Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بدھ, اکتوبر 21, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کیلئے ووٹنگ 20 دسمبر کو ہوگی،الیکشن کمیشن نے شیڈول جاری کردیا
    • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
    • عرفات منہاس کا جادو چل گیا، پاکستان نے انگلینڈ کو 87 رنز سے شکست دے دی
    • خیبر اکیڈمی فار میڈیا ٹیکنالوجیز اور کیم ٹیک کے زیر اہتمام وفاقی اردو یونیورسٹی اسلام آباد میں اہم نشست کا انعقاد
    • دہشتگردی کے خاتمے کیلئے وزیراعظم تمام سیاسی جماعتوں کیساتھ بات کیلئے تیار ہیں، رانا ثنااللہ
    • خیبر پختونخوا میں سابقہ حکومت کی کرپشن کی کہانیوں کے منظر عام پر آنے کا سلسلہ جاری
    • پاکستان امریکا تجارتی معاہدے پر اہم پیش رفت، وزیر تجارت جام کمال خان سے امریکی ناظم الامور نٹالی اے بیکر کی ملاقات، تجارتی تعاون بڑھانے پر اتفاق
    • گورنر راج کے بعد پشاور میں سیکیورٹی سخت، پولیس گشت اور ناکہ بندیاں بڑھا دی گئیں
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • خاص خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » ڈی چوک احتجاج سے پی ٹی آئی نے کیا کھویا کیا پایا !
    بلاگ دسمبر 3, 2024

    ڈی چوک احتجاج سے پی ٹی آئی نے کیا کھویا کیا پایا !

    Facebook Twitter Email
    What has PTI lost and gained from the D Chowk protest
    کرم میں جھڑپوں کے دوران 132 افراد جاں بحق, 180 سے زائد زخمی ہیں لیکن صوبائی حکومت جرگہ جرگہ کھیل رہی ہے ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد( ارشد اقبال ناصح )  سنگجانی میں  پی ٹی آئی کے احتجاج کی ناکامی کا ثبوت  اس کے علاوہ اور کیا  ہے کہ چند روز گزرنے  کے بعد ہی دوبارہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو ڈی چوک میں’’ فائنل کال ‘‘ کا اعلان کرنا پڑا ۔اب تو ’’فائنل کال‘‘ بھی وڑ گئی اب کیا ہوگا؟ اس حوالے سے اب پی ٹی آئی  کے پاس کوئی لائحہ عمل یا حکمت عملی نہیں ہے ۔ مثال کے طور پر اگر ایک شخص کسی ماتحت عدلیہ کی کسی مقامی عدالت میں  کسی کا فیصلہ آجائے تو کیا وہ اپیل کیلئے سپریم کورٹ جانا پسند کرے گا؟بالکل نہیں ، متاثرہ شخص ہائیکورٹ سے رجوع کرے گا ، وہاں سے بھی اس کی مرضی کا فیصلہ نہیں آیا تو  اس کے پاس سپریم کورٹ جانے کا راستہ بھی موجود ہوگا ، لیکن اگر اس نے ہائیکورٹ کو بائی پاس کرکے سپریم کورٹ  سے رجوع کرلیا اور وہاں سے بھی اس کی مرضی کے مطابق فیصلہ نہ آیا تو پھر اس کے پاس سارے  راستے ختم ہو جایا کرتے ہیں ۔

    ’’ آ بیل مجھے مار ‘‘کے مصداق ڈی چوک میں فائنل کال کا اعلان کرکے  پی ٹی آئی نے خود اپنے پیروں پر کلہاڑی ماری ہے  اور اب ان کے پاس نہ صرف سارے راستے بند ہوگئے ہیں بلکہ رہی سہی کسر وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے بھی پور ی کردی ہے ۔ ڈی چوک احتجاج سے قبل  بھی  دوبار پرتشدد احتجاج ریکارڈ کئے گئے تھے اور دونوں مواقع پر وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اپنے کارکنوں کو چھوڑ کر نہ جانے کہاں غائب ہو گئے تھے ؟اس پر آض تک وہ خاموش ہیں۔ اس کے بعد   گنڈاپور کو بار بار پارٹی رہنماوں اور کارکنوں کی سخت تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا ۔ جس کے بعد بظاہر معلوم ہو رہا تھا کہ عمران خان کی جانب سے ’’فائنل کال‘‘ کے موقع پر علی امین گنڈاپور اپنی پارٹی کا لاج رکھیں گے اور کارکنوں کو بھی ڈی چوک میں آخر تک موجودگی کے بعد جواب مل جائے گا لیکن گنڈاپور نے فائنل کال کے موقع پر بھی اپنی روایت برقرار  رکھتے ہوئے  نہ صرف خود فرار ہوئے بلکہ پی ٹی آئی کے بقول کئی جاں بحق اور زخمی کارکنوں کو چھوڑ کر چل دیئے ۔

    ایک بات تو حقیقت ہے کہ اس بار گنڈاپور صاحب اکیلے فرار نہیں ہوئے بلکہ اڈیالہ جیل میں قید بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ کو بھی فرار کروانے میں کامیاب ہو گئے ۔اگر علی امین گنڈاپور اپنی  پارٹی کے بانی چیئرمین کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو اپنی گاڑی میں فرار نہ کرواتے تو اس دوران کچھ بھی ہو سکتا تھا ، بشریٰ بی بی ایک بار پھر گرفتار ہو سکتی تھی ،غائب ہو سکتی تھی ،بالکل ایسے ہی جیسے گزشتہ احتجاجوں کے دوران گنڈاپور صاحب خود کئی کئی گھنٹے غائب ہوئے تھے ،اگر بشریٰ بی بی کے ساتھ بھی ایسا کچھ ہوتا تو  وہ بانی کو جیل جاکر کیا منہ دکھاتے ۔

    اور اگر بشریٰ بی بی غائب ہو جاتی تو کیا علی امین گنڈاپور جیل میں بانی سے ملاقات کیلئے جانے کی جسارت کرتے؟ شائد کبھی نہیں ۔یہ ساری چیزین علی امین گنڈاپور کو معلوم تھیں اس لئے وہ پارٹی قیادت  اور کارکنوں کی سخت  تنقید کو خاطر میں نہ لاکر شیر کے منہ سے  نوالہ چھین کر ڈی چوک سے بشریٰ بی بی کو گاڑی میں بٹھاکر فرار ہوئے ۔ویسے بھی محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز ہے ۔ یہاں معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا ۔ ایک طرف بشریٰ بی بی کی سربراہی میں خیبر پختونخوا حکومت  کی وفاقی حکومت سے جنگ جاری تھی اور دوسری جانب علی امین گنڈاپور کو اپنے قائد سے محبت بھی ہے ۔ اس لئے ڈی چوک میں فرار ہونے کو گنڈاپور نے غنیمت جانا اور فرار ہونے کو ہی عافیت سمجھا ۔

    اب اگر بات کی جائے کہ تحریک انصاف نے ’’فائنل کال‘‘ کا شوق  پورا کرکے کیا کھویا اور کیا پایا  تو ہمارا خیال ہے کہ پی ٹی آئی کو گزشتہ احتجاجوں کی طرح  ڈی چوک کے پرتشدد احتجاج  سے بھی کچھ ہاتھ نہ آیا البتہ ان کے پاس اب احتجاج کے سارے راستے بند ہو چکے ہیں ۔ اسی لئے گزشتہ روز جب  سوشل میڈیا پریہ خبر سامنے آئی کہ پی ٹی آئی نے  ایک بارپھر اسلام آباد میں احتجاج کا اعلان کیا تو پی ٹی آئی کی جانب سے فوری اس خبر کی تردید کردی گئی کہ ایسا کوئی اعلان نہیں ہوا ۔

    علی امین گنڈاپور کو خیبرپختونخوا کے عوام کے اصل مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ضلع کرم میں قبائلی جھڑپوں کے دوران 132 افراد جاں بحق ہوئے ہیں اور 180 سے زائد زخمی ہیں لیکن صوبائی حکومت وہاں صرف جرگہ جرگہ کھیل رہی ہے اور ابھی تک اس بدقسمت ضلع میں حالات معمول پر نہیں آ سکے ہیں ۔اگر اب بھی صوبے کے بنیادی مسائل پر توجہ نہ دی گئی تو صوبے کے عوام متنفر ہونگے اور پھر صوبے کی سیاست میں ان کا نام و نشان بھی نہیں رہے گا ۔ عمران خان جیل میں ہیں تو احتجاج کرنے ، وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ پر دباو بڑھانے سے وہ کبھی رہا نہیں ہو سکیں گے بلکہ اس طرح کے پر تشدد  احتجاج سے خان صاحب کی مشکلات  میں مزید اضافہ ہوگا  اور یہی چیز خود علی امین گنڈاپور اور دیگر پارٹی قیادت کو سوچنا ہوگی۔ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت خود نہیں چاہتی کہ  وہ جیل سے رہا ہو جائیں  کیونکہ  اگر خان صاحب  جیل سے رہا ہوگئے تو پھر ان کی سیاسی دکانداری ختم ہو جائے گی ۔اسی خوف کی وجہ سے پی ٹی آئی قیادت پرامن احتجاج کی کال پر بھی پرتشدد احتجاج کرتے ہیں اوربانی  کی مشکلات میں اضافہ کرتے ہیں ۔

     

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleپاکستان اور روس کے درمیان دو طرفہ رابطوں کے فروغ پر مثبت بات چیت
    Next Article وفاقی حکومت گلگت بلتستان کے عوام کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے،وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    خیبرپختونخوا میں سیاسی و آئینی کشمکش: گورنر راج اور ایمرجنسی میں فرق اور صدر مملکت کے اختیارات!

    اکتوبر 5, 2026

    جب عوامی آوازیں دبتی ہیں، تو ریاستیں لرزتی ہیں. تحریر: قریش خٹک

    ستمبر 22, 2026

    پمز سانحے کے اصل حقائق

    اگست 26, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کیلئے ووٹنگ 20 دسمبر کو ہوگی،الیکشن کمیشن نے شیڈول جاری کردیا

    اکتوبر 21, 2026

    پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا

    اکتوبر 20, 2026

    عرفات منہاس کا جادو چل گیا، پاکستان نے انگلینڈ کو 87 رنز سے شکست دے دی

    اکتوبر 20, 2026

    خیبر اکیڈمی فار میڈیا ٹیکنالوجیز اور کیم ٹیک کے زیر اہتمام وفاقی اردو یونیورسٹی اسلام آباد میں اہم نشست کا انعقاد

    اکتوبر 20, 2026

    دہشتگردی کے خاتمے کیلئے وزیراعظم تمام سیاسی جماعتوں کیساتھ بات کیلئے تیار ہیں، رانا ثنااللہ

    اکتوبر 20, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.