Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعہ, مئی 8, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • بابراعظم انجری کے باعث بنگلا دیش کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ سے باہر ہو گئے
    • پاکستان کو آئی ایم ایف سے 200 ملین ڈالر ملنے کا امکان
    • نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور سنگاپور کے وزیر خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ،خطے میں امن کیلئے پاکستان کے کردار کو سراہا
    • ملکی زرمبادلہ ذخائر ہر ہفتے بڑھ رہے ہیں، بیرونی قرضہ 100ارب ڈالر پر برقرار ہے، گورنر اسٹیٹ بینک
    • اسرائیلی حملے میں حماس کے مرکزی رہنما خلیل الحیہ کا چوتھا بیٹا بھی شہید
    • دو سالوں میں ادویات کی قیمتوں میں 100 فیصد اضافہ، قائمہ کمیٹی انکشاف
    • بھارت کا دہشت گردی ڈرامہ ہمیشہ کیلئے دفن، معرکہ حق میں پانچ گنا بڑے دشمن کو ہر محاذ پر شکست دی: ترجمان پاک فوج
    • ملکی زرمبادلہ ذخائر میں ہر ہفتے اضافہ، بیرونی قرضہ 100ارب ڈالر پر برقرار: گورنر سٹیٹ بینک
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » ملاکنڈ اور قبائلی علاقوں میں ٹیکس دینے کی سکت نہیں ہے، عنایت اللہ خان (رہنما جماعتِ اسلامی)
    اہم خبریں

    ملاکنڈ اور قبائلی علاقوں میں ٹیکس دینے کی سکت نہیں ہے، عنایت اللہ خان (رہنما جماعتِ اسلامی)

    مئی 17, 2024کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    خیبر نیوز کے پروگرام کراس ٹاک میں بات کرتے ہوئے رہنما جماعت اسلامی عنائت اللہ خان  نے کہا ہے کہ ملاکنڈ اور قبائلی علاقوں میں ٹیکس دینے کی سکت نہیں ہے۔

    پروگرام کراس ٹاک میں بات کرتے ہوئے عنایت اللہ خان نے وفاقی حکومت کی جانب سے ملاکنڈ اور سابقہ فاٹا میں ٹیکس نظام لانے پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان علاقوں کو پاکستان میں شامل ہونے پر مخصوص ٹیکسوں سے مستثنیٰ قرار دیا گیا تھا۔ ملاکنڈ اور سابقہ فاٹا میں ٹیکس کا نفاذ ہے مگر محدود شعبوں تک ہے، باقی ان علاقوں میں ٹیکس کا نظام جوں کا توں ہے۔

    آج اگر ملاکنڈ اور سابقہ فاٹا میں غربت کے اشاریے دیکھے جائیں تو یہ علاقے افریقی ممالک سے زیادہ پسماندہ ہیں، اسلئے ان پر مزید ٹیکس لانا جائز نہیں ہے۔ ملاکنڈ اور قبائلی اضلاع جو اب خیبر پختونخوا کا باقاعدہ حصہ ہیں ان علاقوں میں اگر اراضی کی ٹرانسفر پر ٹیکس نہیں ہے تو اسکی وجہ یہاں اراضی بندوبست نہ ہونا ہے، یہاں زیادہ تر علاقوں میں اراضی بندوبست کا نظام ہی موجود نہیں ہے تو اس پر ٹیکس کیسے لگایا جاسکتا ہے۔

    عنایت اللہ خان نے مزید کہا کہ سیلز ٹیکس کا نظام یہاں باقی ماندہ ملک کی طرح موجود ہے مگر سروسز پر سیلز ٹیکس جو صوبائی ڈومین میں آتا ہے، ملاکنڈ اور قبائیلی اضلاع میں نافذ العمل نہیں ہے۔

    ایک سوال کے جواب میں عنایت اللہ خان نے کہا کہ پاٹا اور سابقہ فاٹا کا سٹیٹس ملک کے دیگر علاقوں سے الگ ہے یہ علاقے علیحدہ ریاستیں تھی جو پاکستان بننے کے بعد کچھ شرائط کی بنیاد پر پاکستان میں شامل ہوئی تھیں اور اس میں مخصوص ٹیکس سے استثنا شامل تھا۔

    عنایت اللہ خان کے مطابق یہ علاقے دیگر زرائع سے ملک کی معیشت میں اپنا حصہ ڈال رہے جسمیں صرف ملاکنڈ کے لوگ جو بیرون ملک سے بینکنگ چینلز کے ذریعے سالانہ چار ارب ڈالر اور نان بینکنگ چینلز کے ذریعے چھ ارب ڈالر کے محصولات ملک میں بھیجتے ہیں اور یہ صرف عرب ممالک سے ہیں، جو اُن ٹیکسز کے مقابلے میں جس سے استثنا حاصل ہے کئی گنا زیادہ ہے۔ اسطرح یہ علاقے دیگر شعبوں میں جیسے مائننگ، تمباکو اور ٹیمبر اور ہائیڈل پاور کی شکل میں اربوں روپے کا ریونیو صوبائی حکومت کو دیتا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleوفاقی حکومت نے ضم اضلاع کے لئے ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا اعلان کر دیا
    Next Article کوہاٹ:تیز رفتاری کے باعث مسافر کوچ حادثے کا شکار،خواتین سمیت 9 افراد زخمی
    Web Desk

    Related Posts

    پاکستان کو آئی ایم ایف سے 200 ملین ڈالر ملنے کا امکان

    مئی 7, 2026

    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور سنگاپور کے وزیر خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ،خطے میں امن کیلئے پاکستان کے کردار کو سراہا

    مئی 7, 2026

    ملکی زرمبادلہ ذخائر ہر ہفتے بڑھ رہے ہیں، بیرونی قرضہ 100ارب ڈالر پر برقرار ہے، گورنر اسٹیٹ بینک

    مئی 7, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    بابراعظم انجری کے باعث بنگلا دیش کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ سے باہر ہو گئے

    مئی 7, 2026

    پاکستان کو آئی ایم ایف سے 200 ملین ڈالر ملنے کا امکان

    مئی 7, 2026

    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور سنگاپور کے وزیر خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ،خطے میں امن کیلئے پاکستان کے کردار کو سراہا

    مئی 7, 2026

    ملکی زرمبادلہ ذخائر ہر ہفتے بڑھ رہے ہیں، بیرونی قرضہ 100ارب ڈالر پر برقرار ہے، گورنر اسٹیٹ بینک

    مئی 7, 2026

    اسرائیلی حملے میں حماس کے مرکزی رہنما خلیل الحیہ کا چوتھا بیٹا بھی شہید

    مئی 7, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.