گزشتہ روز پشاور میں منعقد ہونے والا اجلاس محض ایک رسمی سرکاری سرگرمی نہیں تھا بلکہ یہ اس طرزِ حکمرانی کا عملی اظہار تھا جس میں ذاتی اور جماعتی مفادات کو پسِ پشت ڈال کر صوبے کے وسیع تر مفاد کو ترجیح دی گئی، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا طرزِ عمل اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ قیادت کا اصل امتحان سیاسی نعروں میں نہیں بلکہ مشکل حالات کے باوجود عوامی مفاد کے فیصلوں میں پوشیدہ ہوتا ہے ۔
پاکستان کی سیاست میں اکثر یہ شکوہ سننے کو ملتا ہے کہ فیصلے عوامی ضرورت کے بجائے سیاسی مصلحت کو سامنے رکھ کر کیے جاتے ہیں، ایسے ماحول میں اگر کوئی رہنما کھل کر یہ پیغام دے کہ اس کے لیے جماعتی وابستگی سے بڑھ کر ملک کا مفاد اہم ہے تو یہ رویہ نہ صرف قابلِ تحسین بلکہ قابلِ تقلید بھی ہے ۔
پشاور کا حالیہ اجلاس اسی سوچ کا آئینہ دار تھا، جہاں اختلافِ رائے کے باوجود مشاورت، ہم آہنگی اور اجتماعی بہتری کو ترجیح دی گئی۔خیبر پختونخوا اس وقت جن چیلنجز سے گزر رہا ہے، جن میں دہشتگردی سرفہرست ہے ،یہ کسی ایک جماعت یا فرد کی ذمہ داری نہیں بلکہ اجتماعی حکمتِ عملی کے متقاضی ہیں ۔
معاشی دباؤ، ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل، امن و امان کی صورتحال اور عوامی سہولیات کی فراہمی جیسے معاملات سیاسی پوائنٹ سکورنگ سے حل نہیں ہوتے، ان کے لیے ایسی قیادت درکار ہوتی ہے جو وقتی سیاسی فائدے کے بجائے طویل المدتی استحکام کو مدنظر رکھے۔ وزیراعلیٰ کا حالیہ مؤقف اسی شعور کی عکاسی کرتا ہے ۔
اہم بات یہ ہے کہ سیاسی اختلاف جمہوریت کا حسن ہے، مگر جب اختلاف ذاتیات یا محض مخالفت برائے مخالفت کی شکل اختیار کر لے تو نظام کمزور پڑ جاتا ہے۔ پشاور کے اجلاس میں جس سنجیدگی اور تدبر کا مظاہرہ کیا گیا، اس نے یہ پیغام دیا کہ خیبر پختونخوا کی قیادت اب کی بار تصادم کے بجائے تعاون کی سیاست پر یقین رکھتی ہے، یہی وہ طرزِ فکر ہے جو کسی بھی صوبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے ۔
اس طرزِ حکمرانی کا ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ اس سے اداروں میں اعتماد پیدا ہوتا ہے۔ جب بیوروکریسی، منتخب نمائندے اور دیگر سٹیک ہولڈرز یہ دیکھتے ہیں کہ فیصلہ سازی میں سیاسی مفاد کے بجائے عوامی ضرورت کو ترجیح دی جا رہی ہے تو انتظامی مشینری زیادہ مؤثر انداز میں کام کرتی ہے، یوں پالیسی سازی اور اس پر عمل درآمد کے درمیان فاصلے کم ہو جاتے ہیں ۔
سیاسی قیادت کا اصل قد اُس وقت بلند ہوتا ہے جب وہ تنقید کے باوجود درست سمت پر قائم رہے۔ ذاتی یا جماعتی دباؤ سے نکل کر اجتماعی مفاد میں فیصلے کرنا آسان نہیں ہوتا، مگر یہی وہ وصف ہے جو ایک عام سیاستدان اور مدبر رہنما میں فرق واضح کرتا ہے ۔
حالیہ اجلاس نے کم از کم یہ تاثر ضرور مضبوط کیا ہے کہ صوبائی قیادت وسیع تر تناظر میں سوچنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اس رویے کو وقتی اقدام کے بجائے مستقل پالیسی کا حصہ بنایا جائے، اگر یہی تسلسل برقرار رہا تو نہ صرف سیاسی درجۂ حرارت میں کمی آئے گی بلکہ عوام کا اعتماد بھی بحال ہوگا ۔
عوام بالآخر نتائج دیکھنا چاہتے ہیں،روزگار کے مواقع، بہتر تعلیم و صحت کی سہولیات اور امن و استحکام۔ جب قیادت اپنے فیصلوں میں ان ترجیحات کو مقدم رکھتی ہے تو جمہوریت مضبوط ہوتی ہے ۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پشاور کا حالیہ اجلاس محض ایک میٹنگ نہیں بلکہ ایک پیغام تھا،یہ پیغام کہ سیاست اگر وسیع تر مفاد کے لیے کی جائے تو اختلاف کے باوجود اتفاق کی راہیں نکل سکتی ہیں، اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ سوچ آنے والے دنوں میں عملی اقدامات کی صورت میں کس حد تک سامنے آتی ہے، اگر یہی طرزِ عمل برقرار رہا تو یہ صوبے کے سیاسی کلچر میں ایک مثبت اور دیرپا تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے ۔

