Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, جنوری 29, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • وادی تیراہ میں کوئی فوجی آپریشن نہیں، صرف نیشنل ایکشن پلان کے تحت کارروائیاں جاری ہیں: طلال چودھری
    • کوہستان اسکینڈل: نیب کی یکمشت 4 ارب 5 کروڑ روپے کی ریکوری قومی خزانے میں جمع
    • سوات: تعلیمی اداروں کیلئے تھریٹ الرٹ جاری، سکیورٹی انتظامات مزید مؤثر بنانے کیلئے رابطہ تیز
    • ایران کے ساتھ کشیدگی، امریکی بحری بیڑا مشرقِ وسطیٰ پہنچ گیا
    • ملکی بحران اور حکومتی شاہ خرچیاں
    • بنوں میں عسکریت پسندوں کے ٹیکنالوجی سے لیس حملے
    • لکی مروت: پولیس چھاپے کے دوران ایس ایچ او زخمی، عباسہ خٹک میں سولر ٹیوب ویل پر دھماکہ
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخواہ
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » نام میں کیا رکھا ہے؟
    بلاگ

    نام میں کیا رکھا ہے؟

    ستمبر 25, 2024کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    What's in the names
    ہمارے پختونوں کے اصل نام جو کبھی ہوا کرتے تھے اب معدوم یا غائب ہوچکے ہیں۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    شمس مہمند صاحب کی تحریر جس میں وہ جملوں اور لفظوں کی درستگی فرمارہے تھے کو پڑھنے کے بعد ہم میں بھی استادی صلاحیتیں کروٹیں لینے لگیں یا یوں سمجھیں کہ بس خود کو استاد استاد محسوس کرنے لگے ہیں،اس لئے سوچا کہ کیوں نا آج ناموں پر اور خاص کر پختوں ناموں پر زور آزمائی یا قلم آزمائی کرلوں؟ویسے قلم بے چارہ بھی پینٹروں اور خطاطوں کی طرح بس نام کا ہی رہ گیا ہے کیونکہ کمپیوٹر کے کی بورڈ نے قلم کو بھی بے روزگار کردیاہے اس لئے آج کے صحافی قلم کے مزدور کی بجائے کمپیوٹر کے مزدور بھی لکھ سکتے ہیں۔

    ہمارے پختونوں کے اصل نام جو کبھی  ہوا کرتے تھے اب معدوم یا غائب ہوچکے ہیں،ہم نے بہت پہلے سے عربی ناموں کو اپنایا ہے اگرچہ تاریخی طور پر ہمارا کلچر اسلام سے پہلے تھا،لیکن ہمارے نام اسلامی نام ہوگئے،جیسے موسی،عیسی،ابراہیم،کلیم اللہ اگرچہ ہم ان ناموں کے ساتھ بھی خان لگا دیتے ہیں جیسے موسی خان،ہمارے اپنے نام جیسے گل ورین،خان گل،شیرخان،دلاورخان،شمشیرخان،سمندرخان یا قوت خان اب زیادہ نہیں رہے،البتہ افغانستان کے پختون بیلٹ میں خواتین کے نام اب بھی وہی پشتونوں کے نام ہیں جیسے زرغونہ بی بی،چابکہ،گل مکئی،شین خالئی،نازکہ یا بی بی شیرینہ،اس کے علاوہ ہم میں پنجابی کلچر بھی مکس آیا ہے میرا ایک  بھانجا ہے جو خالص پشتون اور وزیرستان کے وزیر قبائل سے ہے ان کا نام راجہ اشفاق رکھا گیاہے جبکہ والد کا نام سمندرخان دتہ خیل ہے اسی طرح میں ایک چودھری سلیم خان نامی پشتون کو بھی جانتاہوں،اب راجہ اور چودھری تو پنجابیوں میں ہی ہوا کرتے ہیں،ہمارے ہاں تو خان اور نواب ہی ہوا کرتے تھے بلکہ نام بھی اکثر نواب خان ہی رکھے جاتے ہیں۔

    اب ناموں کی شخصیتوں سے تعلق پر اگر بات کی جائے تو بھی کچھ عجیب صورتحال ہے،مثلا ہمارا ایک بہت ہی پیارا اور ہر دلعزیز صحافی و شاعر دوست میاں فاروق فراق صاحب ہیں،اب فراق کا نام ذہن میں آتے ہی ایسا لگتا ہے کہ فراق نام کا بندہ بہت ہی کمزور ہوگا،وزن نہ ہونے کے برابر ہوگا لیکن ماشاءاللہ ہمارے فراق صاحب کافی صحت مند اور وزن دار ہیں،شمس مہمند اور عقیل یوسفزئی کی شخصیتوں کا تعلق اپنے اپنے ناموں کے ساتھ ایسا جوڑ رکھتے ہیں کہ شمس مہمند کا چہرہ شمس یعنی سورج کی طرح صاف و شفاف جبکہ عقیل کا تعلق عقل سے بنتا ہے اس لئے عقل بے چاری ہمیشہ ہی سوچتی  رہتی ہے اس لئے ان کی صحت بھی کمزور لیکن ماشاءاللہ تندرست ہیں،اسی طرح ہمارے ایک دوست شاعر کا تخلص ساقی ہے،ساقی مطلب شراب پلانے والا ،اس دور میں جب ٹھرے کی بوتل بھی تین چار ہزار روپے میں مشکل سے ملتی ہے وہ شراب پلانا تو دور کی بات کسی کو قہوہ پلانے سے بھی رہا لیکن نام ساقی رکھا ہے،اس کے علاوہ ہمارا ایک سنگر عابد تخلص اختیارکرچکاہے لیکن مجال ہے کہ دوسرے عابدوں والی عبادت تو درکنار کسی نے پانچ وقت کی نماز میں اسے دیکھا ہو،اسی طرح گلزار نامی شاعر کا چہرہ کسی افریقی ریگستان جیسا ہی ہے،یا ہمارے احمد فراز مرحوم کےقد کو اگر نام کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو اس کےقد شروع ہوتے ہی ختم ہوجاتی البتہ شاعری میں وہ نہایت ہی فراز تھے،اسی طرح طوفان نامی شاعر کو ہمیشہ سوتے ہوئے اور نہایت سست پایا ہے جب بھی اسے دیکھا ہے،سیلاب نامی شاعر کو بھی اتنا خشک مزاج پایا تھا کہ ہر لفظ سے خشکی ٹھپکتی تھی،سنجیدہ نامی شاعر کو ہمیشہ مزاحیہ شاعری کرتے دیکھا ہے،اچھا ایک دوسرا غمخوار نامی شاعر کو اتنا خود غرض پایا ہے کہ دوسروں کا کیا کبھی  خود کے غم بھی کرتے نہیں دیکھا ہے،اس کا اندازہ آپ اس سے بھی لگا سکتے ہیں کہ ہمارے عظیم شاعر خان خوشحال خٹک قوم کے  درد میں خفا اور پریشان رہتے تھے جبکہ پریشان خٹک کو کسی نے کبھی پریشان دیکھا ہی نہیں تھا،بس شائد یہ ہماری قسمت ہی ہے کہ مخلص کو کام چور اور دانا صاحب کو بے وقوف ہی پایا ہے،مطلب ایک نام تو چلو ماں باپ نے رکھا جسے قبول کرنا چاہیے لیکن ہم خود جو تخلص اپنی مرضی سے خود کے لئے پسند کرتے ہیں وہ بھی اکثر اوقات شخصیت کے بالکل الٹ ہوتا ہے،برعکس ہوتاہے یا ملاوٹ شدہ،یقین کریں کہ ہم نے اپنی ان گناہنگار آنکھوں سے وفا صاحب کو دنیا کے بے وفا ترین انسان کی شکل میں بھی دیکھا ہے جو کئی کئی محبوبائیں رکھ کر بھی سب کو وفا کا اور اکیلی محبوبہ کا یقین دلاتا رہا،ان حالات میں شعر وادب خاک ترقی کریگا؟ہم نے تو ترقی پسند تحریکوں میں اس قدر تنگ نظر دیکھے ہیں کہ اپنی تنظیم میں کسی نئے امیدوار کو قبول کرتے وقت ایسا برتاو کرتے جیسے وہ اپنی جائیداد میں حصہ دیتے، قلم یار کو خود سے بیزار اور عوام دوست کو عوام دشمن ہی پایاہے،اسی طرح سیاست میں نڈر کو ڈرپوک اور صاف و شفاف کردار کے مالک کو نہایت گھٹیا پایاہے،بچپن میں نڈر کےمعنی معلوم کرنے کے لئے دو تین ڈکشنریاں چھان ماری تھیں۔

    بہرحال اس لئے ہی تو کسی نے کہاہوگا کہ نام میں کیا رکھاہے مطلب صاف ظاہر ہے کہ نام میں اکثر لوگ خود کے ساتھ اور بھی بہت کچھ چھپاتے ہیں،جیسے نام رخسار یا حسینہ اور چہرہ کسی افریقی زرسانگہ کی طرح ہوتا ہے،مہ جبین ہمیشہ کالی ہی دیکھی ہے سوائے ایک ہماری سنگر مرحومہ مہ جبین کو۔

    اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleبرین واشنگ کرکے ورغلایا گیا، تربت سے گرفتار خودکش بمبار خاتون کے انکشافات
    Next Article پنجاب آکر قانون توڑو گے تو منہ توڑ جواب ملے گا، مریم نواز کی گنڈاپور کو وارننگ
    Rashid Afaq
    • Website

    Related Posts

    ملکی بحران اور حکومتی شاہ خرچیاں

    جنوری 27, 2026

    بنوں میں عسکریت پسندوں کے ٹیکنالوجی سے لیس حملے

    جنوری 27, 2026

    جنوری 26, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    وادی تیراہ میں کوئی فوجی آپریشن نہیں، صرف نیشنل ایکشن پلان کے تحت کارروائیاں جاری ہیں: طلال چودھری

    جنوری 28, 2026

    کوہستان اسکینڈل: نیب کی یکمشت 4 ارب 5 کروڑ روپے کی ریکوری قومی خزانے میں جمع

    جنوری 28, 2026

    سوات: تعلیمی اداروں کیلئے تھریٹ الرٹ جاری، سکیورٹی انتظامات مزید مؤثر بنانے کیلئے رابطہ تیز

    جنوری 28, 2026

    ایران کے ساتھ کشیدگی، امریکی بحری بیڑا مشرقِ وسطیٰ پہنچ گیا

    جنوری 27, 2026

    ملکی بحران اور حکومتی شاہ خرچیاں

    جنوری 27, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.