آبنائے ہرمز کو کھولنے کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چین سمیت مختلف ممالک سے مدد کی اپیل کو عالمی سطح پر خاطر خواہ پذیرائی نہیں مل سکی، اور اب تک کسی بھی ملک نے خطے میں بحری جہاز بھیجنے کا اعلان نہیں کیا۔
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ نے بھی اس معاملے میں بحری جنگی جہاز بھیجنے سے گریز کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر نے امریکی صدر کی درخواست کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ اس وقت ایسی کسی کارروائی کے لیے تیار نہیں۔
امریکہ کے قریبی معاشی اتحادی جاپان نے بھی اس معاملے میں محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے آبنائے ہرمز میں بحری جہاز بھیجنے سے انکار کر دیا ہے۔ جاپانی حکمران جماعت کے پالیسی سربراہ کا کہنا ہے کہ جب تک خطے کی صورتحال میں کوئی غیر معمولی اور بڑا موڑ نہیں آتا، اس وقت تک جاپانی بحریہ کو وہاں بھیجنا ممکن نہیں۔
اسی طرح آسٹریلیا نے بھی واضح کر دیا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں کسی نئے بحری مشن میں شامل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ آسٹریلوی وزیر نے کہا کہ ان کا ملک اس وقت خطے میں کسی فوجی کارروائی یا تعیناتی کا حصہ نہیں بن رہا۔
دوسری جانب چین نے بھی اس معاملے پر براہ راست ردعمل دینے سے گریز کیا ہے۔ تاہم واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کا کہنا ہے کہ بیجنگ متعلقہ ممالک کے ساتھ رابطے بڑھا کر کشیدگی کم کرنے اور مثبت کردار ادا کرنے کی کوشش کرے گا۔
اسی دوران جنوبی کوریا نے کہا ہے کہ وہ امریکی اپیل سے آگاہ ہے اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال کا بغور جائزہ لے رہا ہے۔
واضح رہے کہ فرانس اس سے پہلے ہی آبنائے ہرمز میں بحری جہاز بھیجنے سے انکار کر چکا ہے

