پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے انخلا کی مدت میں صرف 08 دن باقی رہ گئے ہیں۔ حکومت پاکستان نے غیر قانونی، غیر ملکی اور افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز کو ملک سے واپس جانے کی سخت ہدایات جاری کی ہیں اور اس حوالے سے 31 مارچ کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے۔
23 مارچ تک 876,194 افغان باشندے پاکستان سے واپس جا چکے ہیں، اور اس انخلا کا عمل جاری ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، یہ تعداد مزید بڑھنے کی توقع ہے، کیونکہ 31 مارچ تک تمام غیر قانونی افغان باشندوں کو پاکستان چھوڑنا ہوگا۔ اس فیصلے کے بعد حکومت پاکستان نے اس بات کی وضاحت کی کہ انخلا کے دوران کسی بھی افغان شہری کے ساتھ بدسلوکی نہیں کی جائے گی اور ان کو واپسی کے دوران تمام ضروری سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔
حکومت پاکستان نے واپس جانے والے افراد کے لیے خواراک اور صحت کی سہولتوں کا مکمل انتظام کر لیا ہے۔ وزارت داخلہ کے مطابق، ان افراد کی واپسی کے دوران ان کی بنیادی ضروریات کا خیال رکھا جائے گا تاکہ ان کے سفر میں کوئی دشواری پیش نہ آئے۔
حکومت نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ 31 مارچ کے بعد اگر کوئی غیر قانونی افغان باشندہ پاکستان میں موجود پایا گیا، تو ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس میں گرفتاریاں اور ان کے خلاف ملک بدری کے اقدامات شامل ہوں گے۔
پاکستان کی حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب افغانستان کے ساتھ پاکستانی سرحد پر نقل و حرکت اور دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز اور غیر قانونی مقیم افراد کی واپسی پاکستان کے لیے ایک اہم قدم ہے تاکہ ملک میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے۔
31 مارچ تک کا وقت کم ہے اور غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کو اس بات کا بھرپور موقع دیا گیا ہے کہ وہ اپنی واپسی کے انتظامات مکمل کریں۔ اس فیصلے کے بعد، حکومت نے متنبہ کیا ہے کہ مقررہ تاریخ کے بعد کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی اور ملک چھوڑنے میں ناکام افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
یہ قدم حکومت پاکستان کے قومی سلامتی کے اہداف کو پورا کرنے اور افغانستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے ایک ضروری اقدام ہے۔