Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, اگست 27, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • سانحہ پمز کیسے رونما ہوا؟ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آگئی
    • پمز سانحے کے اصل حقائق
    • ملک بھر میں آج عید میلاد النبیﷺ مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منائی جا رہی ہے
    • اسلام آباد کے پمز ہسپتال کی نرسری میں خوفناک آتشزدگی سے 15 نومولود جھلس کر جاں بحق
    • 9 مئی حملوں کا اہم فیصلہ جاری، تحریک انصاف کے اہم رہنماوں کو قید اور جرمانے کی سزائیں
    • وفاقی حکومت کا 10 روپے کا کرنسی نوٹ ختم کرنے کا فیصلہ
    • ایران نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی کا ایران کا دورہ انتہائی مثبت قرار دیدیا
    • فیلڈ مارشل کی تہران میں ایرانی قیادت سے اہم ملاقاتیں، کشیدگی میں مزید اضافے کی روک تھام، آبنائے ہرمز کھولنے پر تبادلہ خیال
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » تحریک انصاف کی سابق حکومت نے تقریباً 4 ہزار دہشت گردوں کو واپس لا کر بسایا، وزیر دفاع
    اہم خبریں مارچ 21, 2025

    تحریک انصاف کی سابق حکومت نے تقریباً 4 ہزار دہشت گردوں کو واپس لا کر بسایا، وزیر دفاع

    Facebook Twitter Email
    The country is burning in the fire of terrorism and PTI is doing politics of interests, Khawaja Asif
    ثابت ہوگیا وطن کی سلامتی اور امن پی ٹی آئی کیلئے اہمیت نہیں رکھتے، وزیر دفاع
    Share
    Facebook Twitter Email

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے تانے بانے ایران اور افغانستان سے جڑے ہوئے ہیں اور دہشت گردوں کے خلاف کثیرالجہتی اور ٹارگٹڈ آپریشن کیا جائے گا۔

    ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے دہشت گردی، قومی سلامتی کمیٹی (این اے سی) کے اجلاس اور حکومتی پالیسیوں پر تفصیلی بات چیت کی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے ایک اجلاس میں دہشت گردوں کی واپسی کا معاملہ زیر بحث آیا تھا، لیکن وہ اس اجلاس میں شریک نہیں ہوئے کیونکہ انہیں پہلے سے اندازہ تھا کہ یہ فیصلہ پہلے ہی ہو چکا ہے۔

    وزیر دفاع نے بتایا کہ اجلاس کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف، جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ سے یہ سوال نہیں کر سکے کہ دہشت گردوں کو واپس کیوں لایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق محسن داوڑ نے اس پالیسی کی مخالفت کی اور اپنے تحفظات کا اظہار کیا، لیکن انہیں دوبارہ بولنے سے روک دیا گیا۔

    خواجہ آصف نے بتایا کہ کئی افراد نے اس فیصلے پر اعتراض کیا، مگر اس قدر شدت سے مخالفت نہ کی جا سکی جو مؤثر ثابت ہوتی۔ اس پالیسی کے نتیجے میں تقریباً 4 ہزار دہشت گردوں کو واپس لا کر مختلف علاقوں میں بسایا گیا، جس کے خلاف سوات میں عوامی مظاہرے بھی ہوئے۔

    انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے ڈانڈے ایران اور افغانستان سے ملتے ہیں۔ پاکستان نے سرحد پار موجود خفیہ ٹھکانوں پر حملے کیے، لیکن ان کی تعداد میڈیا پر ظاہر نہیں کی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان دہشت گردوں کو مکمل طور پر ختم نہ کیا گیا تو یہ ریاست کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

    خواجہ آصف نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے دو حکمت عملیوں کا ذکر کیا: ایک "کائنیٹک اسٹریٹجی” جو متاثرہ علاقوں میں طاقت کے استعمال پر مبنی ہوگی، اور دوسری "سوفٹ اینڈ ہارڈ اسٹیٹ” پالیسی۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست کو اتنی مضبوط ہونا چاہیے کہ وہ ان علاقوں میں مؤثر ڈلیورنس دے سکے جہاں شدت پسندی جنم لے رہی ہے۔

    بلوچستان کے حالات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب روایتی قیادت اور قبائلی عمائدین بھی مان چکے ہیں کہ دہشت گرد ان کے قابو سے باہر ہو چکے ہیں اور یہ مسئلہ اب نوجوان نسل کے ہاتھ میں آ گیا ہے۔

    انہوں نے تاریخی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نواب نوروز خان کو ایک معاہدے کے باوجود ایوب خان نے پھانسی دی، جبکہ نواب اکبر بگٹی کے قتل کا ذمہ دار جنرل مشرف تھا۔ انہوں نے جنرل ضیاء الحق کے دور میں افغانستان میں مداخلت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ جہاد نہیں بلکہ بڑی طاقتوں کی جنگ تھی جس میں پاکستان صرف ایک آلہ کار تھا۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پوری قوم پہلے متحد تھی، لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ اس ناسور کو جڑ سے ختم کیا جائے، ورنہ اس کے خطرناک اثرات جلد نظر آنا شروع ہو جائیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے آپریشن کی مخالفت کی ہے۔ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے نہ حمایت کی اور نہ ہی واضح مخالفت کی۔ انہوں نے صرف رسمی انداز میں تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے قائد کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے، اور دہشت گردی کے مقدمات ان پر بھی بنے ہوئے ہیں۔

    وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ حکومت کا فوکس صرف دہشت گردی کے خاتمے پر ہے، جبکہ پی ٹی آئی صرف بانی پی ٹی آئی میں دلچسپی رکھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے لیے بانی سب کچھ ہے، وہ کہتے ہیں کہ اگر بانی نہ ہو تو پاکستان بھی نہ ہو۔ اجلاس میں شرکت سے انکار کرکے وہ اپنے فرائض سے فرار چاہتے ہیں، یہ طریقہ درست نہیں۔

    خواجہ آصف نے ملٹری کورٹس کی حمایت کا اعلان بھی کیا اور کہا کہ ان کی جماعت اس کی مکمل حمایت کرے گی۔

    آخر میں انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی طبیعت ناساز ہے، اس وجہ سے وہ ملاقاتوں سے گریز کر رہے ہیں۔ ڈاکٹرز نے انہیں سفر اور سرگرمیوں سے پرہیز کا مشورہ دیا ہے، اور نواز شریف نے خود کہا ہے کہ وہ صحت کی خرابی کے باعث فعال کردار ادا نہیں کر پا رہے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleپی ٹی آئی کی مینار پاکستان پر جلسے کی درخواست مسترد
    Next Article افغان طالبان نے نگراں حکومت کو مستقل حیثیت دینے کی کوششیں تیز کر دیں
    Web Desk

    Related Posts

    سانحہ پمز کیسے رونما ہوا؟ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آگئی

    اگست 26, 2026

    پمز سانحے کے اصل حقائق

    اگست 26, 2026

    ملک بھر میں آج عید میلاد النبیﷺ مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منائی جا رہی ہے

    اگست 26, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    سانحہ پمز کیسے رونما ہوا؟ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آگئی

    اگست 26, 2026

    پمز سانحے کے اصل حقائق

    اگست 26, 2026

    ملک بھر میں آج عید میلاد النبیﷺ مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منائی جا رہی ہے

    اگست 26, 2026

    اسلام آباد کے پمز ہسپتال کی نرسری میں خوفناک آتشزدگی سے 15 نومولود جھلس کر جاں بحق

    اگست 26, 2026

    9 مئی حملوں کا اہم فیصلہ جاری، تحریک انصاف کے اہم رہنماوں کو قید اور جرمانے کی سزائیں

    اگست 25, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.