حال ہی میں عالمی سطح پر منشیات کی اسمگلنگ میں بھارت کا کردار بڑھتا جا رہا ہے، جو لاکھوں زندگیاں تباہ کرنے کی راہ ہموار کر رہا ہے۔ دنیا بھر میں غیر قانونی منشیات کی فراہمی میں بھارت کا کردار ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ اقوام متحدہ کی اینٹی ڈرگ ایجنسی (UNODC) کے مطابق، بھارت غیر قانونی منشیات اور کیمیکلز کی اسمگلنگ کا بڑا مرکز بن چکا ہے، جہاں سے میانمار سے لے کر وسطی امریکہ اور افریقہ تک منشیات کی ترسیل کی جاتی ہے۔
نائیجیریا میں منشیات کا بحران
ایک رپورٹ کے مطابق بھارت سے غیر قانونی افیون کی ترسیل نے نائیجیریا جیسے ملک میں صحت عامہ کا بحران پیدا کر دیا ہے۔ نائیجیریا کی منشیات کنٹرول ایجنسی (NDLEA) نے 2023 میں بھارت سے سپلائی ہونے والی 100 ملین ڈالرز سے زائد مالیت کی افیون ضبط کی ہے۔ اس کے علاوہ، بھارت سے آنے والی "ٹراماڈول” جیسی نشہ آور ادویات نے نائیجیریا میں ایک نیا بحران جنم دیا ہے، جہاں 40 لاکھ سے زائد افراد ان منشیات کا استعمال کر رہے ہیں۔
گھانا اور نائیجیریا میں منشیات کی اسمگلنگ
بھارت سے افیون کی اسمگلنگ کا راستہ گھانا کے شہر تمالی سے ہوتا ہوا نائیجیریا تک پہنچتا ہے، جس کے باعث وہاں کی حکومت کو منشیات کی بڑھتی ہوئی اسمگلنگ روکنے میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ نائیجیریا کے صحافی یحییٰ مسعود کے مطابق، یہ منشیات خاندانوں اور ملک کے باصلاحیت افراد کو تباہ کر رہی ہیں، اور ان کے معاشرتی اثرات بھی تباہ کن ہیں۔
"ٹفرادول” اور دیگر خطرناک منشیات
"ٹفرادول”، "ٹراماڈول”، اور "ٹائما کنگ” جیسی افیونی ادویات بھارت میں تیار کی جاتی ہیں۔ بھارتی دواساز کمپنی ایویو (Aveo) ان منشیات کی تیاری میں ملوث ہے، اور اس کی مصنوعات دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر پہنچ رہی ہیں۔ کمپنی کے ڈائریکٹر ونود شرما نے بھارتی حکام کی منشیات اسمگلنگ میں ملوث ہونے کی تصدیق کی ہے۔
بھارتی حکام کی خاموشی
نائجیرین صحافی کے مطابق بھارتی حکام افریقی ممالک کو فروخت ہونے والی غیر قانونی ادویات پر کم توجہ دیتے ہیں کیونکہ ان میں خود بھارت کے کچھ حکام بھی ملوث ہیں۔ بھارت میں تیار ہونے والی یہ منشیات دنیا بھر میں کروڑوں کا منافع کما کر ہزاروں زندگیاں برباد کر رہی ہیں، اور عالمی سطح پر اس بحران کا حل تلاش کرنا انتہائی ضروری ہے۔