Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بدھ, اپریل 15, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے اہم پیشرفت
    • پاکستان میں ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے کے لیے نیا قانون نافذ
    • "شینو مینو شو” کی مقبولیت میں مسلسل اضافہ، خیبر ٹی وی کا کامیاب میوزیکل کامیڈی پروگرام
    • امریکی صدر ٹرمپ اور دیگر عالمی راہنماؤں کی جانب سے پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کا اعتراف
    • پاکستان کی ترقی کا بنیادی ستون خواتین کی بااختیاری – تحریر: راشد پختون
    • وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کا سعودی عرب، قطر اور ترکی کا دورہ
    • مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بھارتی معیشت مزید دباؤ کا شکار، اقوام متحدہ نے سنگین خطرات سے خبردار کر دیا
    • ایران نے مبینہ طور پر چینی سیٹلائٹ کے ذریعےامریکی اڈوں کو نشانہ بنایا، فنانشل ٹائمز
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » کیا ایران میں اسرائیلی مقاصد حاصل ہو گئے؟
    بلاگ

    کیا ایران میں اسرائیلی مقاصد حاصل ہو گئے؟

    جون 24, 2025Updated:جون 24, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    "Did Israel Achieve Its Goals in Iran?"
    "Behind the Ceasefire: Unmet Objectives and Shifting Power in the Middle East"
    Share
    Facebook Twitter Email

    امریکہ نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کر دیا ہے اور صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ امن قائم ہو۔ واضح رہے کہ اس جنگ میں امریکہ نے کسی قسم کی ثالثی کا کردار ادا نہیں کیا بلکہ وہ خود اس جنگ میں فریق تھا۔

    اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ کی طرف سے دی گئی جنگ بندی کی تجویز کو قبول کرتے ہوئے کہا کہ "ہم نے ایران میں اپنے مقاصد حاصل کر لیے ہیں۔”

    سوال یہ ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کے وہ مقاصد کیا تھے؟
    دونوں ممالک کا ہدف یہ تھا کہ: ایران کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو مکمل طور پر ختم کیا جائے، آیت اللہ خامنہ ای کی حکومت کا تختہ الٹا جائے،ایران میں ایک کٹھ پتلی حکومت قائم کی جائے اور آیت اللہ خامنہ ای کو قتل کر دیا جائے۔

    تو کیا یہ سب مقاصد حاصل ہو گئے؟ نہیں۔ اگر یہ مقاصد حاصل نہیں ہوئے تو پھر جنگ بندی کی اصل وجہ کیا ہے؟

    اس میں کوئی شک نہیں کہ 13 جون کو ایران پر اسرائیلی حملوں سے شروع ہونے والی اس جنگ میں ایران کو خاصا نقصان پہنچا۔ ایرانی فوجی قیادت کے کئی اعلیٰ افسران قتل کیے گئے، ایٹمی سائنسدانوں کو نشانہ بنایا گیا، تین سو کے قریب افراد جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہوئے، اسرائیل نے عام آبادی پر بمباری کی۔

    لیکن ایران نے بھی بروقت جوابی کارروائی کی۔ اس نے تل ابیب، حیفہ اور یروشلم پر میزائل داغے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان حملوں میں شدت آئی۔ ایران نے "خیبر شکن” اور دیگر ہائپرسونک میزائل استعمال کیے، جس سے اسرائیل کو بھی شدید نقصان اٹھانا پڑا۔ اسرائیل کبھی یہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ ایران اس شدت سے تل ابیب اور حیفہ جیسے شہروں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ اسرائیل کا تین سطحی فضائی دفاعی نظام ناکام ہو گیا اور ملک میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

    اس کے بعد امریکہ نے دنیا کو دھوکہ دیتے ہوئے ایران کی تین اہم جوہری تنصیبات—فردو، اصفہان اور نطنز—پر حملے کیے۔ بی-ٹو بمبار طیاروں سے "ایم او پی 6” بم فردو پر گرائے گئے جبکہ دیگر سائٹس پر میزائل داغے گئے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بڑے فخر سے اعلان کیا کہ امریکہ نے ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ کر دیا ہے، اور اگر ایران نے بدلہ لینے کی کوشش کی تو امریکہ سخت جواب دے گا۔

    ادھر ایران نے کہا کہ ان کی جوہری تنصیبات کو معمولی نقصان پہنچا ہے اور افزودہ یورینیم پہلے ہی محفوظ مقامات پر منتقل کر دی گئی تھی۔ پاسداران انقلاب نے امریکی صدر کی دھمکی کو کوئی اہمیت نہ دیتے ہوئے اعلان کیا کہ ہر حملے کا مؤثر جواب دیا جائے گا، اور ایسا ہی ہوا۔ ایران نے قطر، کویت، عراق اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر میزائل داغے۔ اگرچہ یہ حملے علامتی نوعیت کے تھے اور ایران نے ان کی پیشگی اطلاع بھی دے دی تھی، لیکن اس کا سیاسی اور دفاعی پیغام بہت مضبوط تھا۔

    اس کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ جنگ شدت اختیار کرے گی، اور امریکہ جارحانہ رویہ اختیار کرے گا۔ مگر اس کے برعکس، امریکہ نے جنگ بندی کی تجویز دی، اور اسرائیل و امریکہ دونوں نے اس پر عملدرآمد شروع کر دیا۔

    جنگ بندی کے کئی اسباب ہو سکتے ہیں، لیکن میرے خیال میں دو وجوہات زیادہ اہم ہیں۔ ایران نے ثابت کر دیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ طویل جنگ لڑ سکتا ہے۔ اسرائیل اکیلا پڑنے لگا تھا، اور چونکہ امریکہ براہ راست اس جنگ میں شامل نہیں تھا، اس لیے اسرائیل کے لیے یہ جنگ جاری رکھنا مشکل ہو گیا۔ ایران کی جوابی کارروائیاں یہ ظاہر کر رہی تھیں کہ اس کے پاس میزائلوں کا بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ امریکہ نے اسرائیل کو جنگ بندی کے ذریعے بچایا۔

    دوسری وجہ ، غزہ میں اسرائیلی مظالم کے بعد عرب دنیا میں عوام کی رائے اسرائیل اور امریکہ کے خلاف ہو چکی ہے۔ چونکہ بیشتر عرب ممالک میں بادشاہتیں قائم ہیں، اس لیے انہیں خدشہ ہے کہ کوئی مخالف اس عوامی رائے کو استعمال کر کے ان کی حکومت کا تختہ نہ الٹ دے۔ چنانچہ ممکن ہے کہ ان عرب ریاستوں نے بھی جنگ بندی کے لیے دباؤ ڈالا ہو، کیونکہ جنگ اب اسرائیل عرب سرزمین استعمال کر کے لڑ رہا تھا۔

    اگر صدر ٹرمپ امن کی قیام کیلئے ایران اسرائیل جنگ بند کرسکتا ہے اور تو غزہ میں کیوں نہیں کرتے؟

    جہاں تک ایران کے جوہری پروگرام کا تعلق ہے، اب ایران مزید تیزی سے اس پر کام کرے گا، کیونکہ اسے اندازہ ہو چکا ہے کہ ایٹمی طاقت کے بغیر اس کا دفاع ممکن نہیں۔ ایران پہلے ہی ایٹم بم بنانے کے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleوزیراعظم شہبازشریف سے سعودی عرب، قطر اور چین کے سفرا کی ملاقاتیں، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر غور
    Next Article جنوبی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن؛ 11 دہشتگرد ہلاک، پاک فوج کے 2 جوان شہید
    Tahseen Ullah Tasir
    • Facebook

    Related Posts

    پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے اہم پیشرفت

    اپریل 15, 2026

    پاکستان کی ترقی کا بنیادی ستون خواتین کی بااختیاری – تحریر: راشد پختون

    اپریل 15, 2026

    مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بھارتی معیشت مزید دباؤ کا شکار، اقوام متحدہ نے سنگین خطرات سے خبردار کر دیا

    اپریل 15, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے اہم پیشرفت

    اپریل 15, 2026

    پاکستان میں ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے کے لیے نیا قانون نافذ

    اپریل 15, 2026

    "شینو مینو شو” کی مقبولیت میں مسلسل اضافہ، خیبر ٹی وی کا کامیاب میوزیکل کامیڈی پروگرام

    اپریل 15, 2026

    امریکی صدر ٹرمپ اور دیگر عالمی راہنماؤں کی جانب سے پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کا اعتراف

    اپریل 15, 2026

    پاکستان کی ترقی کا بنیادی ستون خواتین کی بااختیاری – تحریر: راشد پختون

    اپریل 15, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.