وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نےکہاہےکہ 200 یونٹ سےکم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو سبسڈی ملتی رہےگی، بجلی صارفین کے میٹر کیو آرکوڈ سے منسلک کیے جائیں گے،کیو آرکوڈکی معلومات کی بنیاد پر سبسڈی کا فیصلہ کیا جائےگا ۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر توانائی نے کہا کہ حکومت پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے بجلی سبسڈی ختم نہیں کر رہی، بجلی پر سبسڈی لینے والوں کی تعداد 2 کروڑ 15 لاکھ ہوچکی ہے، تمام صارفین کا کیو آر کوڈ کے ذریعہ ڈیٹا مرتب کریں گے ۔
اویس لغاری کا کہنا تھا کہ جو لوگ بڑے بڑے سولر سسٹم لگا کر 200 یونٹ سے نیچے آچکے ہیں، وہ 200 یونٹ سے اوپر بجلی استعمال کرنے اور مکمل بل دینے والوں پر بوجھ بن چکے ہیں،کیو آرکوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی دیتے رہیں گے ۔
وفاقی وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ توانائی شعبے کی اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں، پاورسیکٹر اصلاحات سے صارفین کو براہِ راست ریلیف ملا ہے، بجٹ میں سبسڈی کا حجم کم کرنے سے قومی خزانے پر بوجھ کم ہوا ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ صنعتی صارفین پر کراس سبسڈی کا بوجھ کم کیا گیا، مارچ2024 سے مئی2026 تک تمام کیٹگریز کے صارفین کے لیے بجلی سستی ہوئی، پروٹیکٹڈ کیٹیگری والے صارفین کے بجلی نرخوں میں31 فیصد کمی آئی ہے، گھریلو صارفین کے بجلی نرخوں میں 16 فیصد کمی آئی ہے، صنعتی صارفین کے نرخوں میں33 فیصد،کمرشل کے لیے بجلی 8 فیصد سستی ہوئی ۔
اویس لغاری کا کہنا تھا کہ بجلی کی پیداوار کے لیے مقامی ذرائع پر انحصار مسلسل بڑھ رہا ہے، سال 2035 تک کلین انرجی کا شیئر 90 فیصد ہوجائےگا جو ابھی 55 فیصد ہے، اس عرصے میں مقامی وسائل سے پیداوار موجودہ 74 فیصد سے96 فیصد ہوجائےگی، پاکستان کا قابل تجدید توانائی کا شیئر57 فیصد تک ہے، بھارت کا قابل تجدید توانائی کا شیئر48 فیصد تک ہے ۔

