پاکستان آج ایک بہت سنگین دور سے گزر رہا ہے، ایک طرف ہمارے بہادر جوان دن رات دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں تاکہ عوام کا امن اور سکون بحال ہو، تو دوسری طرف تحریک انصاف کی جانب سے ایک ایسی بحث چل پڑی ہے جس میں عمران خان کی رہائی کو ملک کے بڑے مسائل سے جوڑا جا رہا ہے، سوال یہ ہے کہ کیا ایک شخص کی رہائی ملک میں جاری دہشتگردی کے خلاف جنگ جیتنےسے زیادہ اہم ہو سکتی ہے؟
اس سوال کی اہمیت اپنی جگہ مگر حقیقت میں ہمیں اسے صاف اور سادہ انداز میں سمجھنے کی ضرورت ہے ۔
اس میں شک نہیں کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ قومی سلامتی کا سب سے بڑا مسئلہ ہے ، قومی سلامتی کا تعلق براہ راست ملک کے ہر شخص سے ہے ، جب تک اس کو اہم ترین مسئلہ نہیں سمجھا جائے گا تب تک ملک کی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا ۔
پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشتگردی کے خلاف سخت جنگ لڑ رہا ہے۔،بلوچستان اور خیبر پختونخوا سمیت مختلف علاقوں میں دہشتگرد گروہ مسلسل حملے کر رہے ہیں، ان حملوں میں نہ صرف سیکیورٹی اہلکار بلکہ عام شہری بھی شہید ہو رہے ہیں۔ گزشتہ 4 روز کے دوران بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ایک ہی وقت میں بڑے پیمانے پر دہشتگرد حملے ہوئے جن میں بچوں، خواتین اور شہریوں سمیت 49 افراد شہید ہو گئے جن میں 16 سیکیورٹی اہلکار اور 33 عام شہری شامل ہیں اور سیکیورٹی فورسز نے 177 دہشتگردوں کو ہلاک کیا جو ان حملوں میں ملوث تھے ۔
یہ حملے صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک گہری اور پیچیدہ جنگ کا حصہ ہیں۔ دہشتگرد ایک منظم انداز میں ریاست اور عوام کو نشانہ بنا رہے ہیں اس لیے فوج اور سیکیورٹی ادارے نہ صرف جوابی کارروائیاں کر رہے ہیں بلکہ بڑے پیمانے پر کلئیرنس آپریشنز اور انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں بھی کی جا رہی ہیں تاکہ دشمن کے نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑا جا سکے ۔
یہ وہ جنگ ہے جس کا تعلق ہر گھر، ہر سکول، ہر خاندان کی سلامتی سے ہے۔ خدانخواستہ دہشتگردی ختم نہ ہوئی تو ہر پاکستانی کی زندگی خطرے میں رہے گی۔ تعلیم، معیشت، روزگار سب کچھ دہشتگردانہ خوف کے سائے میں دب جائے گا۔ اسی لیے یہ جنگ ہر پاکستانی کے لیے اولین ترجیح بننی چاہیے ۔
دہشتگردی کے خلاف جنگ صرف سیکیورٹی فورسز کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ پوری قوم کا مسئلہ ہے۔ جب کسی علاقے میں دہشتگردی ہوتی ہے تو لوگ بے گھر ہوتے ہیں، کاروبار تباہ ہوتا ہے، بچے سکول نہیں جا سکتے اور معاشی ترقی رک جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امن و استحکام قائم کرنا ہر شہری کی خواہش ہونی چاہیے ۔
دہشتگردی صرف بلوچستان میں نہیں ،خیبر پختونخوا میں بھی دہشتگردی کی لہر میں اضافہ ہو رہا ہے، جس میں ہزاروں حملے ہوئے اور سیکورٹی فورسز نے ہزاروں دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا۔ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ دشمن نے ہماری ریاست کو کمزور کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے، مگر سیکیورٹی اداروں نے سخت محنت سے ان خطرات کا مقابلہ کیا ہے اور کر رہے ہیں ۔
یہ جنگ جیتنا آسان نہیں ہے۔ یہ ایک طویل اور مشکل مرحلہ ہے جس میں ہر شہری، ہر ادارہ اور ہر لیڈر کا مثبت کردار ضروری ہے ۔
بدقسمتی مگر یہ ہے کہ آج ملک بھر کی تمام سیاسی جماعتیں سیکیورٹی اداروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں خود تحریک انصاف بھی اس بات کی حمایتی ہے کہ ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ ضروری ہے ، تحریک انصاف یہ تو تسلیم کرتی ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ جیتنا ملک و قوم کیلئے ضروری ہے ، لیکن جب دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کی بات آتی ہے تو پی ٹی آئی حسب سابق یوٹرن لیتی ہے اور پھر آپریشن کی مخالفت کی جاتی ہے ، سوال یہ ہے کہ دہشتگردی کا خاتمہ پھر کیسے ممکن ہوگا؟
پی ٹی آئی جہاں ایک طرف خیبر پختونخوا میں آپریشن کی مخالفت کرتی ہے وہاں ان کو محسوس ہو رہا ہے کہ ملک و قوم کو دہشتگردی کی لعنت سے بچانے کیلئے عمران خان کی رہائی ضروری ہے ، پی ٹی آئی کو سوچنا چاہیے کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی ایک سیاسی اور قانونی مسئلہ ہے ،یہ معاملہ اہم ضرور ہوگا لیکن صرف پی ٹی آئی کیلئے ۔ مل بھر کے تمام لوگ پی ٹی آئی کیساتھ نہیں ہیں ۔ لیکن پی ٹی آئی کو یہ غلط فہمی ہے اور اس غلط فہمی سے پی ٹی آئی کو نکلنا ہوگا ۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ معاملہ سیاسی اور قانونی دائرے میں آتا ہے یعنی جمہوری عمل، عدالتی نظام اور سیاسی پارٹیوں کی بحث۔ اس کا دہشتگردی کی جنگ سے براہِ راست تعلق نہیں ہے ۔
اگر ہم سینہ سپر ہو کر سوچیں تو جواب بہت سادہ ہے،امن اور سلامتی ہر شہری کا بنیادی حق ہے ۔
جب تک دہشتگردی نہیں رکے گی، لوگ آزادانہ زندگی نہیں گزار سکتے، بچے سکول نہیں جائیں گے، کاروبار نہیں ہوگا اور ملک ترقی نہیں کر سکے گا۔
ایک سیاسی رہائی، چاہے وہ جتنا بھی دل کو عزیز ہو، اس صورتِ حال میں ملک کی بقاء اور عوام کی حفاظت سے زیادہ اہم نہیں ہو سکتی۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ جیتنا ہر پاکستانی کی امنگ اور قومی مفاد کا معاملہ ہے ۔
یہ کہنا کہعمران خان کی رہائی دہشتگردی کے خلاف جنگ جیتنے سے زیادہ اہم ہےحقیقت پسندانہ اور منطقی نہیں ہے ۔ یہ دونوں موضوعات مختلف دائرے میں آتے ہیں، ایک قوم کی حفاظت سے منسلک ہے اور دوسرا سیاسی اور قانونی استدلال سے متعلق ہے۔دہشتگردی کے خلاف جنگ صرف فوج کی جنگ نہیں ہے یہ قوم کی جنگ ہے، جبکہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی پوری قوم کا نہیں صرف پی ٹی آئی کا معاملہ ہے ۔سیاسی اختلافات ہونا فطری ہے، مگر اگر ملک کی سالمیت خطرے میں ہو تو سب کو اپنے اختلافات ایک طرف رکھ کر امن اور سلامتی کو ترجیح دینی چاہیے ۔
ایک مضبوط، پرامن اور مستحکم پاکستان ہر پاکستانی کا حق ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہر پاکستانی پہلے اپنی ملکی و قومی ترجیحات کو مقدم رکھے ، عمران خان سمیت کوئی بھی ایک شخص ملک کی سلامتی ،ترقی اور خوشحالی سے زیادہ اہم ہے اور نہ ہو سکتا ہے ۔

