Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    پیر, ستمبر 7, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • پاسکو اور یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کی بندش کے عمل میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرصدارت اجلاس
    • شزہ فاطمہ خواجہ کی LEAP 2026 میں شرکت، ٹیک ڈیسٹنیشن پاکستان پویلین کا افتتاح
    • پاک چین میڈیا تعاون ایشیا بحرالکاہل میں مشترکہ خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے،ڈاکٹر شذرہ منصب علی
    • سٹاک ایکسچینج: عام شہریوں کی شرکت سے معاشی ترقی تیز ہو سکتی ہے، یوسف رضا گیلانی
    • ویمنز ایشیا کپ: آئی سی سی نے قومی ٹیم کی کپتان فاطمہ ثناء پرجرمانہ عائد کردیا
    • خیبر پختونخوا میں عدالتوں کے ایک دن کے بائیکاٹ سےعوام کے 12 کروڑ روپے ضائع ہوتے ہیں، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ
    • بھارت کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے حصول کیلئے اپنے وعدے پورے کرے، پاکستان
    • مادرِ وطن کا دفاع مقدس امانت ہے، ثابت قدمی سے نبھاتے رہیں گے: ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز کی مخالفت کیوں ؟
    بلاگ جنوری 19, 2026

    دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز کی مخالفت کیوں ؟

    Facebook Twitter Email
    Why oppose operations against terrorists
    سوات میں ملا فضل اللہ اور ان کی تنظیم سمیت دیگر دہشتگردوں کا خاتمہ آپریشنز سے ہی ممکن ہوا ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ  دہشتگردوں کا صفایا سیکیورٹی فورسز کے آپریشنز سے ہی ممکن ہے ، بار بار ان بدبختوں سے مذاکرات کی بات کی جاتی ہے لیکن کیا کسی نے یہ سوچا ہے کہ مذاکرات ان سے کئے جاتے ہیں جو ملکی قانون کو تسلیم کرتے ہوں، یہ بات الگ ہے کہ ان دہشتگردوں کے ساتھ ماضی میں مذاکرات کئے گئے ، ہماری نظر میں  یہ ماضی میں ہوئے مذاکرات کا تلخ تجربہ ہی ہے کہ  اب ان کیساتھ مذاکرات نہ کئے جائیں ، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ پاکستان کو تسلیم نہیں کرتے ، وطن عزیز کے اداروں ، قوانین اور سب سے بڑھ کر وہ پاک فوج کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ، ایسی حالت میں ان کے ساتھ مذاکرات کیسے کئے جا سکتے ہیں ؟

    ہاں اگر وہ  سب سے پہلے پاکستان کو تسلیم کریں، آئین اور ملکی قوانین، ریاستوں اداروں کو تسلیم کریں، یہ بھی مانیں کہ انہوں نے جو راستہ چنا ہے وہ بالکل غلط ہے اور کسی صورت اس راستے کی حمایت نہیں کی جا سکتی ۔تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ آپریشنز سے جس حد تک بچنا ممکن ہو بچا جائے لیکن اگر اس کے بغیر کوئی دوسرا راستہ بھی نہ ہو تو پھر آپریشنز ناگزیرہوجایا کرتے ہیں ۔

    2008 سے 2013 تک خیبر پختونخوا میں عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت رہی ، اس دور میں بھی دہشتگردی اپنے عروج پر تھی  اور سب سے زیادہ نقصان بھی سیاسی جماعتوں میں عوامی نیشنل پارٹی اور ان کے رہنماوں کا ہی ہوا ، لیکن انہوں نے پھر بھی دہشتگردوں کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کیا اور کھل کر آپریشنز کی نہ صرف اجازت دی بلکہ یہ انہی آپریشنز کا ہی نتیجہ تھا کہ صوبے میں بعد ازاں امن قائم ہوا، سوات میں ملا فضل اللہ اور ان کی تنظیم سمیت دیگر دہشتگردوں کا خاتمہ آپریشنز سے ہی ممکن ہوا ۔ اس سے قبل ان کے ساتھ مذاکرات کی باتیں ہوئیں، مذاکرات ہوئے بھی لیکن کہیں بھی مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے ۔

    تحریک انصاف  اور خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی بھی آپریشنز کی مخالفت کررہے ہیں لیکن اگر آپریشنز نہیں ہونگے تو دہشتگردوں کا خاتمہ کیسے ہوگا ؟ اس پر وہ جواب دیتے ہیں اور نہ ہی ان کے پاس دوسرا کوئی راستہ ہے ۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی پریس کانفرنس میں بالکل درست بات کہی کہ تحریک انصاف پر ابھی تک دہشتگردوں نے حملے نہیں کئے ، مطلب پی ٹی آئی دہشتگردی سے متاثرہ سیاسی جماعتوں میں شامل نہیں ، اگر خدانخواستہ ایسا ہو تو پھر وہ خود بھی عوامی نیشنل پارٹی کی طرح دہشتگردوں کے خاتمے کیلئے آپریشنز ہی کی حمایت کریگی ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ دہشتگردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ، کیونکہ کسی بھی مذہب میں بے گناہ لوگوں کو مارنا سب سے بڑا جرم ہے ، اور دہشتگرد یہ جرم بار بار کرتے ہیں اور پھر بھی تحریک انصاف ان سے مذاکرات اوران کے خاتمے کیلئے آپریشنز کی مخالفت کرتی ہے ۔

    دوسری اہم بات یہ کہ ملک کی تمام چھوٹی بڑی  سیاسی جماعتیں  اور ان کے قائدین دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز کے حامی ہیں لیکن ایک سیاسی جماعت جی ہاں صرف ایک سیاسی جماعت آپریشنز کی مخالفت کر رہی ہے ۔ آج اگر پی ٹی آئی خیبر سے کراچی اور حیدر آباد سے پنجاب تک سڑکوں پر احتجاج اور جلسے منعقد کر رہی ہے تو یہ بھی ماضی اور موجودہ وقت میں دہشتگردوں کے خلاف جاری آپریشنز ہی کا نتیجہ ہے ۔

    اہم بات تو یہ بھی ہے کہ اگر پی ٹی آئی اور سہیل آفریدی صاحب کو دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر تحفظات ہیں تو وہ وفاقی حکومت سے اس حوالے سے بات کیوں نہیں کر رہے ؟ وہ مخالفت کر رہے ہیں لیکن صرف اپنے سیاسی اجتماع، اجلاسوں، پریس کانفرنسنز  اور میڈیا ٹاکس میں ، وفاق سے بات کرنے کیلئے وہ تیار نہیں ، تو کیا ایسے میں آپریشنز نہیں ہونگے؟  بالکل ہونگے  بلکہ آج بھی ہو رہے ہیں اور کل بھی جاری رہیں گے  اور تب تک جاری رہیں گے جب تک وطن عزیز میں امن کے قیام کا خواب پورا نہیں ہوگا ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleانڈر 19 ورلڈ کپ، پاکستان نے سکاٹ لینڈ کو 6 وکٹوں سے ہرادیا،جنوبی افریقہ اور سری لنکا بھی کامیاب
    Next Article کراچی سانحہ، جاں بحق افراد کی تعداد 26 ہوگئی، 83 افراد لاپتہ،ریسکیو کارروائیاں جاری
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    پمز سانحے کے اصل حقائق

    اگست 26, 2026

    یوم آزادی کی قدر

    اگست 13, 2026

    شاہینوں کا وہ سپہ سالار جس نے فضاؤں کا نصاب بدل دیا

    اگست 7, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    پاسکو اور یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کی بندش کے عمل میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرصدارت اجلاس

    ستمبر 7, 2026

    شزہ فاطمہ خواجہ کی LEAP 2026 میں شرکت، ٹیک ڈیسٹنیشن پاکستان پویلین کا افتتاح

    ستمبر 7, 2026

    پاک چین میڈیا تعاون ایشیا بحرالکاہل میں مشترکہ خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے،ڈاکٹر شذرہ منصب علی

    ستمبر 7, 2026

    سٹاک ایکسچینج: عام شہریوں کی شرکت سے معاشی ترقی تیز ہو سکتی ہے، یوسف رضا گیلانی

    ستمبر 7, 2026

    ویمنز ایشیا کپ: آئی سی سی نے قومی ٹیم کی کپتان فاطمہ ثناء پرجرمانہ عائد کردیا

    ستمبر 7, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.