سی ٹی ڈی اور وفاقی حساس ادارے نے بھارتی حمایت یافتہ کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی اور فتنتہ الخوارج کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی ہے۔
مشترکہ کارروائی میں 3 دہشت گردوں کو گرفتار کر کے ان کے قبضے سے تیارشدہ آئی ای ڈی، ہینڈ گرنیڈ اوراسلحہ برآمد کر لیا گیا۔
ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق پہلی کارروائی میں کالعدم تنظیم بھارتی حمایت یافتہ کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی بی ایل اے کے 2 دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا۔
گرفتار دہشت گردوں کی شناخت رحیم فضل ولد فضل محمود اوربالاچ بلوچ ولد رسول بخش کے ناموں سے کی گئی۔
ترجمان کے مطابق سی ٹی ڈی اور وفاقی حساس ادارے کو اطلاع موصول ہوئی تھی کہ کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے 2 تربیت یافتہ دہشت گرد اپنے تنظیمی کمانڈر کی ہدایت پرشہر میں موجود ہیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق دہشت گرد بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ، اغواء اور سکیورٹی فورسز پرحملوں میں ملوث رہے ہیں۔
دہشت گردوں نے افغانستان میں اسلحہ چلانے کی تربیت حاصل کی تھی اس اطلاع کی بنیاد پر مشترکہ ٹیم نے مین یونیورسٹی روڈ گلستان جوہر بلاک 7 کے قریب کاروائی کی جہاں دونوں کو گرفتارکرلیا گیا۔
ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق گرفتار دہشت گرد اپنی تنظیمی کمانڈر کے مسلسل رابطے میں تھے۔
گرفتار دہشت گرد تیارشدہ آئی ای ڈی (امپرووائز ڈایکسپلوزیو ڈیوائسز) اور ہینڈ گرنیڈ کے ذریعے شہر کے حساس مقامات اورقانون نافذ کرنے والے دفاترکو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
گرفتار دہشت گردوں سے تیار آئی ای ڈی اورہینڈ گرنیڈ برآمد کرلیا گیا۔
ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق دوسری مشترکہ کارروائی گلبائی چوک کے قریب کی گئی مشترکہ کارروائی فتنتہ الخوارج کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ایک دہشت گرد کو گرفتارکیا گیا۔
گرفتار دہشت گرد کی شناخت شاہ نور رحمان خان ولد اختر عالم کے نام سے کی گئی۔
گرفتار دہشت گرد کے قبضے سے ایک 30 بور پستول لوڈ میگزین 5گولیاں برآمد کرلی گئیں۔
ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق ابتدائی تفتیش کے دوران دہشت گرد نے انکشاف کیا کہ وہ اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ وزیرستان میں سکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث رہا ہے۔
دہشت گرد کے مطابق وہ اپنے تنظیمی کمانڈر کی ہدایت پر کراچی آیا تھا جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دفاترکی ریکی کرنے اور انہیں نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی جارہی تھی۔
گرفتار دہشت گرد کے دیگر ساتھیوں، سہولت کاروں اور مالی معاونین کی شناخت اور گرفتاری کے لہے اقدامات کئے جارہے ہیں۔

