یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ دہشتگردوں کا صفایا سیکیورٹی فورسز کے آپریشنز سے ہی ممکن ہے ، بار بار ان بدبختوں سے مذاکرات کی بات کی جاتی ہے لیکن کیا کسی نے یہ سوچا ہے کہ مذاکرات ان سے کئے جاتے ہیں جو ملکی قانون کو تسلیم کرتے ہوں، یہ بات الگ ہے کہ ان دہشتگردوں کے ساتھ ماضی میں مذاکرات کئے گئے ، ہماری نظر میں یہ ماضی میں ہوئے مذاکرات کا تلخ تجربہ ہی ہے کہ اب ان کیساتھ مذاکرات نہ کئے جائیں ، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ پاکستان کو تسلیم نہیں کرتے ، وطن عزیز کے اداروں ، قوانین اور سب سے بڑھ کر وہ پاک فوج کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ، ایسی حالت میں ان کے ساتھ مذاکرات کیسے کئے جا سکتے ہیں ؟
ہاں اگر وہ سب سے پہلے پاکستان کو تسلیم کریں، آئین اور ملکی قوانین، ریاستوں اداروں کو تسلیم کریں، یہ بھی مانیں کہ انہوں نے جو راستہ چنا ہے وہ بالکل غلط ہے اور کسی صورت اس راستے کی حمایت نہیں کی جا سکتی ۔تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ آپریشنز سے جس حد تک بچنا ممکن ہو بچا جائے لیکن اگر اس کے بغیر کوئی دوسرا راستہ بھی نہ ہو تو پھر آپریشنز ناگزیرہوجایا کرتے ہیں ۔
2008 سے 2013 تک خیبر پختونخوا میں عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت رہی ، اس دور میں بھی دہشتگردی اپنے عروج پر تھی اور سب سے زیادہ نقصان بھی سیاسی جماعتوں میں عوامی نیشنل پارٹی اور ان کے رہنماوں کا ہی ہوا ، لیکن انہوں نے پھر بھی دہشتگردوں کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کیا اور کھل کر آپریشنز کی نہ صرف اجازت دی بلکہ یہ انہی آپریشنز کا ہی نتیجہ تھا کہ صوبے میں بعد ازاں امن قائم ہوا، سوات میں ملا فضل اللہ اور ان کی تنظیم سمیت دیگر دہشتگردوں کا خاتمہ آپریشنز سے ہی ممکن ہوا ۔ اس سے قبل ان کے ساتھ مذاکرات کی باتیں ہوئیں، مذاکرات ہوئے بھی لیکن کہیں بھی مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے ۔
تحریک انصاف اور خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی بھی آپریشنز کی مخالفت کررہے ہیں لیکن اگر آپریشنز نہیں ہونگے تو دہشتگردوں کا خاتمہ کیسے ہوگا ؟ اس پر وہ جواب دیتے ہیں اور نہ ہی ان کے پاس دوسرا کوئی راستہ ہے ۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی پریس کانفرنس میں بالکل درست بات کہی کہ تحریک انصاف پر ابھی تک دہشتگردوں نے حملے نہیں کئے ، مطلب پی ٹی آئی دہشتگردی سے متاثرہ سیاسی جماعتوں میں شامل نہیں ، اگر خدانخواستہ ایسا ہو تو پھر وہ خود بھی عوامی نیشنل پارٹی کی طرح دہشتگردوں کے خاتمے کیلئے آپریشنز ہی کی حمایت کریگی ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ دہشتگردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ، کیونکہ کسی بھی مذہب میں بے گناہ لوگوں کو مارنا سب سے بڑا جرم ہے ، اور دہشتگرد یہ جرم بار بار کرتے ہیں اور پھر بھی تحریک انصاف ان سے مذاکرات اوران کے خاتمے کیلئے آپریشنز کی مخالفت کرتی ہے ۔
دوسری اہم بات یہ کہ ملک کی تمام چھوٹی بڑی سیاسی جماعتیں اور ان کے قائدین دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز کے حامی ہیں لیکن ایک سیاسی جماعت جی ہاں صرف ایک سیاسی جماعت آپریشنز کی مخالفت کر رہی ہے ۔ آج اگر پی ٹی آئی خیبر سے کراچی اور حیدر آباد سے پنجاب تک سڑکوں پر احتجاج اور جلسے منعقد کر رہی ہے تو یہ بھی ماضی اور موجودہ وقت میں دہشتگردوں کے خلاف جاری آپریشنز ہی کا نتیجہ ہے ۔
اہم بات تو یہ بھی ہے کہ اگر پی ٹی آئی اور سہیل آفریدی صاحب کو دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر تحفظات ہیں تو وہ وفاقی حکومت سے اس حوالے سے بات کیوں نہیں کر رہے ؟ وہ مخالفت کر رہے ہیں لیکن صرف اپنے سیاسی اجتماع، اجلاسوں، پریس کانفرنسنز اور میڈیا ٹاکس میں ، وفاق سے بات کرنے کیلئے وہ تیار نہیں ، تو کیا ایسے میں آپریشنز نہیں ہونگے؟ بالکل ہونگے بلکہ آج بھی ہو رہے ہیں اور کل بھی جاری رہیں گے اور تب تک جاری رہیں گے جب تک وطن عزیز میں امن کے قیام کا خواب پورا نہیں ہوگا ۔

