پشاور (حسن علی شاہ) — وفاقی حکومت کی جانب سے ناگزیر وجوہات کے باعث خیبرپختونخوا کو گیس کی فراہمی غیر معینہ مدت کے لیے بند کیے جانے کے بعد صوبے بھر میں سی این جی اسٹیشنز مکمل طور پر ویران ہو گئے ہیں، جس کے باعث صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
دوسری جانب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اور ناقابل برداشت اضافہ عوام کی قوتِ خرید کو تقریباً 90 فیصد تک متاثر کر چکا ہے۔ عوامی حلقوں میں یہ بات بھی زیرِ گردش ہے کہ سی این جی کی بندش کے پیچھے مبینہ طور پر پٹرول اور ڈیزل کی زیادہ فروخت اور ذخیرہ اندوزی کے ذریعے بعض عناصر کو کروڑوں روپے کا فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔
یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع میں پیدا ہونے والی گیس اور پٹرول کی مقدار مقامی ضروریات سے تقریباً 70 فیصد زیادہ بتائی جاتی ہے، اس کے باوجود عوام کو ان بنیادی توانائی کے ذرائع سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ آئے روز سرکاری سطح پر گیس اور پٹرول کے نئے ذخائر دریافت ہونے کے اعلانات کیے جاتے ہیں، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں اور صارفین مسلسل مشکلات کا شکار ہیں۔
اخبار خیبر کے سروے کے مطابق صوبے بھر میں عوام کے اندر وفاقی اور صوبائی حکومت کے خلاف ردعمل میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

