Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, اکتوبر 22, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • خیبر پختونخوا میں تعلیم ،صحت، امن سمیت عوامی فلاح کے تمام امور نظر انداز کئےگئے، وزیر اعظم شہبازشریف
    • پاکستان، قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا کے درمیان دوحہ میں” بدر” مفاہمتی یادداشت پر دستخط
    • واشنگٹن ڈی سی: پاک-امریکہ ٹیک کنیکٹ 2026 کے تیسرے ایڈیشن کا انعقاد
    • خیبرپختونخوا میں گونر کی جانب سے ڈپٹی کمشنرز کو ایم پی او کے تحت گرفتاری اور نظر بندی کے اختیارات تفویض
    • بلوچستان کی پہلی ڈیجیٹل سٹیل ملز فعال، یومیہ 500 ٹن سریا تیار کرنے کی صلاحیت
    • پاکستان کا پہلا خلاباز چین سے خلائی سفر کے لیے تیار
    • فارما ایشیا 2026ء کراچی: دوسرے روز بھی ملکی و غیر ملکی کمپنیوں کی بھرپور شرکت
    • چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کی جانب سے تمام محکموں کو خریداری کے عمل کا جائزہ لینے اور اصلاحات کی ہدایت
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • خاص خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » کیا ایران میں اسرائیلی مقاصد حاصل ہو گئے؟
    بلاگ جون 24, 2025

    کیا ایران میں اسرائیلی مقاصد حاصل ہو گئے؟

    Facebook Twitter Email
    "Did Israel Achieve Its Goals in Iran?"
    "Behind the Ceasefire: Unmet Objectives and Shifting Power in the Middle East"
    Share
    Facebook Twitter Email

    امریکہ نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کر دیا ہے اور صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ امن قائم ہو۔ واضح رہے کہ اس جنگ میں امریکہ نے کسی قسم کی ثالثی کا کردار ادا نہیں کیا بلکہ وہ خود اس جنگ میں فریق تھا۔

    اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ کی طرف سے دی گئی جنگ بندی کی تجویز کو قبول کرتے ہوئے کہا کہ "ہم نے ایران میں اپنے مقاصد حاصل کر لیے ہیں۔”

    سوال یہ ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کے وہ مقاصد کیا تھے؟
    دونوں ممالک کا ہدف یہ تھا کہ: ایران کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو مکمل طور پر ختم کیا جائے، آیت اللہ خامنہ ای کی حکومت کا تختہ الٹا جائے،ایران میں ایک کٹھ پتلی حکومت قائم کی جائے اور آیت اللہ خامنہ ای کو قتل کر دیا جائے۔

    تو کیا یہ سب مقاصد حاصل ہو گئے؟ نہیں۔ اگر یہ مقاصد حاصل نہیں ہوئے تو پھر جنگ بندی کی اصل وجہ کیا ہے؟

    اس میں کوئی شک نہیں کہ 13 جون کو ایران پر اسرائیلی حملوں سے شروع ہونے والی اس جنگ میں ایران کو خاصا نقصان پہنچا۔ ایرانی فوجی قیادت کے کئی اعلیٰ افسران قتل کیے گئے، ایٹمی سائنسدانوں کو نشانہ بنایا گیا، تین سو کے قریب افراد جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہوئے، اسرائیل نے عام آبادی پر بمباری کی۔

    لیکن ایران نے بھی بروقت جوابی کارروائی کی۔ اس نے تل ابیب، حیفہ اور یروشلم پر میزائل داغے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان حملوں میں شدت آئی۔ ایران نے "خیبر شکن” اور دیگر ہائپرسونک میزائل استعمال کیے، جس سے اسرائیل کو بھی شدید نقصان اٹھانا پڑا۔ اسرائیل کبھی یہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ ایران اس شدت سے تل ابیب اور حیفہ جیسے شہروں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ اسرائیل کا تین سطحی فضائی دفاعی نظام ناکام ہو گیا اور ملک میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

    اس کے بعد امریکہ نے دنیا کو دھوکہ دیتے ہوئے ایران کی تین اہم جوہری تنصیبات—فردو، اصفہان اور نطنز—پر حملے کیے۔ بی-ٹو بمبار طیاروں سے "ایم او پی 6” بم فردو پر گرائے گئے جبکہ دیگر سائٹس پر میزائل داغے گئے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بڑے فخر سے اعلان کیا کہ امریکہ نے ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ کر دیا ہے، اور اگر ایران نے بدلہ لینے کی کوشش کی تو امریکہ سخت جواب دے گا۔

    ادھر ایران نے کہا کہ ان کی جوہری تنصیبات کو معمولی نقصان پہنچا ہے اور افزودہ یورینیم پہلے ہی محفوظ مقامات پر منتقل کر دی گئی تھی۔ پاسداران انقلاب نے امریکی صدر کی دھمکی کو کوئی اہمیت نہ دیتے ہوئے اعلان کیا کہ ہر حملے کا مؤثر جواب دیا جائے گا، اور ایسا ہی ہوا۔ ایران نے قطر، کویت، عراق اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر میزائل داغے۔ اگرچہ یہ حملے علامتی نوعیت کے تھے اور ایران نے ان کی پیشگی اطلاع بھی دے دی تھی، لیکن اس کا سیاسی اور دفاعی پیغام بہت مضبوط تھا۔

    اس کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ جنگ شدت اختیار کرے گی، اور امریکہ جارحانہ رویہ اختیار کرے گا۔ مگر اس کے برعکس، امریکہ نے جنگ بندی کی تجویز دی، اور اسرائیل و امریکہ دونوں نے اس پر عملدرآمد شروع کر دیا۔

    جنگ بندی کے کئی اسباب ہو سکتے ہیں، لیکن میرے خیال میں دو وجوہات زیادہ اہم ہیں۔ ایران نے ثابت کر دیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ طویل جنگ لڑ سکتا ہے۔ اسرائیل اکیلا پڑنے لگا تھا، اور چونکہ امریکہ براہ راست اس جنگ میں شامل نہیں تھا، اس لیے اسرائیل کے لیے یہ جنگ جاری رکھنا مشکل ہو گیا۔ ایران کی جوابی کارروائیاں یہ ظاہر کر رہی تھیں کہ اس کے پاس میزائلوں کا بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ امریکہ نے اسرائیل کو جنگ بندی کے ذریعے بچایا۔

    دوسری وجہ ، غزہ میں اسرائیلی مظالم کے بعد عرب دنیا میں عوام کی رائے اسرائیل اور امریکہ کے خلاف ہو چکی ہے۔ چونکہ بیشتر عرب ممالک میں بادشاہتیں قائم ہیں، اس لیے انہیں خدشہ ہے کہ کوئی مخالف اس عوامی رائے کو استعمال کر کے ان کی حکومت کا تختہ نہ الٹ دے۔ چنانچہ ممکن ہے کہ ان عرب ریاستوں نے بھی جنگ بندی کے لیے دباؤ ڈالا ہو، کیونکہ جنگ اب اسرائیل عرب سرزمین استعمال کر کے لڑ رہا تھا۔

    اگر صدر ٹرمپ امن کی قیام کیلئے ایران اسرائیل جنگ بند کرسکتا ہے اور تو غزہ میں کیوں نہیں کرتے؟

    جہاں تک ایران کے جوہری پروگرام کا تعلق ہے، اب ایران مزید تیزی سے اس پر کام کرے گا، کیونکہ اسے اندازہ ہو چکا ہے کہ ایٹمی طاقت کے بغیر اس کا دفاع ممکن نہیں۔ ایران پہلے ہی ایٹم بم بنانے کے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleوزیراعظم شہبازشریف سے سعودی عرب، قطر اور چین کے سفرا کی ملاقاتیں، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر غور
    Next Article جنوبی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن؛ 11 دہشتگرد ہلاک، پاک فوج کے 2 جوان شہید
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    پاکستان، قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا کے درمیان دوحہ میں” بدر” مفاہمتی یادداشت پر دستخط

    اکتوبر 22, 2026

    افغانستان سے دہشت گردی اور منشیات سمگلنگ پر عالمی تشویش، وسطی ایشیاء کے استحکام کے لیے سنگین خطرہ

    اکتوبر 19, 2026

    طالبان رجیم کو بڑا جھٹکا، چین کا سیکیورٹی خدشات پر واخان کوریڈور کھولنے سے انکار

    اکتوبر 17, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    خیبر پختونخوا میں تعلیم ،صحت، امن سمیت عوامی فلاح کے تمام امور نظر انداز کئےگئے، وزیر اعظم شہبازشریف

    اکتوبر 22, 2026

    پاکستان، قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا کے درمیان دوحہ میں” بدر” مفاہمتی یادداشت پر دستخط

    اکتوبر 22, 2026

    واشنگٹن ڈی سی: پاک-امریکہ ٹیک کنیکٹ 2026 کے تیسرے ایڈیشن کا انعقاد

    اکتوبر 22, 2026

    خیبرپختونخوا میں گونر کی جانب سے ڈپٹی کمشنرز کو ایم پی او کے تحت گرفتاری اور نظر بندی کے اختیارات تفویض

    اکتوبر 22, 2026

    بلوچستان کی پہلی ڈیجیٹل سٹیل ملز فعال، یومیہ 500 ٹن سریا تیار کرنے کی صلاحیت

    اکتوبر 22, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.