8 فروری کو پی ٹی آئی شٹر ڈاؤن ہڑتال، مشعل بردار ریلیاں اور سپریم کورٹ کے سامنے یادداشت پیش کرنے جا رہی ہے ۔
عمران خان کی صحت پر پارٹی کے اندر تشویش حقیقی اور سنجیدہ ہے، جو دباؤ کا ایک بڑا پوائنٹ بن چکا ہے ۔
وادی تیراہ سے جبری انخلا کے خلاف مؤقف پی ٹی آئی کو ایک عوامی و اخلاقی بیانیہ دیتا ہے ۔
دوسری طرف وزیر اعلیٰ، وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان رابطے (وزیراعظم ملاقات، کور کمانڈر کے ساتھ موجودگی، اپیکس کمیٹی) واضح اشارہ ہیں کہ دروازے بند نہیں ۔
پی ٹی آئی کے اندر مسئلہ کہاں ہے؟
قیادت منتشر ہے!
ایک طرف زمینی حقائق سمجھنے والی اندرونِ ملک قیادت
دوسری طرف بیرونِ ملک بیٹھی سخت گیر قیادت اور یوٹیوبرز، جو صرف مزاحمت پر زور دے رہے ہیں ۔
26 نومبر 2024 کے احتجاج اور بنی گالا منتقلی جیسی آفر کا انکار آج بھی ایک سٹریٹیجک غلطی کے طور پر یاد کیا جا رہا ہے ۔
محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس پر انحصار، پی ٹی آئی کی اپنی فیصلہ ساز کمزوری کو ظاہر کرتا ہے ۔
اصل سوال: 8 فروری کے بعد کیا؟
یہاں تین ممکنہ راستے بنتے ہیں:
کنٹرولڈ احتجاج + مذاکرات
کم شدت، علامتی احتجاج
بیک چینل مذاکرات آگے بڑھتے ہیں
عمران خان کی صحت اور رہائی کا کیس مضبوط ہو سکتا ہے ۔
جذباتی مزاحمت۔۔۔۔۔۔۔
اگر ہارڈ لائن غالب آئی
ریاستی ردعمل سخت ہوا
پی ٹی آئی ایک اور “فاول” کی متحمل نہیں ہو سکتی
خاموش ڈیل۔۔۔۔۔۔۔
احتجاج محض دباؤ کیلئے
اصل کھیل پردے کے پیچھے
سب سے حقیقت پسندانہ آپشن لگتا ہے
نچوڑ ۔۔۔۔۔۔۔
پی ٹی آئی آج بھی سب سے مقبول جماعت ہے، مگر:
اس کی بارگیننگ پاور کمزور ہے
جبکہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ بھی سیاسی استحکام اور عمران خان کی رہائی میں دلچسپی رکھتی ہیں
اگر “کچھ دو، کچھ لو” کا فارمولا اپنایا گیا تو 8 فروری احتجاج تصادم نہیں، ٹرننگ پوائنٹ بن سکتا ہے ۔

