وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی گورنر ہاؤس پشاور میں گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے اہم ملاقات ہوئی جس میں صوبے کو دہشت گردی سے بچانے کے لیے آئینی کردار ادا کرنے پر اتفاق کیا گیا، ملاقات میں چیف سیکرٹری اور آئی جی بھی موجود تھے، ملاقات میں صوبے میں امن و امان کی صورتحال اور پی ٹی آئی کے لانگ مارچ پر غور کیا گیا ۔
گورنر ہاؤس سے جاری کردہ اعلاميہ میں بتایا گیا ہے کہ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے درمیان گورنر ہاؤس پشاور میں ہونے والی ملاقات میں صوبائی سطح پر متعدد اہم معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا، دونوں رہنماؤں نے صوبہ میں بڑھتی بدامنی، سیاسی صورتحال اور لانگ مارچ سے پیدا صورتحال کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی ۔
ملاقات میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا لانگ مارچ کے دوران دہشت گردوں کو سیکورٹی چیک پوسٹوں سے بحفاظت کراس کرانے کی سہولت کاری فراہم کرنے کا خدشہ ہے، مذاکراتی عمل میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے حوالے سے صوبائی حکومت کا رویہ اور کردار عوام اور صوبہ دشمنی کے مترادف تھا اور مسائل کے حل پر اتفاق کے بعد صوبائی حکومت نے ہٹ دھرمی اور غیرذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے یو ٹرن کی روش کو دہرایا ۔
ملاقات میں وزیر اعلی خیبرپختونخوا اور صوبائی وزراء کے لانگ مارچ میں ہیلی کاپٹر اور دیگر سرکاری وسائل کے استعمال کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی قرار دیا گیا ۔
ملاقات میں باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور متعدد امور پر مشاورت کی گئی، ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ صوبے کو دہشت گردی اور تباہی سے بچانے کے لیے جب بھی صدر پاکستان اور وزیر اعظم پاکستان گورنر راج یا ایمرجنسی لگانا ضروری سمجھیں تو گورنر ہاؤس بھرپور آئینی کردار ادا کرے گا ۔
اس سے قبل وزیر داخلہ نے پی ٹی آئی سے مذاکرات کے معاملات پر صدر مملکت سے رابطہ کیا، وزیراعظم سے ملاقات کی، ملاقات میں اتفاق کیا گیا کہ جب بھی صدر اور وزیر اعظم گورنر راج یا ایمرجنسی لگانا ضروری سمجھیں تو گورنر ہاؤس بھرپور آئینی کردار ادا کرے گا ۔
وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر داخلہ محسن نقوی کے درمیان ملاقات ہوئی، ذرائع کے مطابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کے بعد محسن نقوی کے گھر پہنچے، ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر داخلہ محسن نقوی کی گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یہ دوسری ملاقات ہے ۔

