Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, جولائی 7, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • پاک فضائیہ کے شہید گروپ کیپٹن عاصم طارق فوجی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک
    • پاکستان کی سیاسی قیادت بزدل بھارت کی آبی جارحیت کے خلاف متحد
    • وزیراعظم کی زیارت میں فتنہ الخوارج کی جانب سے پولیس چوکی پر حملے کی مذمت، بھرپور مزاہمت پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
    • زیارت میں 15 بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کی ہلاکت، وفاقی وزیرداخلہ کی جانب سے پولیس کی ستائش
    • کوئٹہ؛ قبائلی افراد اور مسلح دہشتگردوں میں جھڑپ، 4 افراد جاں بحق، 9 زخمی
    • خیبر پختونخوا کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اور مرطوب رہنے کا امکان
    • پاکستان کی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے، وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب
    • بیلجیم اور اسپین کی شاندار فتوحات، امریکہ اور پرتگال کا ورلڈ کپ سفر ختم
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » زنجیروں کے سوداگر اور غلامی کے خریدار
    بلاگ

    زنجیروں کے سوداگر اور غلامی کے خریدار

    جولائی 28, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Chain merchants and slave buyers
    یہ وہ دن ہوگا جب مزدور اپنی قیمت جانے گا، کسان اپنے پسینے کی حرمت پہچانے گا، طالب علم اپنی سوچ کی طاقت کو تلوار بنا لے گا ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    یہ کیسی سرزمین ہے جہاں مٹی کے نیچے گندم کے بجائے غلامی کے بیج بوئے گئے ہیں؟
    جہاں ہر صبح امید کے بجائے کوئی نیا فریب اگتا ہے؟
    جہاں آزادی کے نعرے لگانے والے اقتدار کے دربار میں پہنچتے ہی اپنی زبانیں گروی رکھ دیتے ہیں؟
    اوپر دیکھو، سیادت کی وہ کرسی ہے جس پر ہر آنے والا مسیحا بیٹھتے ہی مفلوج ہو جاتا ہے ۔ نہیں، یہ کمزور اس لیے نہیں پڑتے کہ ہم بیدار نہیں ہیں؛ یہ کمزور اس لیے پڑتے ہیں کہ انہیں کبھی ہماری طاقت اور ہمارے زخم کی پروا ہی نہیں تھی ۔ یہ تو پہلے دن سے صرف ہمارے کندھوں کو اپنی سیڑھی سمجھتے آئے ہیں ۔ ان کے وعدے، ان کے منشور، ان کی للکار، سب صرف ہمیں استعمال کرنے کے لیے ۔ ہمارے ووٹ ان کے لیے محض زینہ ہیں، ہمارا لہو ان کے کھیل کا ایندھن ۔
    ریاست کا حال دیکھو تو لگتا ہے جیسے یہ کوئی رحم دل ماں نہیں بلکہ ایک عیار سوداگر ہے، جو کبھی تھپکی دے کر بہلاتی ہے اور کبھی ڈنڈے مار کر ۔ انصاف کے بورڈ لگے ہیں مگر ترازو ایک طرف جھکا ہوا ہے ۔ آئین کے باب لکھے ہیں مگر عملی کتاب میں سب کچھ خالی ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں ریاست ہمارے لیے ہے، مگر اصل میں ہم تو اس کے تجربے کی بھٹی میں جھونکے گئے ہیں ، بار بار، نسل در نسل ۔

    اشرافیہ؟ آہ! یہ وہ طبقہ ہے جو بھوک کے مناظر کو اپنی تقریروں کی زینت بناتا ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو غریبوں کے ٹوٹے گھر دیکھ کر فلسفہ جھاڑتے ہیں اور شام کو محلات میں بیٹھ کر اسی فلسفے پر شراب نوشی کرتے ہیں ۔ یہ ہمیں نصیحت دیتے ہیں:
    "اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جاؤ!”
    اور خود ان کے پاؤں لندن، دبئی اور نیویارک کے محلات میں جمے ہوتے ہیں ۔
    اور ہم؟ ہم عوام؟
    ہم تو اس المیے کے سب سے بڑے کردار ہیں ۔ ہم ہر الیکشن میں اپنی غلامی کی تجدید کے لیے قطاریں بناتے ہیں، جھنڈے لہراتے ہیں، نعرے لگاتے ہیں ۔ ہم وہ ہیں جو ظلم کے ہر نئے چہرے کو سلامی دیتے ہیں، اسے پھولوں کے ہار پہناتے ہیں اور پھر اگلے روز انہی پھولوں کے ساتھ اپنی بھوک مارتے ہیں ۔

    ہم یہ خوش فہمی پالتے ہیں کہ اگر ہم جاگ جائیں تو شاید وہ بدل جائیں گے ۔
    نہیں! وہ کبھی ہمارے تھے ہی نہیں ۔ انہوں نے تو ابتدا ہی سے اپنے خواب ہمارے کندھوں پر لاد کر اپنے لیے دیکھے ۔ انہوں نے ہمیں سیڑھی بنایا، تخت تک پہنچے، اور ہمیں وہیں نیچے دھکیل دیا ۔
    اور حل؟
    ہاں، ہے! مگر وہ دعاؤں اور ایک نئے لیڈر کے انتظار میں نہیں چھپا ۔
    وہ اس دن جنم لے گا جب ہم یہ مان لیں گے کہ یہ کھیل صرف چہروں کا نہیں بلکہ طبقات کا کھیل ہے ۔ یہ وہی پرانی بساط ہے جس پر بادشاہ اور وزیر بدل جاتے ہیں لیکن مہرے ہمیشہ ہم رہتے ہیں ۔

    یہ تب ٹوٹے گا جب ہم صرف ووٹر نہیں بلکہ طبقاتی سیاسی شعور کے حامل انسان بنیں گے ۔ جب ہمیں یہ سمجھ آ جائے گی کہ اقتدار کی سیڑھی ہم نہیں ہیں، بلکہ ہمیں خود سیڑھی بنانا ہے، اپنے لیے، اپنی بقا کے لیے ۔ جب ہم اپنی سیاست کو لسانیات، برادریوں اور شخصیات سے نکال کر اپنے طبقے کے دکھوں پر کھڑا کریں گے ۔

    یہ کام کوئی حکیم نہیں کرے گا، نہ کوئی مسیحا ۔
    یہ وہ دن ہوگا جب مزدور اپنی قیمت جانے گا، کسان اپنے پسینے کی حرمت پہچانے گا، طالب علم اپنی سوچ کی طاقت کو تلوار بنا لے گا ۔
    یہ وہ دن ہوگا جب ہم اشرافیہ کے دسترخوان سے اٹھ کر اپنا دسترخوان بچھائیں گے، جہاں روٹی کے ساتھ عزت اور اختیار بھی بانٹا جائے گا ۔
    اس سے پہلے؟
    ہم ایسے ہی ہر الیکشن میں اپنی زنجیریں پالش کریں گے، ہر نئے حاکم کو سلامی دیں گے اور ہر شکست کے بعد تالیاں بجائیں گے ۔
    لیکن جس دن ہم طبقاتی شعور کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے،
    وہ دن ان زنجیروں کی آخری شام ہوگی ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleپاکستان کا عام آدمی: مظلوم یا شریکِ جرم؟
    Next Article سوات مدرسے میں تشدد سے طالب علم کے جاں بحق ہونے کا معاملہ، مرکزی ملزم اور اس کا بیٹا گرفتار
    Khalid Khan
    • Website

    Related Posts

    آخر کب تک؟ معصوم بچوں کے خلاف جنسی جرائم، معاشرتی زوال اور ہماری اجتماعی ذمہ داری. تحریر: نازپروین

    جولائی 1, 2026

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر، تحریر: قریش خٹک

    مئی 13, 2026

    ہم نے ایک آفتاب کھو دیا!

    مئی 6, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    پاک فضائیہ کے شہید گروپ کیپٹن عاصم طارق فوجی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک

    جولائی 7, 2026

    پاکستان کی سیاسی قیادت بزدل بھارت کی آبی جارحیت کے خلاف متحد

    جولائی 7, 2026

    وزیراعظم کی زیارت میں فتنہ الخوارج کی جانب سے پولیس چوکی پر حملے کی مذمت، بھرپور مزاہمت پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین

    جولائی 7, 2026

    زیارت میں 15 بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کی ہلاکت، وفاقی وزیرداخلہ کی جانب سے پولیس کی ستائش

    جولائی 7, 2026

    کوئٹہ؛ قبائلی افراد اور مسلح دہشتگردوں میں جھڑپ، 4 افراد جاں بحق، 9 زخمی

    جولائی 7, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.