Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    اتوار, اپریل 19, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • پی ایس ایل11: پشاور زلمی کی ایک اور بڑی کامیابی،کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو 118 رنز سے شکست
    • امن مذاکرات میں شرکت کیلئے غیرملکی وفود کی اسلام آباد آمد جاری، جڑواں شہروں میں سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات
    • اسلام آباد اور راولپنڈی میں سیکیورٹی کے پیش نظر ٹرانسپورٹ معطل، ایران اور امریکہ مذاکرات کا امکان
    • پیرس کانفرنس میں عالمی رہنماؤں کا سمندری تجارتی راستوں کے تحفظ پر اتفاق
    • ملک بھر میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کا امکان، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری
    • امریکہ سے مذاکرات میں پیشرفت ہوئی ہے لیکن اب بھی بہت فاصلہ ہے، اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ
    • پی ایس ایل 11: راولپنڈیزکو مسلسل ساتویں شکست، لاہور 32 رنز سے کامیاب
    • پاکستانی عازمینِ حج کی پہلی پرواز مدینہ منورہ پہنچ گئی، حج مشن کا شاندار استقبال
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » کیاحکومت افغان مہاجرین کے قیام میں توسیع دے گی،خیبر نیوز کےپروگرام کراس ٹاک میں تجزیہ نگاروں کی رائے
    بلاگ

    کیاحکومت افغان مہاجرین کے قیام میں توسیع دے گی،خیبر نیوز کےپروگرام کراس ٹاک میں تجزیہ نگاروں کی رائے

    اپریل 16, 2024Updated:نومبر 11, 2024کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Will the government extend the stay of Afghan refugees, the opinion of analysts in Khyber News program Cross Talk
    Share
    Facebook Twitter Email
    کیا حکومت افغان مہاجرین کے قیام میں توسیع دے گی، خیبر نیوز کےپروگرام کراس ٹاک میں تجزیہ نگاروں نے اس پر اپنی رائے کا اظہار کیا ہے

    حکومت پاکستان کی جانب سے افغان مہاجرین کو دی جان والی ڈیڈ لائن ختم ہوگئی ہے اور 15 اپریل سے افغان مہاجرین کارڈ اے سی سی اور پی او آر کی میعاد بھی ختم ہوگئی ہے جس کے بعد افغان مہاجرین کو وطن واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ دوسری جانب یو این ایش سی آر اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے پاکستان سے افغان مہاجرین کو جبری بے دخل نہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔اس سلسلے میں مہاجرین پر کام کرنے والے ایڈوکیٹ سید لیاقت بنوری نے پروگرام کراس ٹاک میں بات کرتے ہوئے  کہا کہ ہم نے افغان مہاجرین کو 45 سال پناہ دی ہے اور حکومت پاکستان نے ہی انہیں مہاجرین کا درجہ دیا ہے اور انہیں افغان سٹیزن کارڈبھی پاکستان نے ہی انہیں دیا ہے۔ پاکستان نے ہی ان کو سہولت فہراہم کی ہے،لیکن انہوں نے پاکستان کی قدر نہیں کی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ تمام سٹیک ہولڈر مل کر ایک مکمل حکمت عملی بنائے اور  ایک روڈ میپ بنانے کے بعد ہی مہاجرین کو عزت کیساتھ اپنے ملک بھیجے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان جو تعلقات ہیں انہیں نقصان نہ پہینچ جائیں۔بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2002 میں حکومت نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان میں 3.5 افغان مہاجرین موجود ہیں جس میں سے 1.8 ملین مہاجرین کو واپس بھیجاگیا، 2007، 2016، 2013 میں تقریبا 40 لاکھ افغان مہاجرین واپس گئے ہیں لیکن اب بھی 4.5 ملین افغان مہاجرین پاکستان میں موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں نہ روزگار ہے، نہ تعلیم اور نہ صحت۔ ہم انہیں اپنے ملک بھیجتے ہیں لیکن یہ دوسرےراستوں سے واپس آجاتے ہیں اور صرف اس طرح ہمارےوسائل کا ضائع ہوجاتاہے۔ پاکستان، افغانستان، یو این ایچ سی آر کو ملکر ہی کوئی حکمت عملی بنانی ہوگی۔

    پروگرام کراس ٹاک میں بات چیت کرتے ہوئےسیکیورٹی اور افغان امور کے ماہر سابق انسپیکٹر جنرل پولیس سید اختر علی شاہ نے کہا کہ تازہ ترین مہم میں سب سے پہلے پنجاب سے افغان مہاجرین کو واپس بھیجا جارہاہے اور اس سلسلے میں تمام تر تیاریاں مکمل ہوگئی ہے۔  انہوں نے کہا کہ جس طرح ہم نے پہلے افغان مہاجرین کو نکالنے کیلئے مہم چلائی اور ان کے بچے اور خواتین کو حوالاتوں میں بند کیا ، کاروبار ختم کروائے، اس سے پاکستان کے 45 سالہ مہمان نوازی کو بہت نقصان پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ اس دفعہ افغان مہاجرین کیخلاف مہم پہلے کی طرح نہیں ہوگی۔ اکنامک امیگرینٹس کو اپ روک نہیں سکتے۔

    انہوں نے کہا کہ اگر افغان مہاجرین دہشت گردی میں ملوث ہیں تو انہیں روکنے کیلئے بہت سے اور اقدامات اٹھائے جاسکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ پچھلے بیس سالوں میں ہونے والے دہشت گردی اور جرائم میں صرف ایک فیصد افغان ملوث ہیں، انہوں نے کہا کہ افغان مہاجرین میں ایک بہت بڑا حصہ یہاں کاروبار سے وابستہ ہیں، اور ایک حصہ وہ ہے جہاں افغانستان میں انہیں طالبان سے جان کا خطرہ ہے جو افغانستان واپس جا نہیں سکتے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں صرف ٹی ٹی پی نہیں بلکہ القاعدہ ، داعش سمیت دیگر دہشت گرد تنظیمں موجود ہے۔ لیکن طالبان ر پریشر ڈالنے سے پہلے ہمیں یہاں پر ان کے نیٹ ورک کو ختم کرنا ہوگا، اور افغانستان میں ان تنظیموں کیخلاف افغان طالبان کے صلاحیت کو بھی دیکھنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ افغان عوام کو پاکستان میں  آنے سے میڈیکل ٹورازم، ٹرانسپورٹ، ہوٹل انڈسٹری کو نقصان ہورہا ہے۔ باڑدر بار بار بند کرنے سے ون بیلڈ ون روڈ  منصوبے کو نقصان ہوگا جو طورخم کے ذریعے سینٹرل ایشیائ ممالک کو رسائی حاصل کرنا ہے۔

    بین الاقوامی امور کے ماہر ڈاکٹر حسین سہروردی نے کہا کہ یہ بات تو واضح ہے کہ حکومت ہر حال میں افغان مہاجرین کو نکالنا چاہتی ہے۔  اور یہ سارے فیصلے سیاسی فیصلے ہیں۔ اس وقت پاکستان کے تعلقات طالبان سے اچھے نہیں ہے اور چاہتے ہیں کہ افغان طالبان پر پریشر ڈالے۔لیکن اہم سوال یہ ہے کہ ایک طرف ہم چاہتے ہیں کہ باہر سے انویسٹمنٹ آجائے لیکن کیا افغان باہر انویسٹر نہیں ہے یا انوسٹر وہی ہوگا جس کا رنگ گورا ہے اور انگریزی بول رہا ہوگا؟انہوں نے کہا کہ موجودہ وقت میں پاکستان اور افغانستان کےدرمیان تجارت پوٹینشل چھ ارب ڈالر ہیں لیکن صرف دو ارب ڈالر کی تجارت ہورہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بدقستمی سے فارن آفس میں جو لوگ بیٹھے ہوئے ہیں وہ پالیسی میکر نہیں بلکہ پالیسی بتانے والے ہیں۔ افغان طالبان پر پریشر ڈالنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ افغان مہاجرین کو نکالنے سے افغان طالبان اور افغان عوام میں تعلقات مظبوط ہوئے ہے۔ حالیہ اقدامات سے افغانستان سے زائد پاکستان کو نقصان پہنچ رہاہے۔ افغانستان نے دوسری علاقائی ممالک سے تجارتی تعلقات کو بڑھایا ہے جس سے نقصان پاکستان کو ہورہا ہے۔اب حکومت کو اس کا حل مل سیاست سے نہیں بلکہ دانشمندی سے کرنا ہوگا۔

     

     

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleبلوچستان:19 اپریل تک مزید بارشوں کی پیشگوئی
    Next Article کوہاٹ:ہائی ایس اور موٹر کار کے تصادم میں3 افراد جاں بحق،5زخمی
    Mahnoor

    Related Posts

    پاکستان کی ترقی کا بنیادی ستون خواتین کی بااختیاری – تحریر: راشد پختون

    اپریل 15, 2026

    امریکہ ایران کشیدگی میں کمی: پاکستان کی ثالثی کو عالمی سطح پر سراہا گیا

    اپریل 14, 2026

    اینٹ اینٹ: امریکا ایران جنگ کی کہانی: ڈاکٹر حمیرا عنبرین

    اپریل 13, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    پی ایس ایل11: پشاور زلمی کی ایک اور بڑی کامیابی،کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو 118 رنز سے شکست

    اپریل 19, 2026

    امن مذاکرات میں شرکت کیلئے غیرملکی وفود کی اسلام آباد آمد جاری، جڑواں شہروں میں سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات

    اپریل 19, 2026

    اسلام آباد اور راولپنڈی میں سیکیورٹی کے پیش نظر ٹرانسپورٹ معطل، ایران اور امریکہ مذاکرات کا امکان

    اپریل 19, 2026

    پیرس کانفرنس میں عالمی رہنماؤں کا سمندری تجارتی راستوں کے تحفظ پر اتفاق

    اپریل 19, 2026

    ملک بھر میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کا امکان، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

    اپریل 19, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.