اسلام آباد میں اقرا یونیورسٹی کے H-9 کیمپس میں AICoP کانفرنس 2.0 کا انعقاد کیا گیا، جس میں اکیڈمیا اور انڈسٹری کے درمیان روابط مضبوط بنانے، نوجوانوں کو مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ مہارتیں فراہم کرنے اور پاکستان میں جدت و معاشی ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنے پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
کانفرنس میں جامعات، کاروباری تنظیموں، صنعت، سفارتی برادری اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب کا بنیادی مقصد اعلیٰ تعلیم اور نجی شعبے کے درمیان تعاون کو فروغ دینا اور طلبہ کو عملی دنیا کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے مشترکہ اقدامات کی راہ ہموار کرنا تھا۔
راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (RCCI) کے صدر عثمان شوکت نے کانفرنس سے کلیدی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ جامعات اور کاروباری اداروں کے درمیان مضبوط تعاون نوجوانوں کو مارکیٹ سے متعلقہ مہارتیں فراہم کرنے، کاروباری سوچ کو فروغ دینے اور پاکستان کے نوجوانوں کے لیے روزگار و ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے۔
انہوں نے اکیڈمیا اور انڈسٹری کے باہمی اشتراک کو پاکستان کی پائیدار معاشی ترقی کی کوششوں سے جوڑتے ہوئے کہا کہ جامعات اور نجی شعبے کو مل کر مستقبل کی افرادی قوت تیار کرنا ہوگی۔
اہم شخصیات کی شرکت
AICoP کانفرنس 2.0 میں متعدد اہم شخصیات نے شرکت کی۔ اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کی قائم مقام ناظم الامور نٹالی اے بیکر تقریب کی چیف گیسٹ تھیں، جبکہ اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ICCI) کے صدر سردار طاہر محمود نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔

اقرا یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی تقریب میں موجود تھے، جبکہ خیبر نیٹ ورک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، خیبر اکیڈمی فار میڈیا ٹیکنالوجیز کے بانی اور خیبر ڈیجیٹل کے چیف ایگزیکٹو کیوان حامد راجہ نے پینلسٹ کی حیثیت سے کانفرنس میں شرکت کی۔

کیوان حامد راجہ نے اپنے خصوصی کلمات میں کانفرنس کو بروقت اور انتہائی اہم اقدام قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا اور اکیڈمیا کے درمیان موجود فاصلے کو ختم کرنے کے لیے کسی ایک فریق کو پہلا قدم اٹھانا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ میڈیا انڈسٹری کو اکیڈمیا کی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی اکیڈمیا کو میڈیا انڈسٹری کی، اس لیے دونوں شعبوں کو ایک دوسرے کے مسائل اور ضروریات کو سمجھنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کرنا ہوں گی۔
مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی پر توجہ
کانفرنس میں مصنوعی ذہانت، ٹیکنالوجی پر مبنی جدت، ڈیجیٹل معیشت اور مستقبل کی مہارتوں سمیت مختلف موضوعات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مقررین اور پینلسٹس نے تحقیق، صنعت اور جامعات کے درمیان تعاون، ڈیجیٹل معیشت کے لیے نوجوانوں کی تیاری اور تعلیمی پروگرامز کو روزگار کی مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے پر زور دیا۔
شرکاء نے اس امر پر بھی گفتگو کی کہ تیزی سے تبدیل ہوتی ہوئی ٹیکنالوجی کے دور میں جامعات کو طلبہ کو صرف روایتی تعلیم تک محدود رکھنے کے بجائے عملی اور جدید مہارتوں سے بھی آراستہ کرنا ہوگا۔
منتظمین کے مطابق AICoP کانفرنس 2.0 محض ایک روزہ تقریب نہیں بلکہ اکیڈمیا اور انڈسٹری کے درمیان مستقل روابط اور علم و تجربے کے تبادلے کے لیے ایک دیرپا پلیٹ فارم قائم کرنے کی کوشش ہے۔
خیبر نیٹ ورک اور KAY2 کی شراکت
کانفرنس کو خیبر نیٹ ورک اور KAY2 سمیت مختلف شراکت دار اداروں کا تعاون حاصل رہا۔ اس تعاون کے ذریعے صنعت، میڈیا اور تعلیمی اداروں کے نمائندوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر اپنے خیالات اور تجربات شیئر کرنے کا موقع ملا۔
شرکاء کے مطابق پاکستان میں مہارتوں کے خلا کو کم کرنے، نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور ٹیکنالوجی و جدت کو فروغ دینے کے لیے اکیڈمیا، انڈسٹری اور حکومت کے درمیان باہمی تعاون ناگزیر ہے۔

AICoP کانفرنس 2.0 میں ہونے والی گفتگو نے اس ضرورت کو اجاگر کیا کہ پاکستان کے تعلیمی ادارے اور نجی شعبہ الگ الگ کام کرنے کے بجائے مشترکہ حکمت عملی کے تحت نوجوانوں کو مستقبل کی معیشت کے لیے تیار کریں۔


