لندن: افغان پارلیمنٹ کی سابق ڈپٹی سپیکر فوزیہ کوفی نے افغان طالبان رجیم کا بھیانک چہرہ بے نقاب کردیا۔
فوزیہ کوفی کا طالبان رجیم میں افغان عورتوں کی حالت زار پر دی گارڈین میں مضمون شائع ہوا۔
فوزیہ کوفی کے مطابق طالبان رجیم میں بیوی پر بیہمانہ تشدد کی سزا صرف 15 دن، جبکہ پرندے پر تشدد کی سزا پانچ ماہ قید ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ احتساب کے بغیر طالبان سے سفارتی روابط ان کی جابرانہ حکومت کو بین الاقوامی قبولیت دے سکتے ہیں۔
سابق افغان ڈپٹی سپیکر کے مطابق طالبان نمائندوں کا یورپ کا ممکنہ دورہ افغان خواتین کی جدوجہد، مزاحمت اور قربانیوں کے لیے ایک تکلیف دہ پیغام ہوگا۔
انہوں نے یورپین یونین کو طالبان پر دباؤ ڈالنے کی اپیل بھی کی۔
فوزیہ کوفی نے لکھا ہے کہ مجھے خاموش کرنے کے لیے طالبان رجیم نے میرے رشتہ داروں کو قید اور اُن پر تشدد کیا۔
ان کے مطابق افغانستان میں صنفی امتیاز ایک منظم اور ادارہ جاتی نظام کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ لڑکیوں کے لیے چھٹی کلاس سے آگے پڑھائی کے لیے کوئی سکول نہیں، جبکہ گزشتہ پانچ سال میں ہزاروں نئے دینی مدرسے قائم کیے گئے ہیں۔
فوزیہ کوفی کے مطابق طالبان رجیم نے عورتوں پر معاش کے تمام دروازے بند کر دیے ہیں، اور عورتیں سڑکوں پر بھیک مانگنے پر مجبور ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خواتین ججوں اور خواتین وکلاء کی عدم دستیابی نے عورتوں کی انصاف تک رسائی ناممکن بنا دی ہے۔
فوزیہ کوفی نے کہا کہ طالبان رجیم نے عورت کی غلامی کو قانونی حیثیت دے دی ہے۔
ان کے مطابق طالبان کا افغانستان صنفی عصبیت کی واضح مثال ہے۔

