پنجاب یونیورسٹی کے سینٹر آف ایکسیلنس اِن مالیکیولر بائیولوجی (CEMB) نے موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے زرعی چیلنجز کے تدارک کے لیے جینوم ایڈیٹنگ اور کروپ بائیوٹیکنالوجی پر مرکوز ایک چار روزہ بین الاقوامی تربیتی پروگرام کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ پروگرام COMCEC اور COMSTECH کے تعاون سے منعقد کیا گیا، جس میں مختلف ممالک کے سائنسدان، طلبہ اور پالیسی سازوں نے شرکت کی۔
افتتاحی تقریب میں پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی، جمہوریہ تاجکستان کے سفارتخانے کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن ماروف عبدالرحمان، COMSTECH کے ایڈوائزر پروفیسر شاہد محمود بیگ، پنجاب ایگریکلچر فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی (PAFDA) کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر طلعت نصیر پاشا، ڈائریکٹر CEMB پروفیسر ڈاکٹر معاذ الرحمٰن، SESRIC کی نمائندہ ڈاکٹر عالیہ (آن لائن)، OIC رکن ممالک کے ماہرین، CEMB کے سائنسدانوں، اساتذہ، محققین اور طلبہ شریک ہوئے۔
وائس چانسلر کا CRISPR تحقیق پر اظہارِ خیال
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے پنجاب یونیورسٹی کو ملک کا علمی اور تعلیمی مرکز قرار دیا۔ انہوں نے CEMB کے محققین کی کاوشوں کو سراہا، خصوصاً CRISPR سمیت جدید ٹیکنالوجیز کے شعبے میں ان کے تحقیقی کام کو اہم قرار دیا۔
انہوں نے تاجکستان، ترکیہ، آذربائیجان، بنگلہ دیش اور ازبکستان سے آنے والے مندوبین کا خیرمقدم کیا اور شرکاء پر زور دیا کہ وہ اس تربیتی پروگرام سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے جینوم ایڈیٹنگ اور کروپ بائیوٹیکنالوجی میں زیادہ سے زیادہ علمی اور عملی مہارت حاصل کریں۔
تاجکستانی سفارتخانے کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن ماروف عبدالرحمان نے دعوت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ تاجکستان اور پاکستان کے درمیان تعلیم، ثقافت، سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مضبوط اور دوستانہ تعلقات قائم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کے پروگرام دونوں ممالک کے اداروں کے مابین روابط مضبوط کرنے اور باہمی تعاون کے نئے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
سائنسی اداروں میں CEMB کا مقام
پروفیسر شاہد محمود بیگ نے کہا کہ CEMB پاکستان سمیت خطے کے جدید سائنسی و تکنیکی اداروں میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ مرکز سائنسی تعلیم، باہمی تبادلے، نیٹ ورکنگ اور تحقیقی تعاون کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم فراہم کر رہا ہے، جبکہ اس کے فیکلٹی ارکان ملک کے ممتاز اور باصلاحیت سائنسدانوں میں شامل ہیں۔
ڈائریکٹر CEMB پروفیسر ڈاکٹر معاذ الرحمٰن نے بتایا کہ ادارہ اب تک مختلف ایگری ٹیک اداروں کے ساتھ 20 سے زائد معاہدے کر چکا ہے اور جینوم ایڈیٹنگ کے شعبے میں وسیع مہارت رکھتا ہے۔ انہوں نے جاری تحقیقی منصوبوں اور مستقبل کے اقدامات پر روشنی ڈالی، جن میں کلین روم کا قیام بھی شامل ہے۔
انہوں نے ورکشاپ کی مالی معاونت پر COMCEC کا شکریہ ادا کیا، جبکہ تحقیق کے فروغ میں COMSTECH اور PAFDA کے تعاون کو بھی سراہا۔ ساتھ ہی غیر ملکی ماہرین اور شرکاء کی شرکت پر بھی اظہارِ تشکر کیا۔
ورکشاپ کے فوکل پرسن ڈاکٹر عبدالقیوم راؤ نے پروگرام کا تعارف پیش کیا اور COMCEC، COMSTECH، وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی اور ڈائریکٹر CEMB پروفیسر ڈاکٹر معاذ الرحمٰن کی معاونت پر شکریہ ادا کیا۔
کاٹن ٹیکنالوجی اور صنعتی شراکت داری
CEMB کے سائنسدان اور Genetech کے نمائندے ڈاکٹر ادریس احمد ناصر نے بتایا کہ CEMB کے تعاون سے CKC کاٹن ٹیکنالوجی کامیابی کے ساتھ کسانوں تک پہنچائی گئی ہے، جن میں سندھ کے کاشتکار بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ CEMB کی تیار کردہ ٹیکنالوجیز کپاس کی بہتری کے ساتھ ساتھ زیادہ شور زدگی (soil salinity) سے متاثرہ علاقوں کے لیے بھی نہایت مفید ہیں۔
سی ای ایم بی کے نمائندے کے مطابق ادارے کی ٹیم میں فور برادرز گروپ کے سابق طلبہ بھی شامل ہیں جنہوں نے حاصل شدہ معیاری تربیت کی بنیاد پر سات پیٹنٹس کی تیاری میں کردار ادا کیا۔
تقریب کے اختتام پر پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے غیر ملکی مندوبین اور معزز مہمانوں میں یادگاری شیلڈز اور سووینئرز تقسیم کیے، جبکہ ڈائریکٹر CEMB پروفیسر معاذ الرحمٰن، پروفیسر شاہد بیگ اور پروفیسر طلعت نصیر پاشا نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی کو بھی سووینئر پیش کیا۔

