Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, ستمبر 22, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • بلوچستان کے علاقے ساران تنگی میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 6 دہشتگرد ہلاک
    • کراچی پورٹ کی عالمی شپنگ رابطہ انڈیکس میں تاریخی کامیابی
    • پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ
    • آسان ٹیکس سکیم: ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور دکانداروں کو ٹیکس ادائیگی میں سہولت فراہم کرنا بنیادی مقصد ہے، بلال اظہر کیانی
    • وزیراعظم کے کفایت شعاری اقدامات: وزارتِ ریلوے میں اہم فیصلے
    • بلوچستان میں سماعت سے محروم بچوں کے لیے پہلا ڈیف چلڈرن ایکسی لینس اینڈ ریسرچ سینٹر قائم
    • پشاور میں قبر کھود کر بچوں کی لاشوں کی بے حرمتی کرنے والا درندہ صفت افغانی گرفتار
    • جماعت اسلامی نے وزیراعظم کی وطن واپسی تک لانگ مارچ مؤخر کرنے کا اعلان کردیا
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » فتنہ خوارج اور مقامی سہولت کاری – خاموشی کب تک؟
    اہم خبریں جون 28, 2025

    فتنہ خوارج اور مقامی سہولت کاری – خاموشی کب تک؟

    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    28 جون 2025 کو شمالی وزیرستان کے پُرآشوب علاقے میر علی میں ایک اور المناک سانحہ پیش آیا۔ خودکش حملے میں پاک فوج کے کئی بہادر سپاہی شہید ہوئے جبکہ متعدد شہری زخمی ہوئے۔ اس دہشتگرد حملے نے ایک بار پھر اس اہم سوال کو جنم دیا ہے کہ آخر کب تک مقامی افراد کی طرف سے خوارج جیسے انتہا پسندوں کو سہولت فراہم کی جاتی رہے گی؟

    سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ 800 کلوگرام بارود سے بھری گاڑی کیسے تیار کی گئی، رات بھر کہاں چھپائی گئی، اور دن کے اجالے میں اپنے ہدف تک کیسے پہنچی؟ کس ورکشاپ نے اس تباہ کن گاڑی کی تیاری میں مدد دی؟ کس گھر نے اسے پناہ دی؟

    یہ محض سوال نہیں، بلکہ ہماری داخلی سلامتی کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں۔

    یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ پہلے بھی دہشتگردوں نے اسی علاقے میں مساجد، بازاروں اور گھروں کو حملوں کے لیے استعمال کیا ہے۔ کیا ایسے حملے مقامی مدد کے بغیر ممکن ہیں؟ افسوسناک سچ یہ ہے کہ نہیں۔

    سیکیورٹی فورسز کے پاس باوثوق اطلاعات ہیں کہ میر علی کے بعض گھروں میں دہشتگردوں کو پناہ دی گئی ہے۔ یہ دہشتگرد عورتوں اور بچوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں کیونکہ پاک فوج شہریوں کو نشانہ بنانے سے گریز کرتی ہے۔ وہ گھروں سے فائرنگ کرتے ہیں اور جب جوابی کارروائی کی جاتی ہے تو شور مچتا ہے: "ہمارے گھر نشانہ بنائے جا رہے ہیں!” مگر کوئی نہیں کہتا کہ پہلا وار انہی گھروں سے ہوا۔

    یہ خاموش سہولت کاری نئی نہیں۔ تیرہ ویلی، میدان، ملک دین خیل اور نختَر میں بھی یہی طرزِعمل دیکھا گیا۔ ہر بار دہشتگردوں نے گھروں سے حملے کیے، ویڈیوز موجود ہیں۔ فوج نے بارہا گھروں کو خالی کرنے کی وارننگ دی، لیکن مقامی افراد نے ان وارننگز کو ظلم کہا۔

    سوال یہ ہے:
    کیا ریاست کے دشمنوں کو پناہ دینا ظلم نہیں؟
    کیا عورتوں اور بچوں کو ڈھال بنانا بربریت نہیں؟
    کیا خاموشی اختیار کرنا جرم نہیں؟

    خوارج مجاہد نہیں، قاتل ہیں۔ وہ مذہب کا لبادہ اوڑھ کر خون بہاتے ہیں۔ وہ ہمارے امن کو برباد، معاشرے کو تقسیم، اور بچوں کے مستقبل کو تاریک کر رہے ہیں۔

    اب وقت آ گیا ہے کہ ہم فیصلہ کن لکیر کھینچیں: جو بھی دہشتگردوں کی سہولت کاری کرے گا، وہ ان کے جرم میں برابر کا شریک ہوگا، چاہے وہ کوئی بھی ہو۔

    یہ صرف فوج کی جنگ نہیں۔ یہ پوری قوم کی جنگ ہے۔ خاموشی اب خودسپردگی ہے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleدریائے سوات میں ڈوبنے والے ایک اور سیاح کی لاش کو نکال لیا گیا، مرنے والوں کی تعداد 11 ہوگئی
    Next Article سیلاب آیا، زندگیاں گئیں، خیبرپختونخوا حکومت کہاں تھی؟
    Web Desk

    Related Posts

    بلوچستان کے علاقے ساران تنگی میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 6 دہشتگرد ہلاک

    ستمبر 22, 2026

    کراچی پورٹ کی عالمی شپنگ رابطہ انڈیکس میں تاریخی کامیابی

    ستمبر 22, 2026

    پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ

    ستمبر 22, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    بلوچستان کے علاقے ساران تنگی میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 6 دہشتگرد ہلاک

    ستمبر 22, 2026

    کراچی پورٹ کی عالمی شپنگ رابطہ انڈیکس میں تاریخی کامیابی

    ستمبر 22, 2026

    پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ

    ستمبر 22, 2026

    آسان ٹیکس سکیم: ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور دکانداروں کو ٹیکس ادائیگی میں سہولت فراہم کرنا بنیادی مقصد ہے، بلال اظہر کیانی

    ستمبر 22, 2026

    وزیراعظم کے کفایت شعاری اقدامات: وزارتِ ریلوے میں اہم فیصلے

    ستمبر 22, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.