Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, فروری 24, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • وزیراعظم کی قطرکے نائب وزیراعظم اور وزیردفاع سے ملاقات، ایران اور افغانستان کی صورتِ حال پرتبادلہ خیال
    • ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ سپر ایٹ مرحلہ، پاکستان اور انگلینڈ کا ٹاکرا آج ہوگا
    • وزیراعظم شہباز شریف سے قطر کے وزیر مملکت برائے بیرونی تجارت ڈاکٹر احمد بن محمد السید کی ملاقات
    • کوہاٹ شکردرہ روڈ پر پولیس موبائل پر حملہ، ڈی ایس پی اسد محمود سمیت 6 اہلکار شہید، 3 زخمی
    • سلیم بلوچ کی ہلاکت کے بعد لاپتہ افراد کے بیانیے پر نئے سوالات
    • خیبر پختونخوا کا رمضان ریلیف پیکج سیاسی تنازع کا شکار
    • پاکستان کی عالمی کرپٹو و مالیاتی فورم میں نمایاں شرکت
    • مسلم لیگ ن کی حکومت ترقیاتی منصوبوں پر بھرپور توجہ دے رہی ہے، سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » پاکستان کا عام آدمی: مظلوم یا شریکِ جرم؟
    بلاگ

    پاکستان کا عام آدمی: مظلوم یا شریکِ جرم؟

    جولائی 28, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    The common man of Pakistan: victim or accomplice?
    اگر ہم واقعی پاکستان کو ایک بہتر ملک دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں احتساب کا آغاز خود سے کرنا ہو گا ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    پاکستان کی موجودہ حالتِ زار کا جب بھی تجزیہ کیا جاتا ہے تو تمام تر تنقید کا رخ حکمران طبقات، اسٹیبلشمنٹ، سیاستدانوں، عدلیہ یا بیوروکریسی کی طرف ہوتا ہے ۔ عوامی بیانیہ یہی ہے کہ ہم مظلوم ہیں، ہمیں لوٹا گیا ہے، ہمیں استعمال کیا گیا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا عام آدمی واقعی صرف مظلوم ہے؟ کیا وہ خود اس بگاڑ کا حصہ نہیں؟ کیا وہ اپنی زندگی میں قانون، اخلاق اور پیشہ ورانہ دیانت کے اصولوں پر پورا اترتا ہے؟ ان سوالات کا جواب تلاش کرنا ہمارے قومی احتساب کا آغاز ہو سکتا ہے ۔

    پاکستانی معاشرہ ایک ایسا اجتماعی کردار اختیار کر چکا ہے جو تضادات سے بھرا ہوا ہے ۔ عام فرد بظاہر مذہب پسند، عبادات کا پابند، اور دینی جذبات سے سرشار ہے، لیکن اس کی روزمرہ زندگی میں جھوٹ، چالاکی، حسد، رشوت، اور خودغرضی رچ بس چکی ہے ۔ وہ نماز میں عاجزی دکھاتا ہے مگر کاروبار میں ناپ تول میں کمی کرنے سے نہیں چوکتا ۔ وہ حج و عمرہ کی سعادت کے باوجود دو نمبر مال فروخت کرنے یا جھوٹا وعدہ کرنے میں عار محسوس نہیں کرتا ۔ اس دو رُخی طرزِ زندگی نے فرد سے لے کر معاشرے تک ہر سطح پر اخلاقی انتشار پیدا کر دیا ہے ۔

    قانون سے متعلق رویوں کو دیکھا جائے تو عمومی رجحان یہی ہے کہ قانون صرف کمزور کے لیے ہے ۔ طاقتور کو کوئی نہیں پکڑتا، لہٰذا عام آدمی بھی چھوٹے موٹے قانون توڑنے کو اپنا حق سمجھتا ہے ۔ ٹریفک سگنل توڑنا، قطار توڑنا، بغیر رسید کے خریداری کرنا، بجلی یا گیس کی چوری، سب کچھ معمول کی بات بن چکی ہے ۔ اور اگر کبھی کوئی روکے تو دلیل یہ ہوتی ہے کہ سب ہی تو کرتے ہیں، میں کیوں نہ کروں؟ یہ رویہ صرف قانون شکنی نہیں، بلکہ اجتماعی ضمیر کی موت ہے ۔ قانون پر اعتماد اور عمل درآمد صرف تب ممکن ہے جب ہر شہری خود کو بھی اس کے دائرے میں لائے ۔

    پیشہ ورانہ دیانت داری کا حال بھی کچھ مختلف نہیں ۔ چاہے وہ استاد ہو، کلرک، ڈاکٹر، انجینئر، مزدور یا صحافی. اکثر لوگ اپنے فرائض کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ وقت کی پابندی، معیار کی پاسداری، اور ایمانداری کو کمزور اقدار سمجھا جاتا ہے۔ اسکولوں میں اساتذہ بچوں کو پڑھانے سے زیادہ غیر حاضری یا ٹیوشن پر توجہ دیتے ہیں ۔ دفاتر میں فائلیں اس وقت تک نہیں چلتی جب تک "چائے پانی” نہ دیا جائے ۔ ڈاکٹر اپنی ذاتی کلینک کے مفاد میں سرکاری ہسپتال کے مریضوں کو نظر انداز کرتا ہے ۔ صحافی خبر کے بجائے سرخی بیچتا ہے ۔ یہ سب صرف اداروں کی ناکامی نہیں، بلکہ فرد کے کردار کا بحران ہے ۔

    بے شک یہ بھی حقیقت ہے کہ ریاستی سطح پر عدل، تعلیم، صحت اور روزگار کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ عوام کو وہ ماحول ہی نہیں دیا گیا جس میں وہ ایک مہذب اور قانون پسند شہری بن سکیں ۔ مگر کیا یہ جواز کافی ہے کہ ہم بھی ویسے ہی بن جائیں جیسے ہمیں ہمارے حکمرانوں نے بنایا ہے؟ کیا باشعور انسان صرف ماحول کا پرتو ہوتا ہے؟ انسان وہی ہوتا ہے جو بگڑے ماحول میں بھی سچ، انصاف اور دیانت کا راستہ چنے ۔

    اصل حقیقت یہ ہے کہ عام آدمی کو مکمل بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ وہ نہ تو مکمل مظلوم ہے اور نہ ہی سراسر مجرم ۔ وہ اس نظام کا پروردہ بھی ہے اور اس کا حصہ بھی ۔ وہ اس کی خرابیوں سے متاثر بھی ہے اور خود اس بگاڑ کو آگے بڑھانے میں شریک بھی ۔ اگر ہم واقعی پاکستان کو ایک بہتر ملک دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں احتساب کا آغاز خود سے کرنا ہو گا ۔ محض حکمرانوں کو کوسنے سے کچھ نہیں بدلے گا جب تک ہم خود اپنے اعمال کا جائزہ لینے کو تیار نہ ہوں ۔

    یہ وقت ہے کہ عام آدمی خود سے سوال کرے: کیا میں ایک ذمہ دار شہری ہوں؟ کیا میں اپنے حصے کا فرض ایمانداری سے ادا کرتا ہوں؟ کیا میں قانون کا احترام کرتا ہوں؟ کیا میں اپنے بچوں کو سچائی، دیانت اور انصاف کا سبق دیتا ہوں؟ یہ سوالات تلخ ہیں، مگر انہی میں مستقبل کی روشنی چھپی ہے ۔ اگر ہم نے خود احتسابی کی جرأت کر لیں، تو شاید یہی عام آدمی ایک دن پاکستان کو عظیم قوم بنانے میں مرکزی کردار ادا کرے ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleکوہاٹ: شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر گن شپ ہیلی کاپٹروں کی شیلنگ، 15 دہشتگرد ہلاک، متعدد ٹھکانے تباہ
    Next Article زنجیروں کے سوداگر اور غلامی کے خریدار
    Khalid Khan
    • Website

    Related Posts

    امن کی کنجی کابل کے ہاتھ میں !

    فروری 22, 2026

    غربت کی نئی لہر اور معیشت کا کڑا امتحان

    فروری 21, 2026

    رہائی فورس کا اعلان،سیاسی وفاداری یا تصادم کا حتمی فیصلہ ؟

    فروری 20, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    وزیراعظم کی قطرکے نائب وزیراعظم اور وزیردفاع سے ملاقات، ایران اور افغانستان کی صورتِ حال پرتبادلہ خیال

    فروری 24, 2026

    ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ سپر ایٹ مرحلہ، پاکستان اور انگلینڈ کا ٹاکرا آج ہوگا

    فروری 24, 2026

    وزیراعظم شہباز شریف سے قطر کے وزیر مملکت برائے بیرونی تجارت ڈاکٹر احمد بن محمد السید کی ملاقات

    فروری 24, 2026

    کوہاٹ شکردرہ روڈ پر پولیس موبائل پر حملہ، ڈی ایس پی اسد محمود سمیت 6 اہلکار شہید، 3 زخمی

    فروری 24, 2026

    سلیم بلوچ کی ہلاکت کے بعد لاپتہ افراد کے بیانیے پر نئے سوالات

    فروری 24, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.