اسلام آباد (4 مارچ 2026) سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے 3 اور 4 مارچ کی درمیانی شب پاک افغان سرحد سے ملحقہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر سخت جوابی فوجی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن سرحد پار سے مبینہ دہشت گردی کی سرگرمیوں کے ردعمل میں کیا جا رہا ہے، جس میں کالعدم عناصر کے ٹھکانوں اور ان کے سہولت کاروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق کارروائی کا مقصد دراندازی روکنا، دہشت گرد نیٹ ورکس کو نقصان پہنچانا اور قومی سلامتی کو درپیش خطرات کا خاتمہ کرنا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 50 سے زائد مقامات پر کارروائی کی جا رہی ہے۔ آپریشن میں جدید اور بھاری ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں، جن میں براہ راست اور بالواسطہ فائرنگ کے نظام، اینٹی ٹینک گائیڈڈ میزائل، راکٹ لانچرز، طویل فاصلے تک مار کرنے والے مارٹر، ہلکی و بھاری توپخانہ، مین بیٹل ٹینک اور سوارم ڈرونز شامل ہیں۔ یہ ڈرونز زمینی دستوں کے ساتھ مربوط ہو کر مخصوص اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
کارروائی بلوچستان کے حساس سرحدی سیکٹرز میں جاری ہے، جن میں شامل ہیں:
-
قلعہ سیف اللہ: پشین، لوئے بند اور بادینی سیکٹر
-
ژوب: سمبازہ اور گھڈوانہ سیکٹر
-
نوشکی: جانی اور غزنالی سیکٹر
-
چلتن رینجز: گلستان، دوبندی اور ششکا سیکٹر
حکام کا کہنا ہے کہ ان علاقوں کو مبینہ طور پر سرحد پار دہشت گردی کی منصوبہ بندی اور نقل و حرکت کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک سرحد پار خطرات کو مکمل طور پر غیر مؤثر نہیں بنا دیا جاتا اور سرحدی علاقوں میں دفاعی توازن بحال نہیں ہو جاتا۔
پاکستان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری، سرحدوں کے تحفظ اور شہریوں کی سلامتی کے لیے ہر ممکن اور فیصلہ کن اقدام اٹھانے کے لیے پُرعزم ہے۔ یہ پیش رفت پاک افغان سرحد پر حالیہ کشیدگی کے تناظر میں سامنے آئی ہے، جہاں دونوں اطراف سے الزامات اور جوابی بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔

