سوات (عدنان باچہ ) جماعت اسلامی خیبر پختونخوا شمالی کے امیر عنایت اللہ خان نے مجوزہ صوبائی بجٹ میں ترقیاتی سکیموں میں بڑے پیمانے پر کٹوتیوں، اے ڈی پی سے 50 ارب روپے کی سکیموں کے اخراج اور بعض منصوبوں کو فریز کیے جانے کے فیصلے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے حکومت کی انتظامی ناکامی قرار دیا ہے ۔
سوات: جماعت اسلامی سٹی ڈسٹرکٹ مینگورہ کے دفتر میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ملاکنڈ ڈویژن میں 28 ارب روپے کی ترقیاتی سکیمیں مکمل طور پر ڈراپ جبکہ 20 ارب روپے کی سکیمیں فریز کر دی گئی ہیں جو عوامی مفاد کے خلاف ہے ۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان سکیموں کو فوری طور پر بحال کیا جائے اور پہلے سے منظور شدہ پرانی ترقیاتی اسکیموں کو ترجیح دے کر بروقت مکمل کیا جائے ۔
ان کا کہنا تھا کہ تعلیم اور صحت کے شعبوں کے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے جبکہ سرکاری ملازمین کو 2015کے مطابق تنخواہیں دینے پر تشویش ہے اور اس میں اضافہ ناگزیر ہے ۔
انہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ سروسز سیلز ٹیکس کا نفاذ فوری طور پر ختم کیا جائے کیونکہ ملاکنڈ ڈویژن کے عوام اس بوجھ کے متحمل نہیں ہو سکتے، ساتھ ہی وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خام مال پر جنرل سیلز ٹیکس میں 12 فیصد سے 14 فیصد اضافہ مسترد کیا جاتا ہے اور اسے فوری طور پر واپس لیا جائے بصورت دیگر صنعتی یونٹس کی بندش کا خدشہ ہے ۔
انہوں نے انکم ٹیکس کے ممکنہ نفاذ پر بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن اور ضم اضلاع میں اس ٹیکس کے نفاذ کا فیصلہ واپس لیا جائے، صوبائی حکومت عوام کو ریلیف دینے میں ناکام ہو چکی ہے اور مالیاتی معاملات میں بدانتظامی واضح نظر آ رہی ہے ۔
انہوں نے کراچی سے مشیر خزانہ لانے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ 91 ارکان اسمبلی میں کوئی اہل فرد موجود نہیں تھا جو یہ ذمہ داری سنبھال سکتا، جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن عوامی حقوق کی جدوجہد کر رہے ہیں اور عوام کو ان کا ساتھ دینا چاہیے ۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ملاکنڈ ڈویژن اور ضم اضلاع میں ٹیکسوں کا نفاذ جاری رکھا گیا تو تاجربرادری کے ساتھ مل کر بھرپور عوامی تحریک چلائی جائے گی، اس موقع پر جماعت اسلامی مینگورہ سٹی کے امیر محمد امین، اختر علی خانجی، نعیم اللہ، نوید خان اور ڈاکٹر عبیداللہ سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے ۔

