Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, فروری 24, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • وزیراعظم کی قطرکے نائب وزیراعظم اور وزیردفاع سے ملاقات، ایران اور افغانستان کی صورتِ حال پرتبادلہ خیال
    • ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ سپر ایٹ مرحلہ، پاکستان اور انگلینڈ کا ٹاکرا آج ہوگا
    • وزیراعظم شہباز شریف سے قطر کے وزیر مملکت برائے بیرونی تجارت ڈاکٹر احمد بن محمد السید کی ملاقات
    • کوہاٹ شکردرہ روڈ پر پولیس موبائل پر حملہ، ڈی ایس پی اسد محمود سمیت 6 اہلکار شہید، 3 زخمی
    • سلیم بلوچ کی ہلاکت کے بعد لاپتہ افراد کے بیانیے پر نئے سوالات
    • خیبر پختونخوا کا رمضان ریلیف پیکج سیاسی تنازع کا شکار
    • پاکستان کی عالمی کرپٹو و مالیاتی فورم میں نمایاں شرکت
    • مسلم لیگ ن کی حکومت ترقیاتی منصوبوں پر بھرپور توجہ دے رہی ہے، سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » بھارت کا جنگی جنون ، پاکستان کے دفاعی بجٹ میں اضافہ ناگزیر
    بلاگ

    بھارت کا جنگی جنون ، پاکستان کے دفاعی بجٹ میں اضافہ ناگزیر

    جون 10, 2025Updated:جون 10, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    India's war madness and Pakistan's defense budget increase are inevitable
    India's defense budget has reached $77.4 billion
    Share
    Facebook Twitter Email

    جنوبی ایشیا جو ایک عرصے سے سیاسی اور جغرافیائی تناؤ کا شکار رہا ہے، اب ایک بار پھر بھارت کے مسلسل بڑھتے ہوئے جنگی عزائم کے باعث شدید خطرات کی زد میں ہے۔ نئی دہلی کی جانب سے عسکری طاقت کے جنون نے نہ صرف خطے کے امن کو داؤ پر لگا دیا ہے بلکہ پاکستان جیسے ہمسایہ ممالک کو بھی اپنے دفاعی ڈھانچے کو ازسرِ نو ترتیب دینے پر مجبور کر دیا ہے۔

    حالیہ دنوں میں پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے واضح کر دیا ہے کہ بھارتی قیادت کا سارا عسکری محور پاکستان کے گرد ہی گھومتا ہے۔ چاہے وہ لائن آف کنٹرول پر مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزیاں ہوں یا پاکستان میں دہشت گردی کو ہوا دینا، بھارت کی پالیسی ہمیشہ اشتعال انگیزی پر مبنی رہی ہے۔ "معرکہ حق آپریشن بنیان مرصوص” میں ناکامی کے بعد جب بھارت کو جنگ بندی کے لیے امریکا کا سہارا لینا پڑا، تو یہ ایک واضح ثبوت تھا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف عالمی امن میں اپنا مثبت کردار ادا کر رہا ہے جبکہ بھارت جارحیت کی راہ پر گامزن ہے۔

    بھارت کا دفاعی بجٹ 2025-26 کے لیے 6.81 لاکھ کروڑ روپے یعنی تقریباً 77.4 ارب ڈالر تک جا پہنچا ہے، جو پچھلے برس سے 9.5 فیصد زیادہ ہے۔ انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد کے مطابق گزشتہ 10 برسوں میں بھارت کے دفاعی اخراجات میں 170 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس بڑے پیمانے پر ہونے والا اضافہ نہ صرف جدید ٹیکنالوجی کے حصول بلکہ پاکستان کے خلاف جنگی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

    بھارت کی عسکری جارحیت میں اسرائیلی ساختہ ہیروپ، ہارپی اور سوارم ڈرونز جیسے جدید ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں، جو خودکار اور خودکش خصوصیات کے حامل ہیں۔ ساتھ ہی بھارتی فضائیہ نے پاکستان کی سرحد کے قریب وسیع پیمانے پر مشقیں کی ہیں جنہیں دوسری جنگ عظیم کے بعد کی سب سے بڑی فضائی سرگرمیاں کہا جا رہا ہے، جن میں رافیل، میراج 2000 جیسے جدید لڑاکا طیارے شامل تھے۔

    اب ایک اور اہم اقدام کی خبر گردش میں ہے کہ بھارتی وزارت دفاع 10,000 کروڑ روپے مالیت کے I-STAR اسٹرائیک اور نگرانی طیارہ منصوبے کی منظوری دینے والی ہے، جس کا مقصد بھارت کی فضائی برتری کو مزید مستحکم کرنا ہے۔

    اس کے برعکس پاکستان کا دفاعی بجٹ عشروں سے دباؤ میں ہے، تاہم اس کے باوجود پاکستانی افواج نے دہشت گردی کے خلاف قابلِ ذکر کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ پاکستان کا دفاعی بجٹ زیادہ تر تنخواہوں، پنشن، شہداء فنڈز اور سوشل سیکیورٹی پر خرچ ہوتا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے حصول اور دفاعی خود کفالت کے لیے پاکستان کو نئے اقدامات کی ضرورت ہے، خاص طور پر سائبر وارفیئر، ڈرون ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور انفارمیشن وارفیئر جیسے شعبوں میں۔

    چین اور دیگر دوست ممالک کی جانب سے پاکستان کو جدید دفاعی معاہدوں کی پیشکش بھی کی گئی ہے، جن میں ففتھ جنریشن J-35 سٹیلتھ طیارے، KJ-500 ایواکس اور HQ-19 لانگ رینج میزائل دفاعی نظام شامل ہیں۔ ان ٹیکنالوجیز کا حصول یقیناً ایک بھاری بجٹ کا متقاضی ہے، لیکن یہ سرمایہ کاری پاکستان کی دفاعی خودمختاری اور سلامتی کے لیے ضروری ہے۔

    اگرچہ پاکستان کا دفاعی بجٹ بھارت کے مقابلے میں اب بھی بہت کم ہے، تاہم بدلتے ہوئے علاقائی حالات، بھارت کے بڑھتے ہوئے جنگی جنون، اور جدید جنگی تقاضوں کے پیش نظر پاکستان کے لیے یہ وقت ہے کہ وہ دفاعی بجٹ میں دانشمندانہ اور بروقت اضافہ کرے تاکہ ملکی دفاع ناقابلِ تسخیر بنایا جا سکے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleآئندہ مالی سال کیلئے 17 ہزار 500 ارب روپے سے زائد حجم کا وفاقی بجٹ آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا
    Next Article وفاقی بجٹ پیش، تنخواہوں میں10 اور پنشن میں7 فیصد اضافہ
    Tahseen Ullah Tasir
    • Facebook

    Related Posts

    امن کی کنجی کابل کے ہاتھ میں !

    فروری 22, 2026

    غربت کی نئی لہر اور معیشت کا کڑا امتحان

    فروری 21, 2026

    رہائی فورس کا اعلان،سیاسی وفاداری یا تصادم کا حتمی فیصلہ ؟

    فروری 20, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    وزیراعظم کی قطرکے نائب وزیراعظم اور وزیردفاع سے ملاقات، ایران اور افغانستان کی صورتِ حال پرتبادلہ خیال

    فروری 24, 2026

    ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ سپر ایٹ مرحلہ، پاکستان اور انگلینڈ کا ٹاکرا آج ہوگا

    فروری 24, 2026

    وزیراعظم شہباز شریف سے قطر کے وزیر مملکت برائے بیرونی تجارت ڈاکٹر احمد بن محمد السید کی ملاقات

    فروری 24, 2026

    کوہاٹ شکردرہ روڈ پر پولیس موبائل پر حملہ، ڈی ایس پی اسد محمود سمیت 6 اہلکار شہید، 3 زخمی

    فروری 24, 2026

    سلیم بلوچ کی ہلاکت کے بعد لاپتہ افراد کے بیانیے پر نئے سوالات

    فروری 24, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.