Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    ہفتہ, اگست 29, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • ایکسپو سینٹر میں ہیلتھ اینڈ ایجوکیشن سمٹ 2026: صاف ماحول، صحت اور تعلیم بہتر معاشرے کے لیے ضروری ہیں: مصدق ملک
    • خیبرپختونخوا میں رواں سال ڈینگی کے 478 کیسز کی تصدیق، پشاور سب سے زیادہ متاثر
    • بلوچستان میں کم عمر بچیوں کو مبینہ خودکش حملوں کے لیے استعمال کرنے کا منصوبہ ناکام
    • فیلڈ مارشل سيد عاصم منیر کا دفاعی صنعتی کمپلیکس واہ کا دورہ، مقامی سطح پر تیار ہتھیاروں اور گولہ بارود کے تجربات کا مشاہدہ
    • سانحہ پمز کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش
    • فیلڈ مارشل عاصم منیر سے سعودی وزیر ماحولیات کی اہم ملاقات، باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال
    • جنوبی وزیرستان کے بازار میں دھماکہ، امن کمیٹی کا رکن جاں بحق، 8 افراد زخمی
    • بیرسٹر افتخار گیلانی نے آزاد کشمیر کے نئے وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھا لیا
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » پنجاب، کے پی انتخابات پر از خود نوٹس:پی ڈی ایم کا جسٹس اعجاز اور جسٹس مظاہر پر اعتراض
    اہم خبریں فروری 24, 2023

    پنجاب، کے پی انتخابات پر از خود نوٹس:پی ڈی ایم کا جسٹس اعجاز اور جسٹس مظاہر پر اعتراض

    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد: پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے پنجاب اور کے پی کے انتخابات پر ازخود نوٹس کیس میں 9 رکنی لارجر بینچ میں شامل جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر نقوی پر اعتراض اٹھاتے ہوئے انہیں بینچ سے الگ کرنے کی استدعا کردی۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 9 رکنی لارجر بینچ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات سے متعلق ازخود نوٹس پر سماعت کررہا ہے۔

    لارجر بینچ میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس اطہر من اللہ شامل ہیں۔

    پہلے روز کی سماعت پڑھیں

    پہلے روزکی سماعت کے اہم ریمارکس

    • عدالت نے اسمبلی کی تحلیل پر سوال اٹھادیا
    • اسمبلیاں کسی کی ڈکٹیشن پر ختم ہوسکتی ہیں؟ جسٹس منصور
    • یہ ازخود نوٹس نہیں بنتا: جسٹس جمال مندوخیل
    • انتحابات کا مسئلہ وضاحت طلب ہے: چیف جسٹس
    • صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل پر بھی نوٹس لیا جائے: جسٹس اطہر
    • نمائندے 5 سال کیلئے منتخب ہوتے ہیں تو کسی شخص کی ہدایت پر اسمبلی تحلیل کیسے ہوسکتی ہے؟ سپریم کورٹ

    آج کی سماعت

    سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے آغاز پر اٹارنی جنرل روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم کی کاپی نہیں ملی، تمام فریقین کو نوٹس نہیں مل سکے۔

    اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آج کی سماعت کا مقصد تمام متعلقہ حکام کو ازخودنوٹس کے متعلق اطلاع دینا تھا، فاروق ایچ نائیک اور تمام ایڈووکیٹ جنرلز یہاں ہیں۔ دورانِ سماعت پیپلزپارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی پر اعتراض اٹھادیا۔

    فاروق نائیک نے کہا کہ ججز سے کوئی ذاتی خلفشار نہیں، جو ہدایات ملیں وہ سامنے رکھ رہا ہوں، ہدایات ہیں کہ جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس مظاہر نقوی بینچ سے الگ ہوجائیں۔ فاروق ایچ نائیک کے اعتراض پر چیف جسٹس نے کہا کہ ججز کے معاملے پر پیر کو آپ کو سنیں گے۔ فاروق ایچ نائیک نے پی ڈی ایم جماعتوں کا مشترکہ تحریری بیان عدالت میں پڑھ کر سنایا جس میں کہا گیا کہ جسٹس مظاہرنقوی اور جسٹس اعجازالاحسن پہلے ہی غلام محمود ڈوگرکیس میں اس معاملے کو سن چکے،  استدعا ہے دونوں جج صاحبان خود کو ازخود نوٹس سے الگ کرلیں۔

    پی ڈی ایم کے مشترکہ تحریری نوٹ میں کہا گیا ہےکہ فیئر ٹرائل کے حق کے تحت جسٹس اعجاز اور جسٹس مظاہرکو بینچ سے الگ ہوجانا چاہیے، دونوں ججز کے کہنے پر ازخود نوٹس لیا گیا اس لیے مذکورہ ججز بینچ سے الگ ہوجائیں، دونوں ججز (ن) لیگ اور جے یو آئی کے کسی بھی مقدمے کی سماعت نہ کریں۔

    فاروق ایچ نائیک نے غلام محمود ڈوگر کیس میں دونوں ججز کا فیصلہ بھی پڑھ کر سنایا جب کہ جسٹس جمال کا گزشتہ روز کا نوٹ بھی پڑھا۔ پی پی کے وکیل نے کہا کہ دونوں ججز نے ازخود نوٹس کے لیے معاملہ چیف جسٹس کو بھجوایا، جسٹس مندوخیل کے نوٹ کے بعد جسٹس اعجاز اور جسٹس مظاہر خودکو بینچ سے الگ کردیں، ڈوگر کے سروس میٹر میں ایسا فیصلہ آنا تشویشناک ہے۔

    دورانِ سماعت جسٹس اطہر من اللہ نے سوال کیا کہ مسٹر نائیک آپ کو نہیں لگتا کہ یہ مفاد عامہ کا معاملہ فل کورٹ کو سننا چاہیے؟

    اس پر فاروق ایچ نائیک نے انتخابات میں تاخیر کے ازخود نوٹس پر فل کورٹ بنانے کی استدعا کی اور کہا کہ انتخابات کا معاملہ عوامی ہے،اس پر فل کورٹ ہی ہونا چاہیے۔

    فاروق نائیک کے مؤقف پر چیف جسٹس نے کہا کہ 16 فروری کو فیصلہ آیا اور22 فروری کو ازخود نوٹس لیا گیا، ازخود نوٹس لینا چیف جسٹس کا دائرہ اختیارہے، آرٹیکل 184/3 کے ساتھ اسپیکرزکی درخواستیں بھی آج سماعت کے لیے  مقرر ہیں۔ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیےکہ سیاسی معاملات کو پارلیمنٹ میں حل ہونا چاہیے، اپنی جماعتوں سے کہیں کہ یہ معاملہ عدالت کیوں سنے؟ فاروق نائیک نے کہا کہ عدالت کی آبزرویشنز نوٹ کرلی ہیں، اپنی جماعت سے اس معاملے پر ہدایت لوں گا۔ بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت پیر صبح ساڑھے 11 بجے تک ملتوی کردی۔

     

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleچاہتے ہیں انتخابات وقت پر ہوں۔ سپریم کورٹ
    Next Article لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب اسلام آباد سےگرفتار
    Web Desk

    Related Posts

    ایکسپو سینٹر میں ہیلتھ اینڈ ایجوکیشن سمٹ 2026: صاف ماحول، صحت اور تعلیم بہتر معاشرے کے لیے ضروری ہیں: مصدق ملک

    اگست 29, 2026

    خیبرپختونخوا میں رواں سال ڈینگی کے 478 کیسز کی تصدیق، پشاور سب سے زیادہ متاثر

    اگست 29, 2026

    بلوچستان میں کم عمر بچیوں کو مبینہ خودکش حملوں کے لیے استعمال کرنے کا منصوبہ ناکام

    اگست 29, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    ایکسپو سینٹر میں ہیلتھ اینڈ ایجوکیشن سمٹ 2026: صاف ماحول، صحت اور تعلیم بہتر معاشرے کے لیے ضروری ہیں: مصدق ملک

    اگست 29, 2026

    خیبرپختونخوا میں رواں سال ڈینگی کے 478 کیسز کی تصدیق، پشاور سب سے زیادہ متاثر

    اگست 29, 2026

    بلوچستان میں کم عمر بچیوں کو مبینہ خودکش حملوں کے لیے استعمال کرنے کا منصوبہ ناکام

    اگست 29, 2026

    فیلڈ مارشل سيد عاصم منیر کا دفاعی صنعتی کمپلیکس واہ کا دورہ، مقامی سطح پر تیار ہتھیاروں اور گولہ بارود کے تجربات کا مشاہدہ

    اگست 29, 2026

    سانحہ پمز کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش

    اگست 29, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.