Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, مارچ 3, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • جنگلی حیات کا تحفظ قومی ذمہ داری ہے، صدرِ مملکت کا عالمی یومِ جنگلی حیات پر پیغام
    • حکومت ما لیاتی نظم و ضبط کو برقرار رکھتے ہوئے میکرو اکنامک استحکام کو مزید مضبوط بنائے گی، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
    • ایران اور خلیجی ممالک میں پھنسے پاکستانیوں کے محفوظ انخلا کے لئے تمام تر اقدامات کررہے ہیں، نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار
    • سٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان، امریکی ڈالر 1 پیسہ ارزان
    • پاک فوج کی جوابی کارروائیاں جاری، جلال آباد میں اسلحہ ڈپو اور ڈرون اسٹوریج تباہ، 67 افغان اہلکار ہلاک
    • افغان وزارت دفاع نے بگرام ایئربیس پر پاکستانی فضائی حملوں سے ہونے والے نقصانات کی رپورٹ جاری کر دی
    • سرحدی دہشت گردی پر پاکستان کا دوٹوک مؤقف، بفر زون حکمت عملی سامنے آگئی
    • پاکستان کو غیر مستحکم کرنےکے لیے کسی کو ہمسایہ ملک کی سرزمین استعمال کرنےکی اجازت نہیں دیں گے: صدر مملکت
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » شکرپڑیاں کا سبز سکوت کیوں ٹوٹ گیا؟
    بلاگ

    شکرپڑیاں کا سبز سکوت کیوں ٹوٹ گیا؟

    جنوری 6, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Why was the green silence of Shakarparian broken
    درختوں کا خاتمہ مستقبل میں ہیٹ ویوز، فضائی آلودگی اور شہری دباؤ کو مزید بڑھا سکتا ہے ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد کو اگر دنیا کے خوبصورت دارالحکومتوں میں شمار کیا جاتا ہے تو اس کی ایک بڑی وجہ اس کے پہاڑ، درخت اور سبز پٹیاں ہیں،شکرپڑیاں اسی سبز شناخت کی علامت تھا ایک ایسا علاقہ جہاں گھنا جنگل نہ صرف شہر کی خوبصورتی بڑھاتا تھا بلکہ درجہ حرارت کو قابو میں رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا تھا، مگر آج یہی شکرپڑیاں بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی کے بعد گنجا اور بنجر دکھائی دے رہا ہے ۔

    حالیہ مہینوں میں شکرپڑیاں کے مختلف حصوں میں ہونے والی کٹائی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے, کم از کم چار بڑے علاقے، جو مجموعی طور پر تقریباً 15 ایکڑ پر مشتمل ہیں، اب سبزے سے خالی ہو چکے ہیں وہ راستے جہاں پہلے درختوں کی اوٹ میں سڑکیں اور ایکسپریس وے نظر نہیں آتے تھے، اب کھلے اور بے پردہ دکھائی دیتے ہیں، یہ تبدیلی صرف منظر کی نہیں بلکہ ماحولیاتی توازن کی بھی ہے ۔

    کیپٹیل ڈیولپمنٹ اتھارٹی یعنی سی ڈی اے کے مطابق یہاں صرف پیپر ملبری کے درخت ہٹائے گئے، جنہیں پولن الرجی کا سبب قرار دیا جاتا ہے، بظاہر یہ دلیل وزن رکھتی ہے، مگر جب پورا علاقہ بنجر نظر آنے لگے تو یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ کیا کٹائی واقعی صرف ایک ہی قسم تک محدود رہی؟ اگر مقصد صحتِ عامہ تھا تو اس کا حل اندھا دھند کٹائی کے بجائے تدریجی اور متبادل شجرکاری بھی ہو سکتا تھا ۔

    ماحولیاتی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو شکرپڑیاں جیسے قدرتی گرین بیلٹ میں مداخلت کے اثرات فوری نہیں بلکہ دیرپا ہوتے ہیں، درخت صرف سایہ نہیں دیتے، وہ درجہ حرارت کم کرتے، ہوا کو صاف رکھتے اور شہری زندگی کو قابلِ برداشت بناتے ہیں، ان کا خاتمہ مستقبل میں ہیٹ ویوز، فضائی آلودگی اور شہری دباؤ کو مزید بڑھا سکتا ہے وہ مسائل جن سے اسلام آباد پہلے ہی مکمل طور پر محفوظ نہیں رہا ۔

    یہ معاملہ صرف شکرپڑیاں تک محدود نہیں، شہر کے مختلف حصوں میں ترقیاتی منصوبوں کے نام پر درختوں کی قربانی ایک معمول بنتی جا رہی ہے ۔

    سوال یہ نہیں کہ ترقی ہونی چاہیے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ترقی کس قیمت پر؟ اگر سڑکیں، انٹرچینجز اور پارکس قدرتی ماحول کو قربان کر کے بنائے جائیں تو یہ ترقی پائیدار کیسے کہلائے گی؟

    اعلان تو یہ کیا جا رہا ہے کہ مقامی درخت لگائے جائیں گے اور سبزہ بحال ہوگا، مگر اسلام آباد کے ماضی کے تجربات یہ بتاتے ہیں کہ شجرکاری کے وعدے اکثر فائلوں اور تصویروں تک محدود رہ جاتے ہیں، ایک درخت کو اگنے میں دہائیاں لگتی ہیں، اور اس کا نعم البدل فوری طور پر ممکن نہیں ہوتا ۔

    شکرپڑیاں کی موجودہ حالت ایک انتباہ ہے یہ یاد دہانی کہ دارالحکومت کی سبز شناخت خود بخود محفوظ نہیں رہے گی۔، اس کے لیے شفاف فیصلے، سائنسی بنیادوں پر پالیسیاں اور حقیقی ماحولیاتی ترجیحات ضروری ہیں، ورنہ خطرہ یہ ہے کہ آنے والی نسلیں شکرپڑیاں کو صرف تصویروں اور پرانی خبروں میں ہی دیکھ پائیں گی ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleدہشت گردی کے خلاف جنگ میں تحریک انصاف اپنی ریاست کے خلاف کیوں کھڑی ہے؟
    Next Article انڈر 19 سہ ملکی سیریز کے فائنل میں پاکستان نے زمبابوے کو ہرا کر ٹرافی اپنے نام کرلی
    Afzal Yousafzai
    • Website

    لکھاری صحافی اور مصنف ہیں ان کا ای میل ایڈریس afzalshahmian@gmail.comہے

    Related Posts

    امن کی کنجی کابل کے ہاتھ میں !

    فروری 22, 2026

    غربت کی نئی لہر اور معیشت کا کڑا امتحان

    فروری 21, 2026

    رہائی فورس کا اعلان،سیاسی وفاداری یا تصادم کا حتمی فیصلہ ؟

    فروری 20, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    جنگلی حیات کا تحفظ قومی ذمہ داری ہے، صدرِ مملکت کا عالمی یومِ جنگلی حیات پر پیغام

    مارچ 3, 2026

    حکومت ما لیاتی نظم و ضبط کو برقرار رکھتے ہوئے میکرو اکنامک استحکام کو مزید مضبوط بنائے گی، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

    مارچ 3, 2026

    ایران اور خلیجی ممالک میں پھنسے پاکستانیوں کے محفوظ انخلا کے لئے تمام تر اقدامات کررہے ہیں، نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار

    مارچ 3, 2026

    سٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان، امریکی ڈالر 1 پیسہ ارزان

    مارچ 3, 2026

    پاک فوج کی جوابی کارروائیاں جاری، جلال آباد میں اسلحہ ڈپو اور ڈرون اسٹوریج تباہ، 67 افغان اہلکار ہلاک

    مارچ 3, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.