ایران میں اسرائیلی حملے میں حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے معاملے کی تحقیقات جاری ہیں ۔
اس حوالے سے ایران نے متعدد انٹیلی جنس اور ملٹری افسران کو حراست میں لے لیا۔
امریکی میڈیا کے مطابق ایران کے ملٹری ذرائع کا بتانا ہے کہ اسماعیل ہنیہ کے قتل کی تحقیات کے لیے حماس رہنما کے گیسٹ ہاؤس کے ملازمین کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔
امریکی اخبار کے مطابق اسماعیل ہنیہ پر تہران میں قاتلانہ حملے کے بعد پاسداران انقلاب کی خصوصی انٹیلی جنس ٹیم تحقیقات کر رہی ہے۔
اسماعیل ہنیہ کو 31 جولائی کو تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی تقریب حلف برداری کے بعد اپنی رہائش گاہ میں حملے کے دوران شہید کیا گیا تھا ۔
ایران نے اسماعیل ہنیہ کے تہران میں قتل کرنے کا بدلہ لینا خود پر فرض قرار دے دیا ہے جبکہ اسرائیل نے تاحال اسماعیل ہنیہ کے قتل کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
جمعرات, جون 4, 2026
بریکنگ نیوز
- سولر صارفین پر اضافی بوجھ ڈالنے کا کوئی منصوبہ نہیں، پاور ڈویژن
- نائب وزیراعظم کی سلامتی کونسل کے نئے غیر مستقل اراکین کو منتخب ہونے پر مبارکباد
- ایران جنگ سے پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہو چکا ہے، عباس عراقچی
- کویت ایئرپورٹ پر مبینہ ایرانی ڈرون حملے کی سی سی ٹی وی فوٹیج جاری
- آئندہ وفاقی بجٹ مہنگائی کا نیا طوفان لائے گا، شوکت یوسف زئی
- ایبٹ آباد: سیاحوں پر مبینہ تشدد کیس، ایکسائز کا سب انسپکٹر نسیم خان گرفتار
- افغانستان سے پاکستانی شہریوں اور اداروں پر حملے برداشت نہیں، دفتر خارجہ
- مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کرنے پر اتفاق

