وزیر اعلیٰ ہاؤس پشاور میں وزیراعلیٰ سہیل آیل آفریدی کی زیر صدارت قبائلی عمائدین کا لویہ جرگہ منعقد ہوا، جرگے میں سفارشات کی روشنی میں ایک مختصر نمائندہ جرگہ تشکیل دیا جائے گا جو وفاقی حکومت اور دیگر سٹیک ہولڈرز سے مذاکرات کرے گا، جبکہ مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں اسلام آباد کی جانب مارچ کا عندیہ بھی دیا گیا ۔
پشاور: جرگہ ڈرون حملوں، مسلسل بدامنی اور قبائلی اضلاع میں امن و امان کی خراب صورتحال کے پیش نظر طلب کیا گیا، جس میں قبائلی مشران، منتخب نمائندے، سینیٹرز، اپوزیشن اراکین، علمائے کرام اور دیگر عمائدین نے شرکت کی ۔ شرکاء نے ڈرون حملوں کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصان پر شدید تشویش کا اظہار کیا ۔
جرگت سے اپنے خطاب میں وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ عوام میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جرگہ کی سفارشات کی روشنی میں ایک مختصر نمائندہ جرگہ تشکیل دیا جائے گا جو وفاقی حکومت اور دیگر سٹیک ہولڈرز سے مذاکرات کرے گا، جبکہ مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں اسلام آباد کی جانب مارچ کا عندیہ بھی دیا گیا ۔
محمد سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ صوبائی حکومت قبائلی اضلاع میں امن کے قیام کے لیے عملی اقدامات کرے گی اور ڈرون حملوں کی روک تھام کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنائی جائے گی ۔
جرگہ میں قبائلی اضلاع کے مالی اور آئینی حقوق، فاٹا انضمام کے بعد وعدہ کیے گئے فنڈز اور این ایف سی میں صوبے کے حصے سے متعلق امور پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی، اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ان حقوق کے حصول کے لیے بھرپور جدوجہد کی جائے گی ۔

