Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بدھ, مارچ 25, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • ایشیا کپ 2022 میں نسیم شاہ کے چھکوں کے بعد افغان شہریوں نے خودکشی کی تھی، رحمان اللہ گرباز کا انکشاف
    • حج 2026 کے لئے پروازوں کا شیڈول جاری کردیا گیا
    • پی آئی اے کا 6 سال بعد لندن کیلیے براہ راست فلائٹ آپریشن؛ پہلی پرواز 29 مارچ کو اسلام آباد سے روانہ ہو گی
    • پشاور: تھانہ بڈھ بیر کی حدود میں فائرنگ، دو نوجوان قتل، پڑوسی دل کا دورہ پڑنے سے جاں بحق
    • وزیراعظم سے بلاول بھٹو کی ملاقات، عالمی امن کیلیے پاکستان کی سفارتی کاوشوں پر تبادلہ خیال
    • وزیراعظم شہبازشریف کا سعودی ولی عہد سے رابطہ، خطے میں امن کیلیے پاکستان کی کوششوں سے آگاہ کیا
    • خلیج میں اصل کشمکش. تحریر: ڈاکٹر حمیرا عنبرین
    • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے بوجھ کو کم سے کم رکھا جائے، صدر مملکت کی ہدایت
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز کی مخالفت کیوں ؟
    بلاگ

    دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز کی مخالفت کیوں ؟

    جنوری 19, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Why oppose operations against terrorists
    سوات میں ملا فضل اللہ اور ان کی تنظیم سمیت دیگر دہشتگردوں کا خاتمہ آپریشنز سے ہی ممکن ہوا ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ  دہشتگردوں کا صفایا سیکیورٹی فورسز کے آپریشنز سے ہی ممکن ہے ، بار بار ان بدبختوں سے مذاکرات کی بات کی جاتی ہے لیکن کیا کسی نے یہ سوچا ہے کہ مذاکرات ان سے کئے جاتے ہیں جو ملکی قانون کو تسلیم کرتے ہوں، یہ بات الگ ہے کہ ان دہشتگردوں کے ساتھ ماضی میں مذاکرات کئے گئے ، ہماری نظر میں  یہ ماضی میں ہوئے مذاکرات کا تلخ تجربہ ہی ہے کہ  اب ان کیساتھ مذاکرات نہ کئے جائیں ، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ پاکستان کو تسلیم نہیں کرتے ، وطن عزیز کے اداروں ، قوانین اور سب سے بڑھ کر وہ پاک فوج کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ، ایسی حالت میں ان کے ساتھ مذاکرات کیسے کئے جا سکتے ہیں ؟

    ہاں اگر وہ  سب سے پہلے پاکستان کو تسلیم کریں، آئین اور ملکی قوانین، ریاستوں اداروں کو تسلیم کریں، یہ بھی مانیں کہ انہوں نے جو راستہ چنا ہے وہ بالکل غلط ہے اور کسی صورت اس راستے کی حمایت نہیں کی جا سکتی ۔تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ آپریشنز سے جس حد تک بچنا ممکن ہو بچا جائے لیکن اگر اس کے بغیر کوئی دوسرا راستہ بھی نہ ہو تو پھر آپریشنز ناگزیرہوجایا کرتے ہیں ۔

    2008 سے 2013 تک خیبر پختونخوا میں عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت رہی ، اس دور میں بھی دہشتگردی اپنے عروج پر تھی  اور سب سے زیادہ نقصان بھی سیاسی جماعتوں میں عوامی نیشنل پارٹی اور ان کے رہنماوں کا ہی ہوا ، لیکن انہوں نے پھر بھی دہشتگردوں کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کیا اور کھل کر آپریشنز کی نہ صرف اجازت دی بلکہ یہ انہی آپریشنز کا ہی نتیجہ تھا کہ صوبے میں بعد ازاں امن قائم ہوا، سوات میں ملا فضل اللہ اور ان کی تنظیم سمیت دیگر دہشتگردوں کا خاتمہ آپریشنز سے ہی ممکن ہوا ۔ اس سے قبل ان کے ساتھ مذاکرات کی باتیں ہوئیں، مذاکرات ہوئے بھی لیکن کہیں بھی مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے ۔

    تحریک انصاف  اور خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی بھی آپریشنز کی مخالفت کررہے ہیں لیکن اگر آپریشنز نہیں ہونگے تو دہشتگردوں کا خاتمہ کیسے ہوگا ؟ اس پر وہ جواب دیتے ہیں اور نہ ہی ان کے پاس دوسرا کوئی راستہ ہے ۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی پریس کانفرنس میں بالکل درست بات کہی کہ تحریک انصاف پر ابھی تک دہشتگردوں نے حملے نہیں کئے ، مطلب پی ٹی آئی دہشتگردی سے متاثرہ سیاسی جماعتوں میں شامل نہیں ، اگر خدانخواستہ ایسا ہو تو پھر وہ خود بھی عوامی نیشنل پارٹی کی طرح دہشتگردوں کے خاتمے کیلئے آپریشنز ہی کی حمایت کریگی ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ دہشتگردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ، کیونکہ کسی بھی مذہب میں بے گناہ لوگوں کو مارنا سب سے بڑا جرم ہے ، اور دہشتگرد یہ جرم بار بار کرتے ہیں اور پھر بھی تحریک انصاف ان سے مذاکرات اوران کے خاتمے کیلئے آپریشنز کی مخالفت کرتی ہے ۔

    دوسری اہم بات یہ کہ ملک کی تمام چھوٹی بڑی  سیاسی جماعتیں  اور ان کے قائدین دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز کے حامی ہیں لیکن ایک سیاسی جماعت جی ہاں صرف ایک سیاسی جماعت آپریشنز کی مخالفت کر رہی ہے ۔ آج اگر پی ٹی آئی خیبر سے کراچی اور حیدر آباد سے پنجاب تک سڑکوں پر احتجاج اور جلسے منعقد کر رہی ہے تو یہ بھی ماضی اور موجودہ وقت میں دہشتگردوں کے خلاف جاری آپریشنز ہی کا نتیجہ ہے ۔

    اہم بات تو یہ بھی ہے کہ اگر پی ٹی آئی اور سہیل آفریدی صاحب کو دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر تحفظات ہیں تو وہ وفاقی حکومت سے اس حوالے سے بات کیوں نہیں کر رہے ؟ وہ مخالفت کر رہے ہیں لیکن صرف اپنے سیاسی اجتماع، اجلاسوں، پریس کانفرنسنز  اور میڈیا ٹاکس میں ، وفاق سے بات کرنے کیلئے وہ تیار نہیں ، تو کیا ایسے میں آپریشنز نہیں ہونگے؟  بالکل ہونگے  بلکہ آج بھی ہو رہے ہیں اور کل بھی جاری رہیں گے  اور تب تک جاری رہیں گے جب تک وطن عزیز میں امن کے قیام کا خواب پورا نہیں ہوگا ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleانڈر 19 ورلڈ کپ، پاکستان نے سکاٹ لینڈ کو 6 وکٹوں سے ہرادیا،جنوبی افریقہ اور سری لنکا بھی کامیاب
    Next Article کراچی سانحہ، جاں بحق افراد کی تعداد 26 ہوگئی، 83 افراد لاپتہ،ریسکیو کارروائیاں جاری
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    خلیج میں اصل کشمکش. تحریر: ڈاکٹر حمیرا عنبرین

    مارچ 25, 2026

    رومانیہ نے پاکستان کے قومی ترانے کا پہلا پیشہ ورانہ کورل انتظام پیش کر دیا،تاریخی ثقافتی سنگ میل، دونوں ممالک کی دوستی کا مظہر

    مارچ 24, 2026

    مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے خاتمے میں پاکستان کا اہم کردار

    مارچ 23, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    ایشیا کپ 2022 میں نسیم شاہ کے چھکوں کے بعد افغان شہریوں نے خودکشی کی تھی، رحمان اللہ گرباز کا انکشاف

    مارچ 25, 2026

    حج 2026 کے لئے پروازوں کا شیڈول جاری کردیا گیا

    مارچ 25, 2026

    پی آئی اے کا 6 سال بعد لندن کیلیے براہ راست فلائٹ آپریشن؛ پہلی پرواز 29 مارچ کو اسلام آباد سے روانہ ہو گی

    مارچ 25, 2026

    پشاور: تھانہ بڈھ بیر کی حدود میں فائرنگ، دو نوجوان قتل، پڑوسی دل کا دورہ پڑنے سے جاں بحق

    مارچ 25, 2026

    وزیراعظم سے بلاول بھٹو کی ملاقات، عالمی امن کیلیے پاکستان کی سفارتی کاوشوں پر تبادلہ خیال

    مارچ 25, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.