Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعہ, فروری 13, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • ویزا پالیسیوں میں سختی، جعلی ڈگریوں کے سکینڈلز، بیرون ملک جانے والے بھارتی طلبہ کی تعداد میں بڑی کمی
    • افغان سرزمین سے دہشتگردی ناقابل قبول ہے، طالبان اپنی ذمہ داری پوری کریں، پاکستان
    • اس سال بھی عازمین حج کو بہترین سہولیات کی فراہمی کے لیے وفاقی حکومت اقدام کررہی ہے، وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف
    • خودمختار ساوی کی دکھی انسانیت کے لیے خدمات قابلِ تحسین اور مثالی ہیں، مولانا ارشد قریشی
    • پی ٹی آئی کا پشاور موٹروے ٹول پلازہ پر احتجاج، ہر قسم کی ٹریفک معطل
    • بنوں میں مسلح افراد کا حملہ، پولیس اہلکار اغوا، گھر کو آگ لگا دی گئی
    • ٹی 20 ورلڈکپ میں بڑا اَپ سیٹ، زمبابوے نے آسٹریلیا کو شکست دیدی
    • بنگلادیش انتخابات میں بی این پی نے میدان مارلیا، دو تہائی اکثریت حاصل کرلی، جماعت اسلامی دوسرے نمبر پر رہی
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخواہ
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » بظاہر لگ رہا ہے حکومت ہی جبری گمشدگیوں کی بینیفشری ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ
    اہم خبریں

    بظاہر لگ رہا ہے حکومت ہی جبری گمشدگیوں کی بینیفشری ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ

    اگست 23, 2024کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Missing person case hearing in Islamabad High Court
    Missing person case hearing in Islamabad High Court
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اظہر مشوانی کے 2 لاپتہ بھائیوں کی بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت کی، درخواست گزار اظہر مشوانی کے والد کے وکیل بابر اعوان اور آمنہ علی عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

    سماعت کے دوران  جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اپنے ریمارکس میں کہا  کہ لوگوں کو اٹھایا جارہا ہے مگر چیف ایگزیکٹیو کچھ نہیں کر رہے، بظاہر لگ رہا ہے کہ حکومت ہی جبری گمشدگیوں کی بینیفشری ہے۔

    دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ کچھ معلوم ہوا ہے؟ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل نے بتایا کہ آج بھی ہائی لیول پر رابطہ ہوا ہے، ہر لحاظ سے کوشش جاری ہے۔

    اس دوران پنجاب پولیس لاہور کے ایس پی نے عدالت کو  بتایا کہ فیملی کی جانب سے سی سی ٹی وی فوٹیج فراہم کی گئی ہے، ریزولیوشن کم ہونے کی وجہ سے نادرا یا فرانزک ایجنسی سے کچھ پتا نہیں چل سکا، جیو فینسنگ 10 ہزار نمبرز کی حاصل کی لیکن ابھی تک کچھ معلوم نہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ آج 23 اگست تک کوئی بھی قابل عمل معلومات نہیں ملی، سیف سٹی پراجیکٹ ہر اینگل سے کور نہیں کر پاتا، اس وقت تک کوئی بھی لا انفورسمنٹ ایجنسی اس حوالے سے کچھ پتا نہیں چلا سکی۔

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیئے کہ بظاہر یوں لگ رہا ہے کہ حکومت ہی جبری گمشدگیوں کی بینیفشری ہے، کیسے اس ملک میں لوگ اغوا ہوتے ہیں اور چیف ایگزیکٹو کچھ نہیں کرتے، اٹارنی جنرل نے کہا تھا وزیراعظم کو اس معاملے پر بریف کروں گا، چیف ایگزیکٹو کو ان معاملات کا پتہ ہے مگر پھر بھی لوگ جبری طور پر لاپتہ ہو جاتے ہیں۔

    عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ جب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں یہ کیس شروع ہوا ہے تفتیش رک گئی ہے، جس پر انہوں نے جواب دیا کہ جیو فینسنگ رپورٹ تیار کر لی گئی ہے۔

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے پوچھا کہ کب سے لاپتہ ہیں یہ دونوں، جس پر پولیس افسر نے بتایا کہ 6 جون سے غائب ہیں۔

    عدالت نے ریمارکس دیئے کہ 3 ماہ ہوگئے ہیں 2 بندے جبری طور پر لاپتہ ہیں، ان کے خاندان پر جو گزر رہا ہوگا ہمیں اندازہ ہے، لوگوں کو اٹھایا جا رہا ہے مگر چیف ایگزیکٹو کچھ نہیں کر رہے۔

    دوران سماعت وکیل بابر اعوان نے وزیراعظم کو عدالت بلانے کی استدعا کر دی، جس پر عدالت نے کہا کہ آئین میں ریاست کے سربراہ وزیراعظم جبکہ قانون کا سربراہ اٹارنی جنرل ہوتے ہیں، ہم نے ایک پراسس کے مطابق اٹارنی جنرل کو عدالت بلایا تھا۔

    جسٹس گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ اگر حکومت کو ڈیو پراسس فالو نہیں کرنا تو پھر کیا کہہ سکتے ہیں، ان چیزوں سے ملک کی کتنی بدنامی ہو رہی ہے، ان کو اندازہ نہیں، کیس کو منگل تک کیلئے رکھ رہا ہوں مگر منگل کو میں نہیں ہوں گا، میرے نہ ہونے کی وجہ سے اس کیس میں تاخیر نہیں چاہتے۔

    عدالت نے سربراہ جے آئی ٹی ایس پی لاہور کو رپورٹس جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کو یہ دیکھنا ہوگا کہ غیر پولیس نے پولیس کی وردی پہنی کیسے؟

    اس موقع پر بابر اعوان کی جانب سے عدالت سے سخت آرڈر پاس کرنے کی استدعا کی گئی، جس پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیئے کہ میں اس کیس پر آرڈر پاس کروں گا۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleخیبرپختونخوا سمیت بیشترعلاقوں میں 26 سے 29 اگست تک شدید بارشوں کا امکان
    Next Article راولپنڈی ٹیسٹ ، تیسرے دن کا کھیل ختم، بنگلہ دیش نے5 وکٹ پر 316 رنز بنالئے
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    ویزا پالیسیوں میں سختی، جعلی ڈگریوں کے سکینڈلز، بیرون ملک جانے والے بھارتی طلبہ کی تعداد میں بڑی کمی

    فروری 13, 2026

    افغان سرزمین سے دہشتگردی ناقابل قبول ہے، طالبان اپنی ذمہ داری پوری کریں، پاکستان

    فروری 13, 2026

    اس سال بھی عازمین حج کو بہترین سہولیات کی فراہمی کے لیے وفاقی حکومت اقدام کررہی ہے، وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف

    فروری 13, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    ویزا پالیسیوں میں سختی، جعلی ڈگریوں کے سکینڈلز، بیرون ملک جانے والے بھارتی طلبہ کی تعداد میں بڑی کمی

    فروری 13, 2026

    افغان سرزمین سے دہشتگردی ناقابل قبول ہے، طالبان اپنی ذمہ داری پوری کریں، پاکستان

    فروری 13, 2026

    اس سال بھی عازمین حج کو بہترین سہولیات کی فراہمی کے لیے وفاقی حکومت اقدام کررہی ہے، وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف

    فروری 13, 2026

    خودمختار ساوی کی دکھی انسانیت کے لیے خدمات قابلِ تحسین اور مثالی ہیں، مولانا ارشد قریشی

    فروری 13, 2026

    پی ٹی آئی کا پشاور موٹروے ٹول پلازہ پر احتجاج، ہر قسم کی ٹریفک معطل

    فروری 13, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.