Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, ستمبر 8, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • بلدیاتی انتخابات،خیبرپختونخوا حکومت کو قانون سازی کیلئے 3 ہفتے کی مہلت
    • خیبر پختونخوا کے بزرگ شہریوں کیلئے بی آر ٹی بسوں میں مفت سفر کی منظوری
    • پی ٹی آئی لانگ مارچ کیس کیلئے لارجر بینچ تشکیل، اٹارنی جنرل، چاروں چیف سیکرٹریز، ایڈووکیٹ جنرلز، آئی جیز طلب
    • وزیر اعظم شہبازشریف کی سعودی عرب پر بزدلانہ حوثی حملوں کی شدید مذمت
    • پاسکو اور یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کی بندش کے عمل میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرصدارت اجلاس
    • شزہ فاطمہ خواجہ کی LEAP 2026 میں شرکت، ٹیک ڈیسٹنیشن پاکستان پویلین کا افتتاح
    • پاک چین میڈیا تعاون ایشیا بحرالکاہل میں مشترکہ خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے،ڈاکٹر شذرہ منصب علی
    • سٹاک ایکسچینج: عام شہریوں کی شرکت سے معاشی ترقی تیز ہو سکتی ہے، یوسف رضا گیلانی
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » کراچی: بارشوں میں ڈوبتا ہوا شہر یا دہائیوں کی بدانتظامی کا انجام
    بلاگ اگست 22, 2025

    کراچی: بارشوں میں ڈوبتا ہوا شہر یا دہائیوں کی بدانتظامی کا انجام

    Facebook Twitter Email
    Karachi: A city drowning in rains
    اگر اس شہر کو ڈوبنے سے بچانا ہے تو قدرتی بہاؤ کے راستوں کو بحال کرنا ہوگا .
    Share
    Facebook Twitter Email

    کراچی کا بارش میں ایک دن میں ڈوب جانا کوئی حادثہ نہیں بلکہ ایک طویل تاریخی عمل ہے جو کئی دہائیوں پر محیط ہے ۔ یہ شہر انچ بہ انچ اپنی قدرتی ساخت اور ماحولیاتی توازن کھو کر آج اس مقام پر پہنچا ہے کہ معمولی بارش بھی شہری زندگی کو مفلوج کر دیتی ہے ۔ اس زوال کی جڑیں انتظامی بے ضابطگی، غیر قانونی تعمیرات، آبادی کے بے ہنگم پھیلاؤ اور قدرتی نظام کی پامالی میں پیوست ہیں ۔

    شہر کے دو بڑے دریائی نظام، ملیر اور لیاری، کبھی بارش کے پانی کو سمندر تک پہنچانے کا قدرتی ذریعہ تھے ۔ لیکن وقت کے ساتھ ان کے کناروں پر آبادیاں بسائی گئیں، ندیوں کی زمین کاٹی گئی اور ان کا بہاؤ روکنے کے لیے غیر قانونی تعمیرات کی گئیں ۔ قدرتی نالوں کو بند کیا گیا، وہاں رہائشی اور کمرشل منصوبے کھڑے ہوئے اور یوں پانی کے فطری راستے مسدود ہوگئے ۔ 1947 کے بعد کراچی کی آبادی میں بے تحاشا اضافہ ہوا اور 1981 میں 5.4 ملین سے بڑھتے بڑھتے آج یہ 15 ملین سے بھی تجاوز کر چکی ہے ۔ اس آبادی کے دباؤ نے شہر کے بنیادی ڈھانچے کو شدید متاثر کیا ۔

    قدرتی بہاؤ کے راستوں پر غیر قانونی سوسائٹیاں بنیں، چائنا کٹنگ اور زمینوں پر قبضے معمول بن گئے ۔ سمندر کو جانے والے راستوں پر کمرشل ہاؤسنگ سوسائٹیاں اور پلازے بنائے گئے جبکہ قدرتی سبزہ زار اور درخت پلازوں اور کنکریٹ کی دیواروں میں بدل گئے ۔ یہ سب کچھ انتظامیہ کی ملی بھگت اور بدعنوانی کے نتیجے میں ہوا ۔

    نالوں اور ڈرینیج سسٹم کی حالت یہ رہی کہ برسوں تک صفائی نہ کی گئی ۔ برساتی نالوں میں کچرا، ملبہ اور تجاوزات نے پانی کے بہاؤ کو روکے رکھا ۔ یہی وجہ ہے کہ 2020 میں صرف ایک دن کی بارش کے نتیجے میں 223 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی اور شہر ڈوب گیا ۔ یہ 1931 کے بعد سب سے زیادہ بارش تھی جس نے درجنوں افراد کی جان لی اور لاکھوں کو متاثر کیا ۔ یہی منظرنامہ کل کی بارش میں بھی دہرایا گیا جب 145 ملی میٹر بارش نے شہر کو مفلوج کر دیا، سڑکیں اور بازار ڈوب گئے اور بدقسمتی سے آٹھ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔

    کراچی کی ساحلی پٹی پر ماحولیاتی تحفظ کے اہم حصے، مینگرووز، بھی بلڈرز اور قبضہ مافیا کے نشانے پر رہے ۔ یہ قدرتی جنگلات شہر کو سمندری طوفانوں اور بلند لہروں سے بچانے کی ڈھال تھے لیکن انہیں کاٹ کر کمرشل منصوبے کھڑے کیے گئے ۔ اس ماحولیاتی تباہی نے شہر کو مزید غیر محفوظ بنا دیا ۔

    گزشتہ چند دہائیوں میں شہر کا رقبہ تیزی سے پھیلا ۔ 1946 میں کراچی کا شہری رقبہ محض 8.35 کلومیٹر مربع تھا جو 2006 میں 785 کلومیٹر مربع اور 2010 میں تقریباً 820 کلومیٹر مربع تک پہنچ گیا ۔ 2015 میں شہر کا سیلابی رقبہ تقریباً 14.8 کلومیٹر مربع تھا جو 2020 میں بڑھ کر 64.3 کلومیٹر مربع ہو گیا ۔ یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ مسئلہ قدرتی نہیں بلکہ انسانی فیصلوں اور بدانتظامی کا نتیجہ ہے ۔

    کراچی کی ڈوبتی ہوئی صورتحال محض بارش یا موسم کا قصور نہیں بلکہ یہ دہائیوں پر پھیلے بدعنوان فیصلوں، تجاوزات، ماحولیاتی نقصان اور ناکارہ ڈرینیج نظام کی دین ہے ۔ اگر اس شہر کو ڈوبنے سے بچانا ہے تو قدرتی بہاؤ کے راستوں کو بحال کرنا ہوگا، غیر قانونی تعمیرات کا خاتمہ کرنا ہوگا اور شفاف شہری منصوبہ بندی کے ذریعے ماحول دوست اقدامات کرنے ہوں گے ۔ بصورت دیگر ہر بارش کراچی کے شہریوں کو اسی طرح یرغمال بناتی رہے گی ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleبھارت کیساتھ مسئلہ کشمیر سمیت دیگر امور پر جامع مذاکرات کیلئے تیار ہیں، اسحٰق ڈار
    Next Article باجوڑ میں پاک فوج کی بڑی کامیابی، علاقہ ترخو کو دہشتگردوں سے کلیئر کردیا گیا، متاثرین کو واپسی کی اجازت
    Khalid Khan
    • Website

    Related Posts

    پمز سانحے کے اصل حقائق

    اگست 26, 2026

    یوم آزادی کی قدر

    اگست 13, 2026

    شاہینوں کا وہ سپہ سالار جس نے فضاؤں کا نصاب بدل دیا

    اگست 7, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    بلدیاتی انتخابات،خیبرپختونخوا حکومت کو قانون سازی کیلئے 3 ہفتے کی مہلت

    ستمبر 8, 2026

    خیبر پختونخوا کے بزرگ شہریوں کیلئے بی آر ٹی بسوں میں مفت سفر کی منظوری

    ستمبر 8, 2026

    پی ٹی آئی لانگ مارچ کیس کیلئے لارجر بینچ تشکیل، اٹارنی جنرل، چاروں چیف سیکرٹریز، ایڈووکیٹ جنرلز، آئی جیز طلب

    ستمبر 8, 2026

    وزیر اعظم شہبازشریف کی سعودی عرب پر بزدلانہ حوثی حملوں کی شدید مذمت

    ستمبر 8, 2026

    پاسکو اور یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کی بندش کے عمل میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرصدارت اجلاس

    ستمبر 7, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.