Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بدھ, اکتوبر 21, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں کمی اور ڈیزل کے نرخ میں فی لٹر اضافہ کردیا
    • اسلام آباد کی نئی ماڈل جیل تیار، اڈیالہ جیل کے قیدیوں کو یہاں لائیں گے،وزیرداخلہ
    • گورنر راج کے نفاذ کے بعد خیبر پختونخوا: نئی حکومت اور صوبائی انتظامیہ عوامی خدمت کے لیے متحرک
    • تجاوزات میں ملوث کسی بھی انتظامی افسر کے خلاف کارروائی ہوگی،گورنر فیصل کریم کنڈی
    • پاکستان رینجرز اور مقامی این جی او کے زیر اہتمام تھرپارکر میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد
    • چینی کاروباری وفد کا گلگت بلتستان کا دورہ، تجارتی و سرمایہ کاری کے فروغ پر تبادلہ خیال
    • پاکستان اور مالدیپ کا دوطرفہ تجارت 2سال میں 20 کروڑ ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق
    • پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی، 100 انڈیکس 1 لاکھ 66 ہزار پوائنٹس سے تجاوز کر گیا
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • خاص خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » پنجاب، کے پی انتخابات پر از خود نوٹس:پی ڈی ایم کا جسٹس اعجاز اور جسٹس مظاہر پر اعتراض
    خاص خبریں فروری 24, 2023

    پنجاب، کے پی انتخابات پر از خود نوٹس:پی ڈی ایم کا جسٹس اعجاز اور جسٹس مظاہر پر اعتراض

    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد: پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے پنجاب اور کے پی کے انتخابات پر ازخود نوٹس کیس میں 9 رکنی لارجر بینچ میں شامل جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر نقوی پر اعتراض اٹھاتے ہوئے انہیں بینچ سے الگ کرنے کی استدعا کردی۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 9 رکنی لارجر بینچ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات سے متعلق ازخود نوٹس پر سماعت کررہا ہے۔

    لارجر بینچ میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس اطہر من اللہ شامل ہیں۔

    پہلے روز کی سماعت پڑھیں

    پہلے روزکی سماعت کے اہم ریمارکس

    • عدالت نے اسمبلی کی تحلیل پر سوال اٹھادیا
    • اسمبلیاں کسی کی ڈکٹیشن پر ختم ہوسکتی ہیں؟ جسٹس منصور
    • یہ ازخود نوٹس نہیں بنتا: جسٹس جمال مندوخیل
    • انتحابات کا مسئلہ وضاحت طلب ہے: چیف جسٹس
    • صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل پر بھی نوٹس لیا جائے: جسٹس اطہر
    • نمائندے 5 سال کیلئے منتخب ہوتے ہیں تو کسی شخص کی ہدایت پر اسمبلی تحلیل کیسے ہوسکتی ہے؟ سپریم کورٹ

    آج کی سماعت

    سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے آغاز پر اٹارنی جنرل روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم کی کاپی نہیں ملی، تمام فریقین کو نوٹس نہیں مل سکے۔

    اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آج کی سماعت کا مقصد تمام متعلقہ حکام کو ازخودنوٹس کے متعلق اطلاع دینا تھا، فاروق ایچ نائیک اور تمام ایڈووکیٹ جنرلز یہاں ہیں۔ دورانِ سماعت پیپلزپارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی پر اعتراض اٹھادیا۔

    فاروق نائیک نے کہا کہ ججز سے کوئی ذاتی خلفشار نہیں، جو ہدایات ملیں وہ سامنے رکھ رہا ہوں، ہدایات ہیں کہ جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس مظاہر نقوی بینچ سے الگ ہوجائیں۔ فاروق ایچ نائیک کے اعتراض پر چیف جسٹس نے کہا کہ ججز کے معاملے پر پیر کو آپ کو سنیں گے۔ فاروق ایچ نائیک نے پی ڈی ایم جماعتوں کا مشترکہ تحریری بیان عدالت میں پڑھ کر سنایا جس میں کہا گیا کہ جسٹس مظاہرنقوی اور جسٹس اعجازالاحسن پہلے ہی غلام محمود ڈوگرکیس میں اس معاملے کو سن چکے،  استدعا ہے دونوں جج صاحبان خود کو ازخود نوٹس سے الگ کرلیں۔

    پی ڈی ایم کے مشترکہ تحریری نوٹ میں کہا گیا ہےکہ فیئر ٹرائل کے حق کے تحت جسٹس اعجاز اور جسٹس مظاہرکو بینچ سے الگ ہوجانا چاہیے، دونوں ججز کے کہنے پر ازخود نوٹس لیا گیا اس لیے مذکورہ ججز بینچ سے الگ ہوجائیں، دونوں ججز (ن) لیگ اور جے یو آئی کے کسی بھی مقدمے کی سماعت نہ کریں۔

    فاروق ایچ نائیک نے غلام محمود ڈوگر کیس میں دونوں ججز کا فیصلہ بھی پڑھ کر سنایا جب کہ جسٹس جمال کا گزشتہ روز کا نوٹ بھی پڑھا۔ پی پی کے وکیل نے کہا کہ دونوں ججز نے ازخود نوٹس کے لیے معاملہ چیف جسٹس کو بھجوایا، جسٹس مندوخیل کے نوٹ کے بعد جسٹس اعجاز اور جسٹس مظاہر خودکو بینچ سے الگ کردیں، ڈوگر کے سروس میٹر میں ایسا فیصلہ آنا تشویشناک ہے۔

    دورانِ سماعت جسٹس اطہر من اللہ نے سوال کیا کہ مسٹر نائیک آپ کو نہیں لگتا کہ یہ مفاد عامہ کا معاملہ فل کورٹ کو سننا چاہیے؟

    اس پر فاروق ایچ نائیک نے انتخابات میں تاخیر کے ازخود نوٹس پر فل کورٹ بنانے کی استدعا کی اور کہا کہ انتخابات کا معاملہ عوامی ہے،اس پر فل کورٹ ہی ہونا چاہیے۔

    فاروق نائیک کے مؤقف پر چیف جسٹس نے کہا کہ 16 فروری کو فیصلہ آیا اور22 فروری کو ازخود نوٹس لیا گیا، ازخود نوٹس لینا چیف جسٹس کا دائرہ اختیارہے، آرٹیکل 184/3 کے ساتھ اسپیکرزکی درخواستیں بھی آج سماعت کے لیے  مقرر ہیں۔ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیےکہ سیاسی معاملات کو پارلیمنٹ میں حل ہونا چاہیے، اپنی جماعتوں سے کہیں کہ یہ معاملہ عدالت کیوں سنے؟ فاروق نائیک نے کہا کہ عدالت کی آبزرویشنز نوٹ کرلی ہیں، اپنی جماعت سے اس معاملے پر ہدایت لوں گا۔ بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت پیر صبح ساڑھے 11 بجے تک ملتوی کردی۔

     

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleچاہتے ہیں انتخابات وقت پر ہوں۔ سپریم کورٹ
    Next Article لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب اسلام آباد سےگرفتار
    Web Desk

    Related Posts

    حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں کمی اور ڈیزل کے نرخ میں فی لٹر اضافہ کردیا

    اکتوبر 21, 2026

    اسلام آباد کی نئی ماڈل جیل تیار، اڈیالہ جیل کے قیدیوں کو یہاں لائیں گے،وزیرداخلہ

    اکتوبر 21, 2026

    گورنر راج کے نفاذ کے بعد خیبر پختونخوا: نئی حکومت اور صوبائی انتظامیہ عوامی خدمت کے لیے متحرک

    اکتوبر 21, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں کمی اور ڈیزل کے نرخ میں فی لٹر اضافہ کردیا

    اکتوبر 21, 2026

    اسلام آباد کی نئی ماڈل جیل تیار، اڈیالہ جیل کے قیدیوں کو یہاں لائیں گے،وزیرداخلہ

    اکتوبر 21, 2026

    گورنر راج کے نفاذ کے بعد خیبر پختونخوا: نئی حکومت اور صوبائی انتظامیہ عوامی خدمت کے لیے متحرک

    اکتوبر 21, 2026

    تجاوزات میں ملوث کسی بھی انتظامی افسر کے خلاف کارروائی ہوگی،گورنر فیصل کریم کنڈی

    اکتوبر 21, 2026

    پاکستان رینجرز اور مقامی این جی او کے زیر اہتمام تھرپارکر میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد

    اکتوبر 21, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.