Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    ہفتہ, مئی 2, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • پاکستان خطے میں اہم سفارتی کردار ادا کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، سابق امریکی جنرل مارک کمٹ
    • قاضی حسین احمد میڈیکل کمپلیکس نوشہرہ میں جعلی اسناد پر مبینہ بھرتیوں کا انکشاف
    • خیبر ٹیلی ویژن نیٹ ورک دینی و ثقافتی پروگراموں کے ذریعے آگاہی پھیلانے میں پیش پیش
    • فحش مواد نے پشتون ثقافت کی اصل پہچان کو نقصان پہنچایا: نجیب اللہ انجم
    • خیبر ٹیلی ویژن کا مقبول شو “پخیر راغلے” ناظرین کی توجہ کا مرکز
    • 15 سال سے کم عمر عازمین حج پر پابندی ختم، نئی ہدایات جاری
    • وزیراعظم محمد شہبازشریف کی علی الزیدی کو عراق کے وزیراعظم کی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد
    • پاکستان کویت تعلقات: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور کویتی وزیر خارجہ کا رابطہ، امن و استحکام پر زور
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » فتنہ خوارج اور مقامی سہولت کاری – خاموشی کب تک؟
    اہم خبریں

    فتنہ خوارج اور مقامی سہولت کاری – خاموشی کب تک؟

    جون 28, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    28 جون 2025 کو شمالی وزیرستان کے پُرآشوب علاقے میر علی میں ایک اور المناک سانحہ پیش آیا۔ خودکش حملے میں پاک فوج کے کئی بہادر سپاہی شہید ہوئے جبکہ متعدد شہری زخمی ہوئے۔ اس دہشتگرد حملے نے ایک بار پھر اس اہم سوال کو جنم دیا ہے کہ آخر کب تک مقامی افراد کی طرف سے خوارج جیسے انتہا پسندوں کو سہولت فراہم کی جاتی رہے گی؟

    سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ 800 کلوگرام بارود سے بھری گاڑی کیسے تیار کی گئی، رات بھر کہاں چھپائی گئی، اور دن کے اجالے میں اپنے ہدف تک کیسے پہنچی؟ کس ورکشاپ نے اس تباہ کن گاڑی کی تیاری میں مدد دی؟ کس گھر نے اسے پناہ دی؟

    یہ محض سوال نہیں، بلکہ ہماری داخلی سلامتی کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں۔

    یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ پہلے بھی دہشتگردوں نے اسی علاقے میں مساجد، بازاروں اور گھروں کو حملوں کے لیے استعمال کیا ہے۔ کیا ایسے حملے مقامی مدد کے بغیر ممکن ہیں؟ افسوسناک سچ یہ ہے کہ نہیں۔

    سیکیورٹی فورسز کے پاس باوثوق اطلاعات ہیں کہ میر علی کے بعض گھروں میں دہشتگردوں کو پناہ دی گئی ہے۔ یہ دہشتگرد عورتوں اور بچوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں کیونکہ پاک فوج شہریوں کو نشانہ بنانے سے گریز کرتی ہے۔ وہ گھروں سے فائرنگ کرتے ہیں اور جب جوابی کارروائی کی جاتی ہے تو شور مچتا ہے: "ہمارے گھر نشانہ بنائے جا رہے ہیں!” مگر کوئی نہیں کہتا کہ پہلا وار انہی گھروں سے ہوا۔

    یہ خاموش سہولت کاری نئی نہیں۔ تیرہ ویلی، میدان، ملک دین خیل اور نختَر میں بھی یہی طرزِعمل دیکھا گیا۔ ہر بار دہشتگردوں نے گھروں سے حملے کیے، ویڈیوز موجود ہیں۔ فوج نے بارہا گھروں کو خالی کرنے کی وارننگ دی، لیکن مقامی افراد نے ان وارننگز کو ظلم کہا۔

    سوال یہ ہے:
    کیا ریاست کے دشمنوں کو پناہ دینا ظلم نہیں؟
    کیا عورتوں اور بچوں کو ڈھال بنانا بربریت نہیں؟
    کیا خاموشی اختیار کرنا جرم نہیں؟

    خوارج مجاہد نہیں، قاتل ہیں۔ وہ مذہب کا لبادہ اوڑھ کر خون بہاتے ہیں۔ وہ ہمارے امن کو برباد، معاشرے کو تقسیم، اور بچوں کے مستقبل کو تاریک کر رہے ہیں۔

    اب وقت آ گیا ہے کہ ہم فیصلہ کن لکیر کھینچیں: جو بھی دہشتگردوں کی سہولت کاری کرے گا، وہ ان کے جرم میں برابر کا شریک ہوگا، چاہے وہ کوئی بھی ہو۔

    یہ صرف فوج کی جنگ نہیں۔ یہ پوری قوم کی جنگ ہے۔ خاموشی اب خودسپردگی ہے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleدریائے سوات میں ڈوبنے والے ایک اور سیاح کی لاش کو نکال لیا گیا، مرنے والوں کی تعداد 11 ہوگئی
    Next Article سیلاب آیا، زندگیاں گئیں، خیبرپختونخوا حکومت کہاں تھی؟
    Web Desk

    Related Posts

    15 سال سے کم عمر عازمین حج پر پابندی ختم، نئی ہدایات جاری

    مئی 2, 2026

    وزیراعظم محمد شہبازشریف کی علی الزیدی کو عراق کے وزیراعظم کی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد

    مئی 2, 2026

    معرکۂ حق میں کامیابی، پاکستان امن کا علمبردار بن گیا: وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ

    مئی 2, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    پاکستان خطے میں اہم سفارتی کردار ادا کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، سابق امریکی جنرل مارک کمٹ

    مئی 2, 2026

    قاضی حسین احمد میڈیکل کمپلیکس نوشہرہ میں جعلی اسناد پر مبینہ بھرتیوں کا انکشاف

    مئی 2, 2026

    خیبر ٹیلی ویژن نیٹ ورک دینی و ثقافتی پروگراموں کے ذریعے آگاہی پھیلانے میں پیش پیش

    مئی 2, 2026

    فحش مواد نے پشتون ثقافت کی اصل پہچان کو نقصان پہنچایا: نجیب اللہ انجم

    مئی 2, 2026

    خیبر ٹیلی ویژن کا مقبول شو “پخیر راغلے” ناظرین کی توجہ کا مرکز

    مئی 2, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.