اسلام آباد ان دنوں عالمی سفارتی سرگرمیوں کا مرکز بن چکا ہے، جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاریوں کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس اہم پیش رفت کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت اور راولپنڈی میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔
شہر کے مختلف علاقوں میں پاک فوج، رینجرز، ایف سی اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے۔ یہ اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ مذاکرات کو کس قدر اہمیت دی جا رہی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات میں شرکت کے لیے وفد بھیجنے کا اعلان کیا گیا ہے، تاہم ایران نے بعض وجوہات کی بنا پر تاحال شرکت سے انکار کیا ہے۔ اس کے باوجود سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ امکان ہے ایران بھی جلد مذاکرات کی میز پر آ جائے گا۔
ذرائع کے مطابق ان مذاکرات میں جنگ بندی کی مدت میں توسیع، آبنائے ہرمز کی صورتحال، ایران کے ایٹمی پروگرام سمیت دیگر اہم امور پر تفصیلی گفتگو متوقع ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر یہ مذاکرات کامیاب رہے تو ایک جامع معاہدے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، جو خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگا۔

