ۔

