Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, ستمبر 10, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • سوات میں 9 سالہ بچی زیادتی کے بعد قتل، ملزم گرفتار
    • خاران اور واشک میں کامیاب آپریشنز: وزیر داخلہ محسن نقوی کا سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
    • بندرگاہی نظام: عالمی رینکنگ میں ایک سال کے دوران 30 درجے بہتری، وزیراعظم ٹاسک فورس برائے بحری امور کی مؤثر اصلاحات کے مثبت ثمرات
    • شمالی وزیرستان میں مارے گئے دہشتگرد کی افغان شہری کے طور پر شناخت، پاکستان کے مؤقف کی تائید
    • پولیو ورکرز کے معاوضے میں 28 فیصد اضافہ کا اعلان، پولیو مہم کا آغاز 21 ستمبر سے ہوگا
    • وزیراعلیٰ سہیل آفریدی او دیگر صوبائی وزرا کے خلاف احتجاج کیس میں 42 گواہان کے بیانات ریکارڈ
    • پی ٹی آئی لانگ مارچ کیس کی سماعت کیلئے لارجر بنچ تشکیل، چاروں صوبوں کے اعلی حکام کل طلب
    • بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی 2 اضلاع میں کامیاب کارروائیاں، 11 دہشت گرد ہلاک
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » کیاحکومت افغان مہاجرین کے قیام میں توسیع دے گی،خیبر نیوز کےپروگرام کراس ٹاک میں تجزیہ نگاروں کی رائے
    بلاگ اپریل 16, 2024

    کیاحکومت افغان مہاجرین کے قیام میں توسیع دے گی،خیبر نیوز کےپروگرام کراس ٹاک میں تجزیہ نگاروں کی رائے

    Facebook Twitter Email
    Will the government extend the stay of Afghan refugees, the opinion of analysts in Khyber News program Cross Talk
    Share
    Facebook Twitter Email
    کیا حکومت افغان مہاجرین کے قیام میں توسیع دے گی، خیبر نیوز کےپروگرام کراس ٹاک میں تجزیہ نگاروں نے اس پر اپنی رائے کا اظہار کیا ہے

    حکومت پاکستان کی جانب سے افغان مہاجرین کو دی جان والی ڈیڈ لائن ختم ہوگئی ہے اور 15 اپریل سے افغان مہاجرین کارڈ اے سی سی اور پی او آر کی میعاد بھی ختم ہوگئی ہے جس کے بعد افغان مہاجرین کو وطن واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ دوسری جانب یو این ایش سی آر اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے پاکستان سے افغان مہاجرین کو جبری بے دخل نہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔اس سلسلے میں مہاجرین پر کام کرنے والے ایڈوکیٹ سید لیاقت بنوری نے پروگرام کراس ٹاک میں بات کرتے ہوئے  کہا کہ ہم نے افغان مہاجرین کو 45 سال پناہ دی ہے اور حکومت پاکستان نے ہی انہیں مہاجرین کا درجہ دیا ہے اور انہیں افغان سٹیزن کارڈبھی پاکستان نے ہی انہیں دیا ہے۔ پاکستان نے ہی ان کو سہولت فہراہم کی ہے،لیکن انہوں نے پاکستان کی قدر نہیں کی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ تمام سٹیک ہولڈر مل کر ایک مکمل حکمت عملی بنائے اور  ایک روڈ میپ بنانے کے بعد ہی مہاجرین کو عزت کیساتھ اپنے ملک بھیجے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان جو تعلقات ہیں انہیں نقصان نہ پہینچ جائیں۔بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2002 میں حکومت نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان میں 3.5 افغان مہاجرین موجود ہیں جس میں سے 1.8 ملین مہاجرین کو واپس بھیجاگیا، 2007، 2016، 2013 میں تقریبا 40 لاکھ افغان مہاجرین واپس گئے ہیں لیکن اب بھی 4.5 ملین افغان مہاجرین پاکستان میں موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں نہ روزگار ہے، نہ تعلیم اور نہ صحت۔ ہم انہیں اپنے ملک بھیجتے ہیں لیکن یہ دوسرےراستوں سے واپس آجاتے ہیں اور صرف اس طرح ہمارےوسائل کا ضائع ہوجاتاہے۔ پاکستان، افغانستان، یو این ایچ سی آر کو ملکر ہی کوئی حکمت عملی بنانی ہوگی۔

    پروگرام کراس ٹاک میں بات چیت کرتے ہوئےسیکیورٹی اور افغان امور کے ماہر سابق انسپیکٹر جنرل پولیس سید اختر علی شاہ نے کہا کہ تازہ ترین مہم میں سب سے پہلے پنجاب سے افغان مہاجرین کو واپس بھیجا جارہاہے اور اس سلسلے میں تمام تر تیاریاں مکمل ہوگئی ہے۔  انہوں نے کہا کہ جس طرح ہم نے پہلے افغان مہاجرین کو نکالنے کیلئے مہم چلائی اور ان کے بچے اور خواتین کو حوالاتوں میں بند کیا ، کاروبار ختم کروائے، اس سے پاکستان کے 45 سالہ مہمان نوازی کو بہت نقصان پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ اس دفعہ افغان مہاجرین کیخلاف مہم پہلے کی طرح نہیں ہوگی۔ اکنامک امیگرینٹس کو اپ روک نہیں سکتے۔

    انہوں نے کہا کہ اگر افغان مہاجرین دہشت گردی میں ملوث ہیں تو انہیں روکنے کیلئے بہت سے اور اقدامات اٹھائے جاسکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ پچھلے بیس سالوں میں ہونے والے دہشت گردی اور جرائم میں صرف ایک فیصد افغان ملوث ہیں، انہوں نے کہا کہ افغان مہاجرین میں ایک بہت بڑا حصہ یہاں کاروبار سے وابستہ ہیں، اور ایک حصہ وہ ہے جہاں افغانستان میں انہیں طالبان سے جان کا خطرہ ہے جو افغانستان واپس جا نہیں سکتے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں صرف ٹی ٹی پی نہیں بلکہ القاعدہ ، داعش سمیت دیگر دہشت گرد تنظیمں موجود ہے۔ لیکن طالبان ر پریشر ڈالنے سے پہلے ہمیں یہاں پر ان کے نیٹ ورک کو ختم کرنا ہوگا، اور افغانستان میں ان تنظیموں کیخلاف افغان طالبان کے صلاحیت کو بھی دیکھنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ افغان عوام کو پاکستان میں  آنے سے میڈیکل ٹورازم، ٹرانسپورٹ، ہوٹل انڈسٹری کو نقصان ہورہا ہے۔ باڑدر بار بار بند کرنے سے ون بیلڈ ون روڈ  منصوبے کو نقصان ہوگا جو طورخم کے ذریعے سینٹرل ایشیائ ممالک کو رسائی حاصل کرنا ہے۔

    بین الاقوامی امور کے ماہر ڈاکٹر حسین سہروردی نے کہا کہ یہ بات تو واضح ہے کہ حکومت ہر حال میں افغان مہاجرین کو نکالنا چاہتی ہے۔  اور یہ سارے فیصلے سیاسی فیصلے ہیں۔ اس وقت پاکستان کے تعلقات طالبان سے اچھے نہیں ہے اور چاہتے ہیں کہ افغان طالبان پر پریشر ڈالے۔لیکن اہم سوال یہ ہے کہ ایک طرف ہم چاہتے ہیں کہ باہر سے انویسٹمنٹ آجائے لیکن کیا افغان باہر انویسٹر نہیں ہے یا انوسٹر وہی ہوگا جس کا رنگ گورا ہے اور انگریزی بول رہا ہوگا؟انہوں نے کہا کہ موجودہ وقت میں پاکستان اور افغانستان کےدرمیان تجارت پوٹینشل چھ ارب ڈالر ہیں لیکن صرف دو ارب ڈالر کی تجارت ہورہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بدقستمی سے فارن آفس میں جو لوگ بیٹھے ہوئے ہیں وہ پالیسی میکر نہیں بلکہ پالیسی بتانے والے ہیں۔ افغان طالبان پر پریشر ڈالنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ افغان مہاجرین کو نکالنے سے افغان طالبان اور افغان عوام میں تعلقات مظبوط ہوئے ہے۔ حالیہ اقدامات سے افغانستان سے زائد پاکستان کو نقصان پہنچ رہاہے۔ افغانستان نے دوسری علاقائی ممالک سے تجارتی تعلقات کو بڑھایا ہے جس سے نقصان پاکستان کو ہورہا ہے۔اب حکومت کو اس کا حل مل سیاست سے نہیں بلکہ دانشمندی سے کرنا ہوگا۔

     

     

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleبلوچستان:19 اپریل تک مزید بارشوں کی پیشگوئی
    Next Article کوہاٹ:ہائی ایس اور موٹر کار کے تصادم میں3 افراد جاں بحق،5زخمی
    Mahnoor

    Related Posts

    پمز سانحے کے اصل حقائق

    اگست 26, 2026

    یوم آزادی کی قدر

    اگست 13, 2026

    شاہینوں کا وہ سپہ سالار جس نے فضاؤں کا نصاب بدل دیا

    اگست 7, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    سوات میں 9 سالہ بچی زیادتی کے بعد قتل، ملزم گرفتار

    ستمبر 9, 2026

    خاران اور واشک میں کامیاب آپریشنز: وزیر داخلہ محسن نقوی کا سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین

    ستمبر 9, 2026

    بندرگاہی نظام: عالمی رینکنگ میں ایک سال کے دوران 30 درجے بہتری، وزیراعظم ٹاسک فورس برائے بحری امور کی مؤثر اصلاحات کے مثبت ثمرات

    ستمبر 9, 2026

    شمالی وزیرستان میں مارے گئے دہشتگرد کی افغان شہری کے طور پر شناخت، پاکستان کے مؤقف کی تائید

    ستمبر 9, 2026

    پولیو ورکرز کے معاوضے میں 28 فیصد اضافہ کا اعلان، پولیو مہم کا آغاز 21 ستمبر سے ہوگا

    ستمبر 9, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.