Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, اگست 4, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر ہیڈکوارٹرز کا دورہ، مون سون آفات سے نمٹنے کی تیاریوں کا جائزہ
    • جنوبي افريقه کے سابق کرکټر مائیکل سمتھ پاکستان کرکٹ ٹیم کے بیٹنگ کوچ مقرر
    • متحدہ عرب امارات نے پاکستانیوں کیلئے ویزا اجرا بحال کر دیا، رجسٹرڈ ٹریول ایجنٹس کے ذریعے درخواستیں قبول
    • لکی مروت میں سیکیورٹی فورسز کا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، متعدد دہشت گرد ہلاک، کئی ٹھکانے تباہ
    • ایس ای سی پی نے کارپوریٹ ڈیٹ مارکیٹ اصلاحات کیلئے اعلیٰ سطحی ورکنگ گروپ قائم کر دیا
    • یومِ شہدائے پولیس: وزیراعظم شہباز شریف کا پولیس شہدا کو خراجِ عقیدت، اہلِ خانہ کی مکمل معاونت کا اعادہ
    • پاکستان نے پہلی اننگز دو وکٹوں پر 266 رنز بنا لیے، ویسٹ انڈیز کی 78 رنز کی برتری باقی
    • ایران۔امریکہ مذاکرات کی خبروں کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافے کی رفتار سست
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » بظاہر لگ رہا ہے حکومت ہی جبری گمشدگیوں کی بینیفشری ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ
    اہم خبریں

    بظاہر لگ رہا ہے حکومت ہی جبری گمشدگیوں کی بینیفشری ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ

    اگست 23, 2024کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Missing person case hearing in Islamabad High Court
    Missing person case hearing in Islamabad High Court
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اظہر مشوانی کے 2 لاپتہ بھائیوں کی بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت کی، درخواست گزار اظہر مشوانی کے والد کے وکیل بابر اعوان اور آمنہ علی عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

    سماعت کے دوران  جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اپنے ریمارکس میں کہا  کہ لوگوں کو اٹھایا جارہا ہے مگر چیف ایگزیکٹیو کچھ نہیں کر رہے، بظاہر لگ رہا ہے کہ حکومت ہی جبری گمشدگیوں کی بینیفشری ہے۔

    دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ کچھ معلوم ہوا ہے؟ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل نے بتایا کہ آج بھی ہائی لیول پر رابطہ ہوا ہے، ہر لحاظ سے کوشش جاری ہے۔

    اس دوران پنجاب پولیس لاہور کے ایس پی نے عدالت کو  بتایا کہ فیملی کی جانب سے سی سی ٹی وی فوٹیج فراہم کی گئی ہے، ریزولیوشن کم ہونے کی وجہ سے نادرا یا فرانزک ایجنسی سے کچھ پتا نہیں چل سکا، جیو فینسنگ 10 ہزار نمبرز کی حاصل کی لیکن ابھی تک کچھ معلوم نہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ آج 23 اگست تک کوئی بھی قابل عمل معلومات نہیں ملی، سیف سٹی پراجیکٹ ہر اینگل سے کور نہیں کر پاتا، اس وقت تک کوئی بھی لا انفورسمنٹ ایجنسی اس حوالے سے کچھ پتا نہیں چلا سکی۔

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیئے کہ بظاہر یوں لگ رہا ہے کہ حکومت ہی جبری گمشدگیوں کی بینیفشری ہے، کیسے اس ملک میں لوگ اغوا ہوتے ہیں اور چیف ایگزیکٹو کچھ نہیں کرتے، اٹارنی جنرل نے کہا تھا وزیراعظم کو اس معاملے پر بریف کروں گا، چیف ایگزیکٹو کو ان معاملات کا پتہ ہے مگر پھر بھی لوگ جبری طور پر لاپتہ ہو جاتے ہیں۔

    عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ جب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں یہ کیس شروع ہوا ہے تفتیش رک گئی ہے، جس پر انہوں نے جواب دیا کہ جیو فینسنگ رپورٹ تیار کر لی گئی ہے۔

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے پوچھا کہ کب سے لاپتہ ہیں یہ دونوں، جس پر پولیس افسر نے بتایا کہ 6 جون سے غائب ہیں۔

    عدالت نے ریمارکس دیئے کہ 3 ماہ ہوگئے ہیں 2 بندے جبری طور پر لاپتہ ہیں، ان کے خاندان پر جو گزر رہا ہوگا ہمیں اندازہ ہے، لوگوں کو اٹھایا جا رہا ہے مگر چیف ایگزیکٹو کچھ نہیں کر رہے۔

    دوران سماعت وکیل بابر اعوان نے وزیراعظم کو عدالت بلانے کی استدعا کر دی، جس پر عدالت نے کہا کہ آئین میں ریاست کے سربراہ وزیراعظم جبکہ قانون کا سربراہ اٹارنی جنرل ہوتے ہیں، ہم نے ایک پراسس کے مطابق اٹارنی جنرل کو عدالت بلایا تھا۔

    جسٹس گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ اگر حکومت کو ڈیو پراسس فالو نہیں کرنا تو پھر کیا کہہ سکتے ہیں، ان چیزوں سے ملک کی کتنی بدنامی ہو رہی ہے، ان کو اندازہ نہیں، کیس کو منگل تک کیلئے رکھ رہا ہوں مگر منگل کو میں نہیں ہوں گا، میرے نہ ہونے کی وجہ سے اس کیس میں تاخیر نہیں چاہتے۔

    عدالت نے سربراہ جے آئی ٹی ایس پی لاہور کو رپورٹس جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کو یہ دیکھنا ہوگا کہ غیر پولیس نے پولیس کی وردی پہنی کیسے؟

    اس موقع پر بابر اعوان کی جانب سے عدالت سے سخت آرڈر پاس کرنے کی استدعا کی گئی، جس پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیئے کہ میں اس کیس پر آرڈر پاس کروں گا۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleخیبرپختونخوا سمیت بیشترعلاقوں میں 26 سے 29 اگست تک شدید بارشوں کا امکان
    Next Article راولپنڈی ٹیسٹ ، تیسرے دن کا کھیل ختم، بنگلہ دیش نے5 وکٹ پر 316 رنز بنالئے
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کا نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر ہیڈکوارٹرز کا دورہ، مون سون آفات سے نمٹنے کی تیاریوں کا جائزہ

    اگست 4, 2026

    یومِ شہدائے پولیس: وزیراعظم شہباز شریف کا پولیس شہدا کو خراجِ عقیدت، اہلِ خانہ کی مکمل معاونت کا اعادہ

    اگست 4, 2026

    پاکستان نے پہلی اننگز دو وکٹوں پر 266 رنز بنا لیے، ویسٹ انڈیز کی 78 رنز کی برتری باقی

    اگست 4, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کا نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر ہیڈکوارٹرز کا دورہ، مون سون آفات سے نمٹنے کی تیاریوں کا جائزہ

    اگست 4, 2026

    جنوبي افريقه کے سابق کرکټر مائیکل سمتھ پاکستان کرکٹ ٹیم کے بیٹنگ کوچ مقرر

    اگست 4, 2026

    متحدہ عرب امارات نے پاکستانیوں کیلئے ویزا اجرا بحال کر دیا، رجسٹرڈ ٹریول ایجنٹس کے ذریعے درخواستیں قبول

    اگست 4, 2026

    لکی مروت میں سیکیورٹی فورسز کا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، متعدد دہشت گرد ہلاک، کئی ٹھکانے تباہ

    اگست 4, 2026

    ایس ای سی پی نے کارپوریٹ ڈیٹ مارکیٹ اصلاحات کیلئے اعلیٰ سطحی ورکنگ گروپ قائم کر دیا

    اگست 4, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.