پشاور،: خیبر پختونخوا میں آئی ایل ایم پیکٹ پروگرام کے تحت 97 ہزار سے زائد بچوں کی پڑھنے، لکھنے اور بنیادی حسابی صلاحیتوں میں نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ صوبائی حکومت نے پروگرام کے کامیاب ماڈل کو سرکاری تعلیمی نظام کا حصہ بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے ۔
پروگرام کے نتائج جمعرات کے روز پشاور میں منعقدہ تقریب "آئی ایل ایم پیکٹ اسپاٹ لائٹ: خیبر پختونخوا کے ہر بچے کے لیے بنیادی خواندگی اور حسابی مہارتوں کا فروغ” کے دوران پیش کیے گئے۔ اس تقریب کا مشترکہ انعقاد حکومت خیبر پختونخوا اور محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم (E&SED) نے کیا۔
حکام کے مطابق پروگرام سے مجموعی طور پر 97 ہزار 413 بچوں نے براہِ راست استفادہ کیا۔ یہ پروگرام صوبے کے آٹھ اضلاع، بٹگرام، بونیر، چارسدہ، ڈیرہ اسماعیل خان، مانسہرہ، پشاور، شانگلہ اور صوابی کے 320 سرکاری اسکولوں میں نافذ کیا گیا، جن میں 200 گرلز پرائمری اسکول اور 120 مڈل و ہائی اسکول شامل تھے۔
اعداد و شمار کے مطابق ایک سال سے بھی کم عرصے میں اردو میں کہانی پڑھنے کے قابل بچوں کی تعداد میں 79 فیصد، انگریزی میں جملہ پڑھنے والے بچوں کی تعداد میں 52 فیصد جبکہ ریاضی میں تفریق (منفی) کے سوالات حل کرنے کی صلاحیت رکھنے والے بچوں کی تعداد میں 64 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
حکام نے بتایا کہ ہر طالب علم کو تقریباً 140 گھنٹے اضافی تدریسی معاونت فراہم کی گئی، جو ٹیچنگ ایٹ دی رائٹ لیول (TaRL) طریقۂ تدریس کے تحت دی گئی۔ اس طریقہ کار میں بچوں کو عمر یا جماعت کے بجائے ان کی تعلیمی استعداد اور ضرورت کے مطابق گروپوں میں تقسیم کیا جاتا ہے تاکہ اساتذہ خواندگی اور حسابی مہارتوں میں موجود کمی کو مؤثر انداز میں دور کر سکیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن خیبر پختونخوا کے منیجنگ ڈائریکٹر قیصر عالم نے کہا کہ پروگرام نے یہ ثابت کیا ہے کہ بروقت اور ہدفی تدریسی معاونت تعلیمی طور پر پیچھے رہ جانے والے بچوں کی زندگی میں نمایاں تبدیلی لا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا، ’’ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ درست حکمت عملی اور مناسب تدریسی معاونت ایسے بچوں کی تعلیمی کارکردگی میں کس طرح بہتری لا سکتی ہے جو پیچھے رہ گئے تھے۔ آئی ایل ایم پیکٹ نے ہمیں ایک ایسا مؤثر ماڈل فراہم کیا ہے جسے صوبے کے سرکاری اسکولوں میں وسعت دی جائے گی تاکہ خیبر پختونخوا کا کوئی بھی بچہ پڑھنے، لکھنے اور گننے کی بنیادی صلاحیت سے محروم نہ رہے۔‘‘
تقریب کے دوران ایک پینل مباحثہ بھی منعقد ہوا جس میں بنیادی تعلیم، شواہد پر مبنی تدریسی حکمت عملی، تعلیمی تلافی، شمولیت اور بچوں کے تحفظ جیسے موضوعات پر گفتگو کی گئی۔ شرکاء نے پروگرام کے دائرہ کار کو پورے صوبے تک توسیع دینے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
صوبائی حکومت نے پروگرام کی کامیابی میں برطانیہ کے فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس (FCDO)، برٹش کونسل، شراکت دار اداروں، اساتذہ اور طلبہ کے کردار کو سراہتے ہوئے بنیادی خواندگی اور حسابی مہارتوں کے فروغ کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

