اسلام آباد کو اگر دنیا کے خوبصورت دارالحکومتوں میں شمار کیا جاتا ہے تو اس کی ایک بڑی وجہ اس کے پہاڑ، درخت اور سبز پٹیاں ہیں،شکرپڑیاں اسی سبز شناخت کی علامت تھا ایک ایسا علاقہ جہاں گھنا جنگل نہ صرف شہر کی خوبصورتی بڑھاتا تھا بلکہ درجہ حرارت کو قابو میں رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا تھا، مگر آج یہی شکرپڑیاں بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی کے بعد گنجا اور بنجر دکھائی دے رہا ہے ۔
حالیہ مہینوں میں شکرپڑیاں کے مختلف حصوں میں ہونے والی کٹائی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے, کم از کم چار بڑے علاقے، جو مجموعی طور پر تقریباً 15 ایکڑ پر مشتمل ہیں، اب سبزے سے خالی ہو چکے ہیں وہ راستے جہاں پہلے درختوں کی اوٹ میں سڑکیں اور ایکسپریس وے نظر نہیں آتے تھے، اب کھلے اور بے پردہ دکھائی دیتے ہیں، یہ تبدیلی صرف منظر کی نہیں بلکہ ماحولیاتی توازن کی بھی ہے ۔
کیپٹیل ڈیولپمنٹ اتھارٹی یعنی سی ڈی اے کے مطابق یہاں صرف پیپر ملبری کے درخت ہٹائے گئے، جنہیں پولن الرجی کا سبب قرار دیا جاتا ہے، بظاہر یہ دلیل وزن رکھتی ہے، مگر جب پورا علاقہ بنجر نظر آنے لگے تو یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ کیا کٹائی واقعی صرف ایک ہی قسم تک محدود رہی؟ اگر مقصد صحتِ عامہ تھا تو اس کا حل اندھا دھند کٹائی کے بجائے تدریجی اور متبادل شجرکاری بھی ہو سکتا تھا ۔
ماحولیاتی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو شکرپڑیاں جیسے قدرتی گرین بیلٹ میں مداخلت کے اثرات فوری نہیں بلکہ دیرپا ہوتے ہیں، درخت صرف سایہ نہیں دیتے، وہ درجہ حرارت کم کرتے، ہوا کو صاف رکھتے اور شہری زندگی کو قابلِ برداشت بناتے ہیں، ان کا خاتمہ مستقبل میں ہیٹ ویوز، فضائی آلودگی اور شہری دباؤ کو مزید بڑھا سکتا ہے وہ مسائل جن سے اسلام آباد پہلے ہی مکمل طور پر محفوظ نہیں رہا ۔
یہ معاملہ صرف شکرپڑیاں تک محدود نہیں، شہر کے مختلف حصوں میں ترقیاتی منصوبوں کے نام پر درختوں کی قربانی ایک معمول بنتی جا رہی ہے ۔
سوال یہ نہیں کہ ترقی ہونی چاہیے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ترقی کس قیمت پر؟ اگر سڑکیں، انٹرچینجز اور پارکس قدرتی ماحول کو قربان کر کے بنائے جائیں تو یہ ترقی پائیدار کیسے کہلائے گی؟
اعلان تو یہ کیا جا رہا ہے کہ مقامی درخت لگائے جائیں گے اور سبزہ بحال ہوگا، مگر اسلام آباد کے ماضی کے تجربات یہ بتاتے ہیں کہ شجرکاری کے وعدے اکثر فائلوں اور تصویروں تک محدود رہ جاتے ہیں، ایک درخت کو اگنے میں دہائیاں لگتی ہیں، اور اس کا نعم البدل فوری طور پر ممکن نہیں ہوتا ۔
شکرپڑیاں کی موجودہ حالت ایک انتباہ ہے یہ یاد دہانی کہ دارالحکومت کی سبز شناخت خود بخود محفوظ نہیں رہے گی۔، اس کے لیے شفاف فیصلے، سائنسی بنیادوں پر پالیسیاں اور حقیقی ماحولیاتی ترجیحات ضروری ہیں، ورنہ خطرہ یہ ہے کہ آنے والی نسلیں شکرپڑیاں کو صرف تصویروں اور پرانی خبروں میں ہی دیکھ پائیں گی ۔

