تحریر: لیاقت صیام
’’امی! امی! میں آج کے بعد سکول نہیں جاؤں گی ۔‘‘
یہ الفاظ لکی مروت کے ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والی آٹھویں جماعت کی طالبہ کے ہیں، جس کے لیے سکول، جو کبھی سیکھنے اور آگے بڑھنے کی جگہ تھا، ایک تکلیف دہ تجربہ بن گیا ۔
اہلِ خانہ کے مطابق سکول میں ایک استانی نے مبینہ طور پر اسے دیگر طالبات کے سامنے جسمانی سزا دی اور کئی گھنٹوں تک سکول کے صحن میں کھڑا رکھا، اس واقعے کے بعد بچی شدید ذہنی اذیت، شرمندگی اور احساسِ کمتری کا شکار ہوگئی، اسے اپنی ہم جماعت طالبات کا سامنا کرنے میں دشواری محسوس ہونے لگی، جس کے باعث اس نے سکول جانا چھوڑ دیا ۔
یہ صرف ایک بچی کی کہانی نہیں بلکہ اس وسیع مسئلے کی عکاسی کرتی ہے، جہاں جسمانی سزا اور تضحیک آمیز رویے بچوں کے تعلیمی مستقبل، ذہنی صحت اور خود اعتمادی کو متاثر کر رہے ہیں ۔
لکی مروت جیسے پسماندہ ضلع میں جہاں پہلے ہی تعلیمی سہولیات کی کمی اور بالخصوص بچیوں کی تعلیم کے حوالے سے متعدد مشکلات موجود ہیں، وہاں جسمانی سزا جیسے رویے بچوں کو تعلیم سے مزید دور کر سکتے ہیں، خصوصاً بچیوں کے لیے ایسا ماحول ان کی تعلیم جاری رکھنے کی راہ میں اضافی رکاوٹ بن سکتا ہے ۔
خاموشی کے پیچھے چھپی کہانیاں: ۔
والدین اور مقامی سطح پر سامنے آنے والی معلومات کے مطابق ایسے دیگر واقعات بھی موجود ہیں جہاں بچوں اور بچیوں نے جسمانی سزا، تذلیل اور خوف کے باعث سکول جانا چھوڑ دیا، تاہم ان واقعات کی باقاعدہ دستاویز بندی نہ ہونے کی وجہ سے ان کی اصل تعداد معلوم کرنا مشکل ہے ۔
بچوں کے تحفظ سے متعلق ماہرین کے مطابق جسمانی سزا صرف وقتی جسمانی تکلیف کا باعث نہیں بنتی بلکہ اس سے بچوں میں خوف، احساسِ کمتری، ذہنی دباؤ اور تعلیمی اداروں سے دوری جیسے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں ۔
محکمہ تعلیم اور پولیس کا مؤقف: ۔
ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفس زنانہ اور مردانہ کے مطابق انہیں تاحال سکولوں میں جسمانی سزاؤں سے متعلق کوئی تحریری شکایت موصول نہیں ہوئی ۔
تاہم محکمہ تعلیم کے ایک ذمہ دار اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ضلع کے سکولوں میں جسمانی سزا کا مسئلہ موجود ہے اور شاید ہی کوئی ایسا تعلیمی ادارہ ہو جہاں بچوں کو اس طرح کی سزا نہ دی جاتی ہو ۔
دوسری جانب پولیس ریکارڈ کے مطابق سکولوں میں بچوں کو جسمانی سزا دینے سے متعلق متعدد تحریری شکایات موصول ہوئی ہیں، تاہم فریقین کے درمیان بعد ازاں راضی نامے ہونے کے باعث ان معاملات میں ایف آئی آر درج نہیں ہو سکی ۔
قانون اور انصاف کا سوال: ۔
ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر آصف اقبال ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے ایسے واقعات میں اکثر متاثرہ خاندان دباؤ یا دیگر وجوہات کی بنا پر فوری طور پر راضی نامہ کر لیتے ہیں، جس سے معاملہ قانونی کارروائی تک نہیں پہنچ پاتا ۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ بعض واقعات میں مقدمہ درج ہونے کے باوجود انہیں عام فوجداری مقدمات کے طور پر دیکھا جاتا ہے، صوبائی حکومت کو چاہیے کہ بچوں کو جسمانی سزا سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے مؤثر قانون سازی اور موجودہ قوانین پر عمل درآمد یقینی بنائے ۔
جسمانی سزا کے نفسیاتی اثرات: ۔
ماہرِ نفسیات ڈاکٹر شفقت اللہ کے مطابق جسمانی سزا بچوں کی ذہنی اور جذباتی نشوونما پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے، ایسے بچے احساسِ کمتری، خوف، ذہنی دباؤ اور خود اعتمادی میں کمی کا شکار ہو سکتے ہیں ۔
ان کا کہنا ہے کہ بچوں کے ساتھ تضحیک آمیز رویہ اختیار کرنے کے بجائے ان کی نفسیاتی ضروریات کو سمجھنا اور مثبت انداز میں ان کی رہنمائی کرنا ضروری ہے ۔
مار نہیں، پیار اور تحفظ: ۔
سماجی کارکن یونس حسرت کا کہنا ہے کہ سکولوں میں بچوں اور بچیوں کو مارنے کے بجائے محبت، شفقت اور دوستانہ ماحول میں تعلیم دی جانی چاہیے، تعلیمی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو ایسا محفوظ ماحول فراہم کریں جہاں وہ خوف کے بجائے اعتماد کے ساتھ اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں ۔
ماہرینِ تعلیم بھی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جب بچوں کو عزت، تحفظ اور دوستانہ ماحول میسر ہو تو ان کی تعلیمی کارکردگی اور سکول میں دلچسپی بہتر ہوتی ہے ۔
بچوں کا تحفظ، ریاست اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری: ۔
بچوں کو جسمانی سزا دینا محض نظم و ضبط قائم کرنے کا طریقہ نہیں بلکہ ان کے بنیادی حقوق، عزتِ نفس اور محفوظ تعلیمی ماحول کے حق سے جڑا معاملہ ہے ۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ سکولوں میں جسمانی سزا کی روک تھام کے لیے واضح پالیسی، شکایات درج کرانے کا محفوظ اور خفیہ نظام، اساتذہ کی تربیت، والدین کی آگاہی اور شکایات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کو یقینی بنایا جائے ۔
خصوصاً بچیوں کو یہ اعتماد دینا ضروری ہے کہ اگر انہیں کسی قسم کی جسمانی سزا، ہراسانی، تضحیک یا بدسلوکی کا سامنا ہو تو وہ بلاخوف اپنی شکایت درج کرا سکتی ہیں اور ان کی شناخت و عزتِ نفس محفوظ رکھی جائے گی ۔
کیونکہ ایک بچی کا سکول چھوڑ دینا صرف اس کی تعلیم کا نقصان نہیں بلکہ معاشرے کے مستقبل کا بھی نقصان ہے، سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے تعلیمی ادارے بچوں کو تعلیم کے ساتھ تحفظ اور اعتماد بھی فراہم کر رہے ہیں؟

