پشاور (خصوصی رپورٹر) — خیبر نیوز کے مقبول ٹاک شو "کراس ٹاک” میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔ پروگرام کے میزبان محمد وسیم کے سوال کے جواب میں اے این پی کے صوبائی رہنما سردار کریم بابک نے کہا کہ موجودہ وزیر اعلیٰ نے اپنی تمام تر توجہ عمران خان کی رہائی پر مرکوز کر رکھی ہے، جبکہ دہشت گردی سمیت عوامی بنیادی مسائل کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس کو جدید اسلحہ، بکتر بند گاڑیوں، مناسب نفری، نئے تھانوں اور دیگر ضروری سہولیات کی شدید کمی کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے وہ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات کا مؤثر مقابلہ نہیں کر پا رہی۔
جماعت اسلامی کے رہنما عنایت الرحمان نے کہا کہ صرف امن جرگے دہشت گردی کا مستقل حل نہیں ہیں، جب تک تمام اسٹیک ہولڈرز اور سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا، دیرپا امن کا قیام ممکن نہیں۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کے رہنما نواز خان نے کہا کہ وفاق خیبرپختونخوا کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہا ہے۔ ان کے مطابق 800 ارب روپے کے بقایا جات میں جو ادائیگیاں کی گئیں وہ انتہائی ناکافی ہیں، جبکہ ضم شدہ اضلاع کے لیے اعلان کردہ بجٹ بھی عملی طور پر محدود رہا۔
انہوں نے کہا کہ تمام تر مشکلات کے باوجود وزیر اعلیٰ نے محدود وسائل میں مختلف شعبوں میں قابلِ ذکر اقدامات کیے ہیں۔

