Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    پیر, اگست 31, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • استنبول اجلاس، پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق، معاہدے کو ’’مکہ دفاع اتحاد‘‘ کا نام بھی دے دیا گیا
    • سی ایس ایس 2026 کا تحریری نتیجہ جاری، کامیابی کا تناسب صرف 2.74 فیصد رہا
    • عالمی ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق پاکستان کے موقف کی تائید کردی،بڑا فیصلہ جاری
    • سندھ کے 22 سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی کی سنگین صورتحال، رپورٹ میں بڑے انکشافات
    • پشاور: پولیس مقابلے میں بین الصوبائی گینگ کے 4 بدنام زمانہ ڈاکو ہلاک
    • بلوچستان میں جمعہ کو سرکاری دفاتر میں ورکنگ ڈے قرار دینے کا فیصلہ
    • وزیراعظم شہباز شریف تین روزہ دورے پر بشکیک پہنچ گئے، ایس سی او سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے
    • مردان: کاٹلنگ بابوزئی میں سی ٹی ڈی کی خفیہ ا طلاع پر کامیاب کارروائی، 2دہشت گرد ہلاک
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » پولیس کی خلاف ورزیاں اور عوامی آگاہی
    بلاگ فروری 3, 2025

    پولیس کی خلاف ورزیاں اور عوامی آگاہی

    Facebook Twitter Email
    Police Brutality Laws Tightened
    پولیس کی خلاف ورزیاں اور عوامی آگاہی
    Share
    Facebook Twitter Email

    پولیس آرڈر 2002 کا سیکشن 156 ڈی مطابق کسی بھی شخص پر تشدد کرنا جرم ہے۔کسی شخص (ملزم یا مجرم) پر تشدد کرنے والے پولیس افسر یا اہلکار کو 5 سال تک قید کی سزا اور جرمانہ کیا جائے گا۔پولیس قوانین کہتے ہیں کہ ایسے افسر یا اہلکار کو نوکری سے بھی برخواست کیا جائے گا

    تعزیراتِ پاکستان و  دیگر قوانین کے تحت پولیس کو شہریوں پر تشدد کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ پولیس اہلکاروں کو قانون کے مطابق شہریوں کے ساتھ برابری اور عزت سے پیش آنا ضروری ہوتا ہے۔ اگر پولیس کسی شہری پر غیر قانونی طور پر تشدد کرتی ہے، تو یہ ایک سنگین جرم سمجھا جاتا ہے اور اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جاسکتی ہے۔

    پاکستان میں پولیس کے خلاف تشدد اور زیادتی کی کئی مثالیں سامنے آ چکی ہیں، خاص طور پر سوشل میڈیا پر اس طرح کے واقعات کی رپورٹس نے عوامی غم و غصے کو جنم دیا ہے۔ اعتراف جرم کروانے کے لیے پولیس کے روایتی تشدد کے طریقے اب غیر قانونی قرار پائے ہیں۔

    پولیس کے تشدد کے خلاف آئینی تحفظات

    پاکستان کے آئین کے مختلف دفعات شہریوں کے حقوق کی حفاظت کرتی ہیں۔ آئین کی دفعہ 9 کے مطابق کسی شہری کو غیر قانونی طور پر جیل میں ڈالنا یا اس پر تشدد کرنا غیر آئینی ہے۔ پولیس ایکٹ 1861 کے تحت پولیس کو تشدد یا زیادتی کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ مزید برآں، تعزیراتِ پاکستان میں بھی تشدد کے خلاف واضح قوانین موجود ہیں۔

    پولیس کی خلاف ورزیاں اور عوامی آگاہی

    پولیس اہلکاروں کی جانب سے تشدد کے واقعات میں دفعہ  342 کے تحت شہریوں کو زبردستی اعتراف کرانے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔ اسی طرح، دفعہ  348 کے مطابق غیر قانونی حراست یا بے جا حراست میں رکھنا اور دفعہ  345 کے تحت جسمانی تشدد کر کے تفتیش کرنا پولیس کی سنگین خلاف ورزیاں ہیں۔ شہریوں کو اپنے حقوق کے بارے میں آگاہی حاصل کرنا ضروری ہے تاکہ وہ ان قوانین سے فائدہ اٹھا سکیں اور پولیس کے ہاتھوں تشدد سے بچ سکیں۔

    پولیس کے تشدد سے بچاؤ کے لیے عوامی رہنمائی

    عوام کو چاہیے کہ وہ اپنے آئینی حقوق سے آگاہ ہوں اور اگر پولیس تشدد کرتی ہے تو ایف آئی آر درج کروانے، عدالت میں شکایت کرنے یا انسانی حقوق کمیشن میں درخواست دینے کا حق رکھتے ہیں۔ شہریوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ قانون کے مطابق پولیس کے ہاتھوں تشدد کے واقعات پر سخت کارروائی کی جا سکتی ہے۔

    پولیس کے تشدد کی روک تھام کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ضروری

    اگرچہ پولیس کو شہریوں کی گرفتاری اور تفتیش کرنے کا اختیار حاصل ہے، مگر انہیں یہ اختیار قانون کے مطابق استعمال کرنا ہوتا ہے۔ شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ پولیس کے ہاتھوں تشدد اور اموات کے واقعات اس وقت تک ختم نہیں ہوں گے جب تک ہم جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے تفتیش کے طریقے بہتر نہیں بنائیں گے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleچیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ججز ٹرانسفر  کے معاملے کو خوش آئند قرار دیديا
    Next Article جنید اکبر کا امتحان
    Tahseen Ullah Tasir
    • Facebook

    Related Posts

    پمز سانحے کے اصل حقائق

    اگست 26, 2026

    یوم آزادی کی قدر

    اگست 13, 2026

    شاہینوں کا وہ سپہ سالار جس نے فضاؤں کا نصاب بدل دیا

    اگست 7, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    استنبول اجلاس، پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق، معاہدے کو ’’مکہ دفاع اتحاد‘‘ کا نام بھی دے دیا گیا

    اگست 31, 2026

    سی ایس ایس 2026 کا تحریری نتیجہ جاری، کامیابی کا تناسب صرف 2.74 فیصد رہا

    اگست 31, 2026

    عالمی ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق پاکستان کے موقف کی تائید کردی،بڑا فیصلہ جاری

    اگست 31, 2026

    سندھ کے 22 سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی کی سنگین صورتحال، رپورٹ میں بڑے انکشافات

    اگست 31, 2026

    پشاور: پولیس مقابلے میں بین الصوبائی گینگ کے 4 بدنام زمانہ ڈاکو ہلاک

    اگست 31, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.