اسلام آباد کی ایک امام بارگاہ میں خودکش دھماکے کے حملہ آور کی شناخت ہو گئی، حملہ آور کا نام یاسر خان ولد بہادر خان ہے جو پشاور کے گنج محلہ قاضیان کا رہائشی تھا، یہ دھماکہ امام بارگاہ خدیجہ الکبریٰ میں ہوا جس میں متعدد نمازی شہید اور زخمی ہوئے ۔
اسلام آباد: ذرائع کے مطابق، 32 سالہ یاسر خان نے گزشتہ پانچ ماہ افغانستان میں گزارے جہاں اس نے بنیادی ہتھیاروں کے استعمال اور خودکش حملوں کی خصوصی تربیت حاصل کی ۔
اطلاعات ہیں کہ وہ شمال مشرقی افغانستان کے صوبہ کنڑ میں واقع "منصور استشهادی ٹریننگ سینٹر” میں قیام پذیر رہا اور متعدد بار افغانستان آتا جاتا رہا، یہ تربیت مبینہ طور پر دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے دی گئی جس نے اسے اس بھیانک کارروائی کے لیے تیار کیا ۔
تحقیقاتی اداروں نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے یاسر خان کی والدہ اور دو بھائیوں کو حراست میں لے لیا ہے، نادرا کے ریکارڈز سے بھی اس کی شناخت کی تصدیق ہوئی ہے ۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے بھی تصدیق کی کہ حملہ آور پاکستانی شہری ہے اور افغانستان میں متعدد بار سفر کر چکا تھا جہاں اسے تربیت دی گئی ۔
یہ دھماکہ ملک میں جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک نیا چیلنج پیش کرتا ہے،ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد کیمپوں سے تربیت یافتہ حملہ آور پاکستان میں داخل ہو کر مذہبی مقامات اور عوامی اجتماعات کو نشانہ بنا رہے ہیں ۔
دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے سیاسی و مذہبی رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ سرحد پر نگرانی سخت کی جائے اور دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ کارروائی کی جائے، ملک بھر میں مذہبی ہم آہنگی کے لیے امن کمیٹیاں متحرک ہو گئی ہیں۔

