وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ 2018 کے الیکشن کی تحقیقات کر لیں، دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جاتا ہے، اس میں اگر جادوگری نہیں ہوئی اور بکسے نہیں بھرے گئے، اگر وہ جائز حکومت ہے تو یہ بھی جائز حکومت ہے ۔
اسلام آباد: قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے کہا کہ بتایا جائے سال 2018میں کیا لوگوں کو پٹے پہنا کر حکومت نہیں بنائی گئی، اگر سال 2018کی حکومت جائز ہے تو یہ بھی جائز ہے، گزشتہ انتخابات اور 2018 کے انتخابات کی تحقیقات کروا لیں، بات نکلی تو بہت دور تلک جائے گی ۔
ان کا کہنا تھا 2018 کے الیکشن کی تحقیقات کر لیں، دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جاتا ہے، اس میں اگر جادوگری نہیں ہوئی اور بکسے نہیں بھرے گئے، اگر وہ جائز حکومت ہے تو یہ بھی جائز حکومت ہے ۔
اگلے ساٹھ روز میں ایم او یو کے مطابق تکنیکی مذاکرات ہوں گے، ساٹھ روزبعد امریکہ ایران ایک مستقل عالمی امن معاہدے تک پہنچیں گے، کل کے دنیا تمام اخبارات نے پاکستان کی کامیابی سفارتکاری کی تعریف کررہے ہیں ۔
وزیراعظم نے کہا کہ آج ایران کے صدر پاکستان تشریف لا رہے ہیں، آج ان کے ساتھ دونوں ممالک کے درمیاں تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے لئے گفتگو ہوگی، آج کا دن اختلافی معاملات اٹھانے کا دن نہیں تھا، اپوزیشن لیڈر نے جو بات کی وہ حقائق کے خلاف ہے، کہ یہ غیر قانونی حکومت ہے ۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سوئٹزرلینڈ میں پاکستان کی میزبانی میں ایران امریکہ معاہدہ ہوا ہے، آج ایران امریکہ کے درمیان جنگ بندی ہوچکی ہے ۔

