Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعہ, جون 19, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • خیبرپختونخوا حکومت: 19 جون کو مکمل سالانہ بجٹ پیش کرنےکا فیصلہ
    • ناپاک بھارتی کردار واضح، فتنہ الہندوستان بلوچستان کے امن و استحکام کا دشمن
    • بی ایل اے کی دہشت گردی علاقائی رابطوں اور عالمی تجارت کیلئے خطرہ قرار
    • پاکستانی تاجروں کے لیے خوشخبری، تفتان بارڈر پر پاک ایران تجارتی ویزا بحال
    • کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ دھرنا بری طرح فلاپ، باشعور عوامی مخالفت کا واضح ثبوت
    • زرعی اور صنعتی شعبوں کی پائیدار ترقی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، وزیر خزانہ
    • وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیرِ صدارت اجلاس، محرم جلوسوں اور مجالس کی سکیورٹی کا جائزہ
    • اسماعیل بقائی نے ایران امریکا معاہدے کی تصدیق کر دی، عمل درآمد کے لیے فوری مذاکرات کا اعلان
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » نئے چیف جسٹس کی تقرری سمیت آئینی ترمیم میں اور کیا ہے؟ تفصیلات جانیے
    اہم خبریں

    نئے چیف جسٹس کی تقرری سمیت آئینی ترمیم میں اور کیا ہے؟ تفصیلات جانیے

    اکتوبر 20, 2024کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    What else is there in the constitutional amendment, including the appointment of a new Chief Justice
    سود کو جنوری 2028 تک ملک سے مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔بل کا متن
    Share
    Facebook Twitter Email

    وفاقی  کابینہ  اور  پارلیمان  سے  منظور  ہونے  والے  26ویں آئینی ترمیم کا مسودہ متفقہ ہے، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی تقرری تین سال کے لیے کی جائے گی، یہ تقرری تین سینئر ترین ججوں میں سے کی جائے گی اور حکومتی اور اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ اور سینیٹ پر مشتمل 12رکنی کمیٹی دو تہائی اکثریت سے چیف جسٹس کا نام فائنل کر کے وزیراعظم کو بھیجے گی۔

    پارلیمان  سے  منظور  شدہ  مسودے  کے  مطابق   جے یو آئی کے سینیٹر کی جانب سے تجویز کردہ ترمیم میں کہا گیا تھا کہ سود کو جنوری 2028 تک ملک سے مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔

    ترمیمی بل میں سپریم کورٹ سمیت اعلیٰ عدالتوں میں ججز کی تعیناتی سے متعلق آرٹیکل 175 اے میں تبدیلی کی گئی ہے جس کے مطابق سپریم جوڈیشل کمیشن میں چیف جسٹس کے علاوہ سپریم کورٹ کے چار سینیئر ججز سمیت چار اراکین پارلیمنٹ بھی ہوں گے، جن میں سے ایک سینٹر اور ایک رکن قومی اسمبلی کا نام وزیر اعظم جبکہ ایک سینیٹر اور ایک رکن قومی اسمبلی کا نام قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف دیں گے۔

    اس بل کے مطابق ججز کی تقرری سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کے 12 ارکان ہوں گے جن میں سے آٹھ کا تعلق قومی اسمبلی جبکہ چار کا تعلق سینیٹ سے ہو گا۔

    بل کے مطابق سپریم کورٹ میں سینیئر جج کو بطور چیف جسٹس تعینات کرنے کی بجائے تین نام اس پارلیمانی کمیٹی کو بھیجے جائیں گے اور 12 رکنی کمیٹی ان ناموں میں سے ایک کو بطور چیف جسٹس تعینات کرنے کی سفارش کرے گی۔ جس کے بعد وزیر اعظم اس ضمن میں صدر کو نوٹیفکیشن جاری کرنے کی سفارش کریں گے۔

    سینیٹ سے منظور شدہ بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس کے عہدے کی مدت تین سال کے لیے ہو گی اور اگر کوئی چیف جسٹس اس عرصے کے لیے اپنی ریٹائرمنٹ کی عمر یعنی 65 سال تک نہیں پہنچتا تو پھر بھی اسے بطور چیف جسٹس تین سال کی مدت پوری ہونے کے بعد ہی ریٹائر سمجھا جائے گا۔

    اس بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر ہائیکورٹ کے کسی جج کی کارکردگی بہتر نہیں تو سپریم جوڈیشل کونسل اس جج کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے وقت دے گی اور اگر مقررہ مدت سے مذکورہ جج اپنی کارکردگی کو بہتر نہیں بناتا تو پھر یہ معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل ہی دیکھے گی جبکہ کونسل ججز کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے الگ سے بھی قواعد وضوابط تشکیل دے سکتی ہے۔

    اس بل میں سپریم کورٹ کے از خود نوٹس لینے کے اختیار سے متعلق موجود قانون 184 کی سب کلاز 3 میں ترمیم کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کسی بھی معاملے میں نہ کوئی نوٹس لے سکتی ہے اور نہ ہی کسی بھی ادارے کو کوئی ڈائریکشن دے سکتی ہے۔

    اس بل میں یہ بھی کہا گیا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے تحت قائم ہونے والی سپریم کورٹ کے ججز کی تین رکنی کمیٹی نوٹس لینے یا نہ لینے کے بارے میں فیصلہ کرے گی۔

    اس ترمیم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر سپریم کورٹ سمجھے کہ کسی ہائی کورٹ میں زیر سماعت مقدمے میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہور ہے تو وہ یہ مقدمہ کسی دوسری ہائیکورٹ میں بھی منتقل کر سکتی ہے۔

    اسی طرح بل میں آئین کے آرٹیکل 199 کے کلاز 1 میں بھی ترمیم کی گئی ہے اور اب اسے شق 1 اے کہا گیا ہے جو ہائی کورٹ کے از خود نوٹس کے اختیار سے متعلق ہے۔

    اس ترمیم میں کہا گیا ہے کہ ہائیکورٹ کسی بھی معاملے پر نہ کوئی از خود نوٹس لے سکتی ہے اور نہ کسی ادارے کو کوئی ہدایت دے سکتی ہے۔

    اسی طرح آئین کے آرٹیکل 203 ڈی میں ترمیم کی گئی ہے جس کے تحت کسی بھی ایپل کو متعلقہ اعلیٰ عدالت 12 ماہ کے اندر نمٹانے کی پابند ہے۔

     آئینی ترمیم میں آئین کی آرٹیکل 191 اے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ آرٹیکل آئینی بینچوں کی تشکیل سے متعلق ہے۔

    اس بل کے مطابق آئینی بینچوں کی تعداد اور ان کی مدت کا فیصلہ سپریم جوڈیشل کمیشن کرے گی۔ جوڈیشل کمیشن ان آئینی بینچوں میں تمام صوبوں سے تعلق رکھنے والے ججز کی برابر نمائندگی کو یقینی بنائے گا۔

    بل میں کہا گیا کہ اس آئینی بینچ کے پاس موجود اختیارات کسی دوسرے بینچ کو تفویض نہیں کیے جا سکتے۔

    اس ترمیم میں یہ بھی کہا گیا کہ ججز کی تعیناتی سے متعلق جوڈیشل کمیشن میں ہونے والی کارروائی ان کیمرا ہو گی تاہم اس ریکارڈ رکھا جائے گا۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleسینیٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور
    Next Article سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی سے بھی 26 ویں آئینی ترمیم کا بل منظور
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    خیبرپختونخوا حکومت: 19 جون کو مکمل سالانہ بجٹ پیش کرنےکا فیصلہ

    جون 18, 2026

    ناپاک بھارتی کردار واضح، فتنہ الہندوستان بلوچستان کے امن و استحکام کا دشمن

    جون 18, 2026

    بی ایل اے کی دہشت گردی علاقائی رابطوں اور عالمی تجارت کیلئے خطرہ قرار

    جون 18, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    خیبرپختونخوا حکومت: 19 جون کو مکمل سالانہ بجٹ پیش کرنےکا فیصلہ

    جون 18, 2026

    ناپاک بھارتی کردار واضح، فتنہ الہندوستان بلوچستان کے امن و استحکام کا دشمن

    جون 18, 2026

    بی ایل اے کی دہشت گردی علاقائی رابطوں اور عالمی تجارت کیلئے خطرہ قرار

    جون 18, 2026

    پاکستانی تاجروں کے لیے خوشخبری، تفتان بارڈر پر پاک ایران تجارتی ویزا بحال

    جون 18, 2026

    کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ دھرنا بری طرح فلاپ، باشعور عوامی مخالفت کا واضح ثبوت

    جون 18, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.