Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, اپریل 28, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • پی ایس ایل کوالیفائر میں اسلام آباد یونائٹڈ کو شکست، پشاور زلمی فائنل میں پہنچ گئی
    • خون کا دامن اور زندگی کی امانت
    • پاکستان کا مقامی طور پر تیار کردہ فتح II میزائل کا کامیاب تجربہ
    • پاکستان یورپی یونین کے ساتھ تجارتی تعلقات اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری رکھے گا، وزیراعظم محمد شہباز شریف
    • وزیراعظم شہباز شریف اور نیوزی لینڈ کے وزیراعظم کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلۂ خیال
    • حکومت معاشی شعبے میں ادارہ جاتی اصلاحات پر عمل پیرا، ملکی معیشت بہتری کی جانب گامزن، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
    • مہنگائی کا طوفان: عوامی زندگی پر بڑھتا دباؤ اور ممکنہ حل، تحریر: ثمن سرفراز
    • پاکستان اسٹاک مارکیٹ مندی کا شکار، ہنڈرڈ انڈیکس 817 پوائنٹس گر گیا
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » نئے چیف جسٹس پاکستان کو درپیش چیلنجز!
    بلاگ

    نئے چیف جسٹس پاکستان کو درپیش چیلنجز!

    نومبر 7, 2024Updated:نومبر 11, 2024کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Chief Justice and Challenges
    تین سالہ دور میں چیف جسٹس پاکستان کو صرف ایک نہیں، دو نہیں، درجن بھر بھی نہیں ،کئی چیلنجز کا سامنا ہوگا۔/فوٹو فائل
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد (ارشد اقبال ناصح) 26ویں آئینی ترمیم کے بعد بننے والے ملک کے پہلے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنی ذمہ داریاں سنبھالتے ہی جوڈیشل ایکٹیوازم کا آغاز بھی کردیا ہے۔ ایسا ہی آغاز ملک میں سب سے زیادہ عرصے تک چیف جسٹس کے عہدے پر فائز رہنے والے جسٹس(ر) افتخار محمد چودھری نے بھی کیا تھا اور پھر ان کے بعد یہ سلسلہ ایک اور چیف جسٹس (ر) عمر عطا بندیال پر ختم ہوا ۔لیکن سابق چیف جسٹسز اور موجودہ چیف جسٹس میں بہت نمایاں فرق ہے ۔افتخار محمد چودھری اپنی طاقت کا غلط استعمال کرتے رہے اور پیپلز پارٹی کو حکومت کرنے نہیں دی۔اسی طرح دیگر چیف جسٹس صاحبان کے دور میں بھی یہ معاملہ یونہی جاری رہا ۔وہ سوموٹو پر سوموٹو لیتے رہے لیکن یہ نہ سوچا کہ کس کیس میں سوموٹو لینا ناگزیر ہے ۔افتخار چودھری کے دور میں تو اگر کسی گھر میں بھنڈی کے بجائے کریلے پکتے اور اس گھر کے بچے جاکر سپریم کورٹ سے رجوع کرتے تو وہ اس پر بھی سوموٹو نوٹس لے کر انتظامیہ کی دوڑیں لگوا لیتے ۔اس سوموٹو کے بعد گھر میں کریلے پکتے اور نہ ہی گھر کے بچوں کو بھنڈی نصیب ہوتی۔
    افتخار محمد چودھری کے دور میں مردان میں ایک گھر سے بچی غائب ہوئی ۔بچی کے والد او ر والدہ جاننے والے تھے انہوں نے مجھے فون کیا اور معاملہ بتایا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ میں کیا خدمت کرسکتا ہوں۔ انہوں نے جواب دیا کہ چیف جسٹس افتخار چودھری اگر اس معاملے کا نوٹس لیں تو ہماری بچی گھر آجائے گی ۔میں ان دنوں اسلام آباد میں ایک اخبار کے ساتھ بطور رپورٹر منسلک تھا اور سپریم کورٹ کی بیٹ کور کرتا تھا ۔میرے کئی خبروں پر افتخار چودھری نے سوموٹو نوٹس لئے تھے اور اس بات سے مذکورہ متاثرہ خاندان واقف تھا ۔میں نے ان کو سمجھایا کہ اگر میں نے اس حوالے سے خبر فائل کی اور چیف جسٹس صاحب کو ترجمان کے ذریعے بھجوادی تو یہ معاملہ بہت دور تک چلا جائے گا اور آپ لوگوں کی زندگی مزید اجیرن بن جائے گی۔ یہ سننے کی دیر تھی کہ انہوں نے یوٹرن لیا اور کہا کہ بس ٹھیک ہے پولیس کی حد تک ہماری مدد کی جائے تو زیادہ بہتر ہوگا ۔بعدازاں وہ بچی خود ہی گھر آگئی تھی ۔
    سپریم کورٹ کی رپورٹنگ کی بات شروع ہوئی تو ایک دلچسپ واقعہ یہ بھی ہے ۔افتخار محمد چودھری ہی کے دور میں ایک بار میں سپریم کورٹ گیا ۔سبھی میں کورٹ روم نمبر 1 میں داخل ہی ہونے والا تھا کہ وہاں دروازے پر ترجمان سپریم کورٹ شاہد کمبو کے دفتر کا ایک آفس بوائے ملا، کیا کر رہے ہو، میں نے پوچھا، عبدالقیوم صدیقی صاحب سے ملنا ہے ،اس نے بتایا ، میں نے پوچھا کیا کام ہے ،صرف ان کو بتاونگا ،اس نے کہا ، پھر میں نے دیکھا کہ اس کے ہاتھ میں ایک فولڈ کیا ہوا کاغذ ہے ،میں سوچ میں پڑ گیا کہ اس ” خفیہ کاغذ” میں کیا ہوگا ؟ یہ مجھے دو میں دے دونگا صدیقی صاحب کو، میں نے کہا ، پھر اس نے بتایا کہ یہ کاغذ صرف صدیقی صاحب کو دینے کی ہدایت کی گئی ہے ، یہ ہدایت کس نے کی ہے ، میں نے ایک سوال جھاڑ دیا تو کہنے لگا کہ آپ کو بتانے کا پابند نہیں ہوں، آفس بوائے کا یہ جواب سن کر میں نے زبردستی وہ اس کے ہاتھ سے چھین لیا اور کورٹ روم نمبر ایک میں اندر گھس گیا ۔ اندر جاکر کاغذ کو پڑھا تو اس میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی جانب سے ایک معاملے پر سوموٹو نوٹس لینے کی خبر تھی جو پی آر آفس کی جانب سے آفس بوائے کو دی گئی تھی اور ہدایت کی گئی تھی کہ یہ صرف جیو کے رپورٹر کو دینی ہے ۔پھر وہ کاغذ میں نے قیوم صدیقی صاحب کو دیدیا اور شام کو آکر اخبار کیلئے وہی خبر فائل کردی۔
    یہ سب کچھ لکھنے کا مقصد اور کچھ نہیں،صرف یہی ہے کہ اس ملک کی اعلی عدالتوں میں صرف ٹکرز اور خبریں من پسند میڈیا چینلز اور اخبارات پر چلوانے کیلئے اگر ایسی حرکتیں ہوں گی تو پھر ہماری عدلیہ کیسے انصاف فراہم کر سکے گی؟انتظامیہ،سیاسی جماعتوں اور دیگر اداروں کو توہین عدالت کی کارروائی کے خوف میں مبتلا کرکے اپنی دھاک بٹھانے کی حرکتیں ہوں گی تو پھر ملک ترقی کیسے کرے گا ؟یہ اور اس کے علاوہ اور بہت کچھ ایسے معاملات ہیں جن کو موجودہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو دیکھنا ہوگا ،تین سالہ دور میں چیف جسٹس پاکستان کو صرف ایک نہیں، دو نہیں، درجن بھر بھی نہیں ،کئی چیلنجز کا سامنا ہے ، ملک کی ساری سیاسی جماعتوں کو لیول پلینگ فیلڈ کی فراہمی کا چیلنجز بھی درپیش ہوگا ،اور سب سے بڑھ کر عام آدمی کا عدالتوں پر اعتماد بحال کرنے کا چیلنج بھی درپیش ہے ۔ایسا نہیں کہ یہ چیلنجز حال ہی میں سامنے آئے ہیں بلکہ یہ گزشتہ کئی برسوں سے اعلیٰ عدلیہ کو درپیش ہیں لیکن سابقہ ادوار میں اپنی شہرت کے سبب اس طرف توجہ بالکل نہیں دی گئی ۔
    سب سے بڑھ کر موجودہ چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی سے حکمران اتحاد، اپوزیشن، دیگر ریاستی اداروں اور عام لوگوں کو کئی امیدیں ہیں ۔ایک اہم اور غور طلب بات جو ہمیشہ سے عام آدمی کا مسئلہ رہی ہے وہ یہ کہ ماتحت عدلیہ کو تباہی کرتی کرپشن کا خاتمہ بھی موجودہ چیف جسٹس کا سب سے بڑا چیلنج ہوگا ۔ اس کے ساتھ ساتھ ماتحت اور اعلیٰ عدلیہ میں پیسے دے کر کیسز لگوانا بھی ایک بڑا سنگین مسئلہ اور فوری انصاف کی فراہمی میں بڑی رکاوٹ ہے ۔ چیف جسٹس کو اس طرف بھی دیکھا ہوگا ۔سابقہ چیف جسٹسز کے ادوار میں بہت سوموٹو لئے گئے ۔مذکورہ سارے کام سوموٹو لئے بغیر بھی ممکن ہیں ۔ لیکن اس کیلئے ماتحت عدلیہ اور وکلا برادری کو ساتھ لیکر چلنا ہوگا لیکن ان پر یہ واضح کرنا بھی ضروری ہے کہ کرپشن کرنے والے ججز اور دیگر عملے کو کسی قسم کی معافی نہیں ملے گی۔وکلا برادری سے بھی یقین دہانی لینے ہوگی کہ وہ کسی کیس کو تاخیری حربوں کی نذر کرنے سے گریز کرینگے ۔جہاں تک حکومت اور سیاسی جماعتوں کی بات ہے ۔ان سے نمٹنا اعلیٰ عدلیہ کیلئے ناممکن نہیں ۔لیکن یہ اس صورت میں ہوگا جب چیف جسٹس اپنے ادارے کے تمام ججز کو ’’فیصلے بولتے ہیں‘‘ کا پابند بنائیں گے ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleپشاور، غیر قانونی پٹرول پمپس، تجاوزات اور رکشہ سٹینڈز کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ
    Next Article امن ہماری اولین ترجیح ہے اس پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    خون کا دامن اور زندگی کی امانت

    اپریل 28, 2026

    مہنگائی کا طوفان: عوامی زندگی پر بڑھتا دباؤ اور ممکنہ حل، تحریر: ثمن سرفراز

    اپریل 28, 2026

    ایران بمقابلہ امریکہ و اسرائیل: نتیجہ کیوں نہیں؟ ڈاکٹر حمیرا عنبرین

    اپریل 28, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    پی ایس ایل کوالیفائر میں اسلام آباد یونائٹڈ کو شکست، پشاور زلمی فائنل میں پہنچ گئی

    اپریل 28, 2026

    خون کا دامن اور زندگی کی امانت

    اپریل 28, 2026

    پاکستان کا مقامی طور پر تیار کردہ فتح II میزائل کا کامیاب تجربہ

    اپریل 28, 2026

    پاکستان یورپی یونین کے ساتھ تجارتی تعلقات اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری رکھے گا، وزیراعظم محمد شہباز شریف

    اپریل 28, 2026

    وزیراعظم شہباز شریف اور نیوزی لینڈ کے وزیراعظم کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلۂ خیال

    اپریل 28, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.