Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    پیر, ستمبر 7, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • پاسکو اور یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کی بندش کے عمل میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرصدارت اجلاس
    • شزہ فاطمہ خواجہ کی LEAP 2026 میں شرکت، ٹیک ڈیسٹنیشن پاکستان پویلین کا افتتاح
    • پاک چین میڈیا تعاون ایشیا بحرالکاہل میں مشترکہ خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے،ڈاکٹر شذرہ منصب علی
    • سٹاک ایکسچینج: عام شہریوں کی شرکت سے معاشی ترقی تیز ہو سکتی ہے، یوسف رضا گیلانی
    • ویمنز ایشیا کپ: آئی سی سی نے قومی ٹیم کی کپتان فاطمہ ثناء پرجرمانہ عائد کردیا
    • خیبر پختونخوا میں عدالتوں کے ایک دن کے بائیکاٹ سےعوام کے 12 کروڑ روپے ضائع ہوتے ہیں، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ
    • بھارت کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے حصول کیلئے اپنے وعدے پورے کرے، پاکستان
    • مادرِ وطن کا دفاع مقدس امانت ہے، ثابت قدمی سے نبھاتے رہیں گے: ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » بھارت کا جنگی جنون ، پاکستان کے دفاعی بجٹ میں اضافہ ناگزیر
    بلاگ جون 10, 2025

    بھارت کا جنگی جنون ، پاکستان کے دفاعی بجٹ میں اضافہ ناگزیر

    Facebook Twitter Email
    India's war madness and Pakistan's defense budget increase are inevitable
    India's defense budget has reached $77.4 billion
    Share
    Facebook Twitter Email

    جنوبی ایشیا جو ایک عرصے سے سیاسی اور جغرافیائی تناؤ کا شکار رہا ہے، اب ایک بار پھر بھارت کے مسلسل بڑھتے ہوئے جنگی عزائم کے باعث شدید خطرات کی زد میں ہے۔ نئی دہلی کی جانب سے عسکری طاقت کے جنون نے نہ صرف خطے کے امن کو داؤ پر لگا دیا ہے بلکہ پاکستان جیسے ہمسایہ ممالک کو بھی اپنے دفاعی ڈھانچے کو ازسرِ نو ترتیب دینے پر مجبور کر دیا ہے۔

    حالیہ دنوں میں پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے واضح کر دیا ہے کہ بھارتی قیادت کا سارا عسکری محور پاکستان کے گرد ہی گھومتا ہے۔ چاہے وہ لائن آف کنٹرول پر مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزیاں ہوں یا پاکستان میں دہشت گردی کو ہوا دینا، بھارت کی پالیسی ہمیشہ اشتعال انگیزی پر مبنی رہی ہے۔ "معرکہ حق آپریشن بنیان مرصوص” میں ناکامی کے بعد جب بھارت کو جنگ بندی کے لیے امریکا کا سہارا لینا پڑا، تو یہ ایک واضح ثبوت تھا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف عالمی امن میں اپنا مثبت کردار ادا کر رہا ہے جبکہ بھارت جارحیت کی راہ پر گامزن ہے۔

    بھارت کا دفاعی بجٹ 2025-26 کے لیے 6.81 لاکھ کروڑ روپے یعنی تقریباً 77.4 ارب ڈالر تک جا پہنچا ہے، جو پچھلے برس سے 9.5 فیصد زیادہ ہے۔ انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد کے مطابق گزشتہ 10 برسوں میں بھارت کے دفاعی اخراجات میں 170 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس بڑے پیمانے پر ہونے والا اضافہ نہ صرف جدید ٹیکنالوجی کے حصول بلکہ پاکستان کے خلاف جنگی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

    بھارت کی عسکری جارحیت میں اسرائیلی ساختہ ہیروپ، ہارپی اور سوارم ڈرونز جیسے جدید ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں، جو خودکار اور خودکش خصوصیات کے حامل ہیں۔ ساتھ ہی بھارتی فضائیہ نے پاکستان کی سرحد کے قریب وسیع پیمانے پر مشقیں کی ہیں جنہیں دوسری جنگ عظیم کے بعد کی سب سے بڑی فضائی سرگرمیاں کہا جا رہا ہے، جن میں رافیل، میراج 2000 جیسے جدید لڑاکا طیارے شامل تھے۔

    اب ایک اور اہم اقدام کی خبر گردش میں ہے کہ بھارتی وزارت دفاع 10,000 کروڑ روپے مالیت کے I-STAR اسٹرائیک اور نگرانی طیارہ منصوبے کی منظوری دینے والی ہے، جس کا مقصد بھارت کی فضائی برتری کو مزید مستحکم کرنا ہے۔

    اس کے برعکس پاکستان کا دفاعی بجٹ عشروں سے دباؤ میں ہے، تاہم اس کے باوجود پاکستانی افواج نے دہشت گردی کے خلاف قابلِ ذکر کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ پاکستان کا دفاعی بجٹ زیادہ تر تنخواہوں، پنشن، شہداء فنڈز اور سوشل سیکیورٹی پر خرچ ہوتا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے حصول اور دفاعی خود کفالت کے لیے پاکستان کو نئے اقدامات کی ضرورت ہے، خاص طور پر سائبر وارفیئر، ڈرون ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور انفارمیشن وارفیئر جیسے شعبوں میں۔

    چین اور دیگر دوست ممالک کی جانب سے پاکستان کو جدید دفاعی معاہدوں کی پیشکش بھی کی گئی ہے، جن میں ففتھ جنریشن J-35 سٹیلتھ طیارے، KJ-500 ایواکس اور HQ-19 لانگ رینج میزائل دفاعی نظام شامل ہیں۔ ان ٹیکنالوجیز کا حصول یقیناً ایک بھاری بجٹ کا متقاضی ہے، لیکن یہ سرمایہ کاری پاکستان کی دفاعی خودمختاری اور سلامتی کے لیے ضروری ہے۔

    اگرچہ پاکستان کا دفاعی بجٹ بھارت کے مقابلے میں اب بھی بہت کم ہے، تاہم بدلتے ہوئے علاقائی حالات، بھارت کے بڑھتے ہوئے جنگی جنون، اور جدید جنگی تقاضوں کے پیش نظر پاکستان کے لیے یہ وقت ہے کہ وہ دفاعی بجٹ میں دانشمندانہ اور بروقت اضافہ کرے تاکہ ملکی دفاع ناقابلِ تسخیر بنایا جا سکے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleآئندہ مالی سال کیلئے 17 ہزار 500 ارب روپے سے زائد حجم کا وفاقی بجٹ آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا
    Next Article وفاقی بجٹ پیش، تنخواہوں میں10 اور پنشن میں7 فیصد اضافہ
    Tahseen Ullah Tasir
    • Facebook

    Related Posts

    پمز سانحے کے اصل حقائق

    اگست 26, 2026

    یوم آزادی کی قدر

    اگست 13, 2026

    شاہینوں کا وہ سپہ سالار جس نے فضاؤں کا نصاب بدل دیا

    اگست 7, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    پاسکو اور یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کی بندش کے عمل میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرصدارت اجلاس

    ستمبر 7, 2026

    شزہ فاطمہ خواجہ کی LEAP 2026 میں شرکت، ٹیک ڈیسٹنیشن پاکستان پویلین کا افتتاح

    ستمبر 7, 2026

    پاک چین میڈیا تعاون ایشیا بحرالکاہل میں مشترکہ خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے،ڈاکٹر شذرہ منصب علی

    ستمبر 7, 2026

    سٹاک ایکسچینج: عام شہریوں کی شرکت سے معاشی ترقی تیز ہو سکتی ہے، یوسف رضا گیلانی

    ستمبر 7, 2026

    ویمنز ایشیا کپ: آئی سی سی نے قومی ٹیم کی کپتان فاطمہ ثناء پرجرمانہ عائد کردیا

    ستمبر 7, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.